جو کام رات تین بجے کے بعد شروع ہوا، وہ شام چھ بجے بھی ہو سکتا تھا۔ عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ میاں صاحب خود جیتنے کے اہل نہیں۔ اب انہیں حوصلہ دیا جا رہا ہے کہ فکر نہ کریں، ہم دیکھ رہے ہیں۔ اصولی طور پہ میاں صاحب کی سرکار، عوام کی نمائندہ نہیں ہو گی۔ اس طرح کے مینڈیٹ کے بعد وہ وزیرِ اعظم بن بھی گئے تو کچھ نہیں کر سکیں گے، جو صاحب لوگ کہیں گے، وہی ہو گا۔ یہ کمزور حکومت جس دن خلافِ توقع کوئی کام کرے گی، اس پر تحریکِ لبیک چھوڑ دی جائے گی۔ یہ حکومت، اگر پانچ سال چل بھی گئی تو نون لیگ کی سیاست تقریبا ختم ہوجائے گی۔
میاں صاحب اگر حکومت لیتے ہیں تو اس کی قیمت وہ اپنی سیاست، دے کر چکائیں گے۔
#GeneralElectionsNow #ElectionResults