A Father & his sons.
Long march Harnai To Quetta.
مزاحمت زندگی ہے۔
ایک والداپنے دو بیٹوں کے ساتھ سینکڑوں میل فاصلہ طۓ کرنے کے بعد بلوچستان کوٸٹہ پریس کلب کے سامنے پہنچ چکاہے۔
#Balochistan
Last night, Dr mahrang became severely unwell and experienced repeated vomiting. A doctor was finally called this morning, but the delay in medical attention is unacceptable. I fear that she is being deliberately kept in conditions that are worsening her health.
#ReleaseDrMahrang
تونسہ میں پنجاب پولیس کی ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر بلوچ ساتھیوں کی ناجائز گرفتاریوں کیخلاف نکالی جانیوالی پُر امن احتجاجی ریلی پر ریاستی کریک ڈاؤن اورخواتین سمیت نوجوانوں کی گرفتاریاں قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے
#ReleaseMahrangBaloch#EndEnforcedDisappearances#StopBalochGenocid
Referring to last Friday’s events, UN experts said they once again witnessed the use of excessive force as a first response by the authorities to peaceful protests.
https://t.co/X2lPmE1ojf
UN experts call on Pakistan to release detained Baloch activists, including Dr. Mahrang Baloch and Sammi Deen, and to end the crackdown on peaceful protesters. Thank you UN experts.
Detailed statement below.
https://t.co/i1sXn8qDX1
These 8 days seem like 8 years. Yes, we are gravely worried about his health, safety, and well-being. We hope and pray that may my dearest and kind brother get back home soon. And all other abductees, too
#ReleaseNasirQambrani#ReleaseQambraniBrothers@UNHumanRights@hrw
بلوچستان میں ریاست آگ لگا رہی ہے، ریاست کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔ ایک مسلح گروہ کی کاروائی کا انتقام عام بلوچ شہریوں اور پرامن بلوچ عوامی تحریک سے لینا کہاں کا انصاف ہے؟
URGENT CALL FOR ATTENTION
In severity of the situation in Quetta & whole Balochistan, international community must urgently intervene & take action against Pakistan’s atrocities on peaceful protesters & demand accountability.
@UN@amnesty@hrw@UN_HRC@EUPakistan@UNHumanRights
گزشتہ کئی گھنٹوں سے ریاستی سیکیورٹی فورسز مسلسل براہ راست گولیاں برسا رہی ہیں۔ پورا علاقہ آنسو گیس کے دھویں میں ڈوبا ہوا ہے، جبکہ انٹرنیٹ اور فون کے سگنل بھی مکمل طور پر معطل ہیں۔ اب ریاستی پولیس اور خفیہ ادارے کے اہلکار دستی بم پھینک رہے ہیں۔
متعدد مظاہرین زخمی ہو چکے ہیں، مگر انہیں اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ایمبولینسوں کو بھی روکا جا رہا ہے۔ سڑکیں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں اور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سادہ لباس میں ملبوس سیکیورٹی اہلکار شہر کی املاک کو نذرِ آتش کر رہے ہیں۔
ہم پُرامن تھے اور پُرامن رہیں گے۔ ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاستی ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کریں۔
#StopBalochGenocide
For the past several hours, state security forces have been continuously firing live rounds. The entire area is engulfed in tear gas, with no internet or phone signals. Now, they are throwing grenades. Several protesters have been injured, yet they are being denied access to hospitals, and ambulances are not allowed through. Roads are completely blocked, and search operations are underway. Security personnel in civilian clothing are setting fire to city properties.
We are peaceful and will remain peaceful. We urge everyone to speak up against this brutality by the state.
#StopBalochGenocide
ایک خاندان جو پچھلے گیارہ (11) سالوں سے پہلے سے جبری گمشدہ سیاسی اور اسٹوڈنٹ لیڈر چیئرمین زاھد بلوچ کیلئے سراپہ احتجاج تھی اور جو انکے ازیت اور کرب سے گزر رہی تھی انکے واحد کفیل شاہجہان کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے خضدار میں ٹارگٹ کلنگ کر کے شہید کر دیا۔
ریاستی طریقہ واردات بلوچ نسل کشی کی حالیہ لہر کی توسیع ہے۔ ریاست بیانیے کی جنگ کو اپنے ہی غلط پالیسیوں، اوچھے ہتھکنڈوں اور غیر انسانی رویوں کی وجہ سے ہار چکی ہے۔ جب منطق و دلائل ختم ہوتی ہیں تو ہاتہ پائی پہ اتر آنا دو گروہوں میں واقع ہونا منطقی انجام ہوتا ہے۔ ریاست اپنے ہی لوگوں کو دلائل و منطق، زیرک سیاسی رویوں اور پالیسیوں کی بجائے مار دھاڑ، مارو اور پھینکو اور اٹھاؤ اور مسخ کرو جیسے گھناؤنے حرکت میں ملوث ہے۔
حالیہ بلوچ نسل کشی کی لہر میں ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگی اور طلبہ پر کریک ڈاؤن کرنا ریاستی سالمیت کیلئے ہی مشکلات کا بائث بنیں گی۔ قومی سلامتی کے نام پر اپنے ہی لوگوں کو مار کر انکو انکے متعین کردہ حقوق سے محروم کرنے سے ملک میں امن نہیں بلکہ اسکے سنگین نتائج ہونگے۔