حضرت شورش کاشمیری کے باغیچہ صحافت کے تربیت یافتہ، جناب رفیق الزمان غوری صاحب روزنامہ نوائے وقت کے "ایوان وقت فورم" کے انچارج تھے۔ انہوں نے جناب ولی خان کو اپنے فورم میں دعوت خطاب دی جسے جناب ولی خان مرحوم نے مسترد کردیا اور جوابا کہا کہ آپ پشاور آ جائیں۔ جناب رفیق غوری پشاور پہنچے اور ولی خان صاحب کا انٹرویو شروع ہوا��
ضیاالحق کا دور تھا اور افغان جنگ کی ابتدا بھی، ابھی امریکہ اس میں شریک نہیں ہوا تھا۔ جناب ولی خان صاحب "پنجابی بے غیرت ہوتا ہے" سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ جب تیسری مرتبہ بھی بقول رفیق غوری مرحوم کے ان "گھٹیا معزز" نے یہی بکواس کی تو انہوں نے کاغذ قلم ایک طرف رکھ دیا، اور گویا ہوئے، "حملہ آور شمال سے آئے یا مشرق سے، بیٹیاں اور بیٹے لے کے راستے میں صدیوں سے آپ کھڑے ہو اور اب بھی پنجابی بے غیرت؟؟؟
انٹرویو اُلٹ گیا، ولی خان اپنے ہی گھر میں انٹرویو کا بائیکاٹ کر کے اُٹھ گئے۔ تا ہم بعد ازاں اسفند یار کے سمجھانے بجھانے پراس شرط انٹرویو مکمل ہوا کہ اس سے پہلے کی گفتگو کو چھاپہ نہیں جائے گا۔
گویا کہ ہر دور میں کسی نہ کسی مرد قلندر نے ان کو جواب دیا ہے لیکن ہم ��یسی بدمزگیاں بھول کے آگے بڑھنے والے بڑے دل کے لوگ ہیں۔ اور جن کے پاس لوٹ مار کے چند مالی وسائل کے کچھ نہیں ہوتا وہ اپنی جعلی پانچ ہزار سالہ عظمت رفتہ کے ڈھول پیٹنے کے لئے تاریخ کے چوراہے میں بیٹھے اپنے خسارے کا حساب لگا رہے ہوتے ہیں گذشتہ حملہ آور بیٹی کا کم عوضانہ کیوں دے کر گیا تھا۔
نالے دے گیا چوانی کھوٹی
تے نالے بابا لسی پی گیا
ڈپٹی تاریخی
استغفراللہ
اسلام آباد کی سب سے بڑی یونیورسٹی قائداعظم یونیورسٹی میں پنجاب اور لاہور کو اتنی غلیظ گالی دینے والا مجرم نہیں ان لسانی کونسلوں کو بے لگام چھوڑنے والے مجرم ہیں۔
الحمدللہ ہم نے اردو سپیکنگ ہو کر مہاجروں کی لسانی سیاست پر تھوکا تھا ہم اس نفرت پر بھی تھوکتے ہیں
پنجاب سندھ بلوچ پختون سب زندہ باد
لکی مروت سے تعلق رکھنے والا یہ بابا جو کہ ایک پشتون ہے اس نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں لسانیت کو ہوا دی، اس بابے نے پنجاب اور لاہور کو گالی دی، ہیرا منڈی کا بھی ذکر کیا...!
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان یک بابوں کو پنجابیوں کے لیے ’ہیرا منڈی‘ کو بطور گالی استعمال کرنے کا اتنا شوق کیوں ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہیرا سنگھ نے اسے افغانستان اور وسطی ایشیا سے خرید کر اور پکڑ کر لائی گئی عورتوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ یار، بس گوگل ہی کر لو 😭😭😭😭
محسن رضائی کا تازہ انٹرویو مغرب کے لیے ایک بم ہے — امریکہ اور اسرائیل پر براہ راست وار۔
کھیل بدل چکا ہے۔ ایران، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے نہ صرف اسرائیل کو اصل دشمن کے طور پر پہچان لیا ہے — بلکہ کھلے عام اس کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
ٹریگر پوائنٹ کیا تھا؟ عاصم منیر کا دورہِ تہران۔
سفارت کاری اور ٹائمنگ کا ایک شاہکار، جسے پاکستانی میڈیا سمجھ ہی نہ سکا۔ یہ ایک ہی دورہ ایک ایسی زنجیر بنا جس نے ایران ہی نہیں، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کو بھی اسرائیل کے خلاف ایک صف میں لا کھڑا کیا۔
یہ حالات کو اپنے حق میں ڈھالنے کی بہترین حکمت عملی ہے — اور اس وار کی ٹائمنگ کیا کمال ہے۔
اور ستم ظریفی دیکھیں: امریکہ کا نائب صدر ایران میں ایک وردی والے شخص — اسی محسن رضائی — کو خط لکھ رہا ہے۔ ایک سپر پاور کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی۔
ایک ہی چال نے سپر پاور کے اصل قد کا پول کھول دیا۔
آگے دلچسپ اور خطرناک وقت ہے۔ ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔
لیکن یاد رکھیں — اس مرض کی تشخیص سب سے پہلے شاہ فیصل نے کی تھی۔ اور اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اس بار قیمت یا تو ایم بی ایس کو دینی ہوگی یا عاصم منیر کو — شاید دونوں کو۔
Today on World Stroke Day at PNS, seeing stroke patients recover through advanced care was deeply emotional. We have expanded our network from just 12 primary stroke centres to 40 operational centres across Punjab, with 17 more underway, ensuring life-saving TNK injections (worth PKR 3-4 lacs each) are provided completely free to the common man.
TNK is life if administered within the golden 4.5 hours and saves not only lives but limbs and livelihoods. We’ve also scaled up to 3 comprehensive stroke centres (with 4 more underway in Lahore, Rawalpindi, Multan, and Faisalabad) performing advanced thrombectomies.
We are establishing Stroke and Cardiac centres in every district, and Cancer and Paediatric hospitals in every Divisional HQ. No patient will ever be deprived of treatment due to a lack of funds or facilities. Insha’Allah.
� فالج کی علامات پہچانیں، زندگی بچائیں اورحکومتِ پنجاب کے قریبی سٹروک سنٹر سے رجوع کریں:
فالج (Stroke) کی صورت میں ہر منٹ قیمتی ہے۔ علامات کو پہچاننے کے لیے FAST Rule یاد رکھیں:
🅵 F — Face (چہرہ): کیا چہرہ ایک طرف ڈھلک رہا ہے؟
🅰️ A — Arms (بازو): کیا دونوں بازو اٹھانے پر ایک بازو نیچے گر جاتا ہے یا اس میں اچانک کمزوری محسوس ہوتی ہے؟
🆂 S — Speech (بولنے میں دشواری): کیا بولنے میں لڑکھڑاہٹ ہے یا الفاظ واضح ادا نہیں ہو رہے؟
🆃 T — Time (وقت): ان میں سے کوئی بھی علامت ظ��ہر ہو تو فوراً ایمرجنسی مدد حاصل کریں اور مریض کو قریبی اسٹروک سینٹر پہنچائیں۔
⚠️ فالج کی دیگر علامات میں اچانک نظر کی خرابی، جسم کے ایک طرف سن ہونا، توازن بگڑنا یا شدید سر درد شامل ہیں۔
یاد رکھیں! علامات ختم ہونے کا انتظار نہ کریں، چاہے مریض چند منٹ بعد بہتر محسوس کرنے لگے۔ علامات شروع ہونے کا وقت نوٹ کریں۔ مریض کو خود گاڑی چلانے، کھانا یا پانی دینے سے گریز کریں۔
🧠 بروقت علاج جان بچا سکتا ہے، معذوری سے بچا سکتا ہے اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی ممکن بنا سکتا ہے۔
FAST یاد رکھیں — فالج پہچانیں، فوری اقدام کریں، زندگی بچائیں!
ایک دفعہ کا ذکر ہے چائنہ 62 ارب ڈالر کا سی پیک لے کر ہمارے پاس آیا لیکن باجوہ فیض اور ثاقب نثار نے مل کر پانامہ لیکس کروادی وہ 62 ارب ڈالر بھی گیا اور سی پیک بھی گیا لیکن افغا��ی خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں پتا تھا کہ چراغ چائنہ کی پالیسی سے ہی جلیں گے
پٹھاناں پہن چوداں دی حالت چیک کرو۔ پنجاب اچ اینج پھردے جیویں ایہناں دی بے بے جہیز اچ لے کے آئی۔ آپوں کتے دے پتر اک ریڑھی والا پنجابی برداشت نئیں کر سکدے۔
It was reported that SI Awais Arshad slapped a citizen during an inspection of a hotel, where the officer was present for verification purposes. Immediate criminal and departmental proceedings have been initiated against the officer.
The following actions have been taken:
1. *FIR registered* against the officer and *arrested* .
2. Officer *suspended* from service.
3. Departmental *charge sheet issued* for disciplinary proceedings.
Strict accountability is being ensured to prevent misuse of authority and uphold the respect, honour and rights of the citizens.
بھارتی ریاست راجستھان میں 'ریشما' نامی بھارتی مسلمان خاتون حجاب پہنے ہندوؤں کے علاقے سے ہسپتال اپنی ماں کے علاج کے پیسے لے کر گزر رہی تھی کہ وہاں موجود آر ایس ایس کے غنڈوں نے اس پر حملہ کر دیا، اسے مارا پیٹا اور پیسے چھین کر اس کی سونے کی انگوٹھی اور چین بھی چرا لی
’سی ایم صاحب اجازت ملے تو ہمیں بھِی ساتھ لے چلیں‘: انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کی لاہور جانے کی خواہش اور ارکانِ اس��بلی کی فرمائش
https://t.co/rRXNOPs1zB
Security is the responsibility of the Police, while rescue and emergency response fall within the mandate of Rescue 1122. Neither function falls within PERA’s statutory mandate. The activity in question, therefore, has no apparent connection with PERA’s prescribed duties and raises serious concerns about the rationale for deploying its vehicle in the rally.
یہ ناپاک دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے دہشتگرد گوادر کو فتح کرنے آئے تھے ۔
آج انکی بد بودار لاشیں سول ہسپتال میں پڑی ہے ۔ اور ان کے اپنے والدین خاندان نے انکو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔🤮
ایسی موت تو کافر کو نہیں ملتی جو انکو ملی ہے ۔
اخ ۔