یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں
''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ
ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر
اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کی پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یوم وفات
منیر نیازی
دل اس کے رو بہ رو ہے اور گم صم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے
میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہوں
وہ کیا شے ہے جو ہاری جا رہی ہے
وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے