اور اس طرح کے بےشمار حوالاجات اس کی کتب سے دیئے جا سکتے ہیں۔
ابھی تک کے تمام تھریڈ "تھالی کا بینگن۔ قصہ ایک جھوٹے نبی کا" کتاب سے کاپی کیئے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مصنف ہیں "اشتیاق احمد"
اللہ تعالیٰ میری اس کاوش کو قبول فرمائیں اور مزید کتب سے آپ کو روشناس کروانے کی ہمت دیں۔ آمین
مرزا قادیانی میں تو کوئی اچھی اور معقول بات نہیں تھی، لے دے کے جو ہاتھ لگا حاظر ہے، ملاحظہ فرمائیں:
مرزا نے بہت سی کتابیں لکھیں، اس کے ماننے والے اسے سلطان القلم کا خطاب دیتے ہیں۔ مرزائیوں کے نزدیک مرزا کی کتابیں آسمانی صحیفوں کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ اور بات ہے۔۔۔۔۔۔۔
++
ہوں۔ ایک بخیل بد خلق حریص، تو اس طرح زبان چلاتا ہے جیسے سانپ اور کمینوں اور سفلوں کی طرح بکواس کرتا ہے" (نورالحق ص 1/84)
"اے شتر مرغ مولویو!" (ضمیمہ انجام آتھم ص 17)
"وہ گدھا ہے نا انسان" (ضمیمہ انجام آتھم ص 47)
" یہ اندھے مولوی، یہ جہلا۔" (چشمہ معرفت ص 78)
++
ایسے مخبوط الحواس شخص کو نبی مان لیا جائے، کیا ایسا شخص مسلمان بھی ہو سکتا ہے؟ کیا اس کے ماننے والے عقل سے کام لے کر اس کی نشانیوں کا مطالعہ نہیں کرسکتے، کیا ان کے دلوں پہ قفل لگ گئے ہیں؟ ہم ان سب کو غور کی دعوت دیتے ہیں، کاش یہ لوگ غور کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دیں۔ آمین
حقیقت یہ ہے کے مرزا انگریز کی سازش تھا۔ 1857 کی جنگ آذادی میں مسلمانوں نے انگریزوں کا بے جگری سے مقابلہ کیا، اس لیے وہ سمجھ گئے کہ جب تک مسلمانوں کے اندر سے جہاد کا جذبہ ختم نہیں کر دیا جاتا، اس وقت تک انہیں دبایا نہیں جا سکتا۔
اس کا طریقہ انہوں نے یہ نکالا کے کوئی۔۔۔۔۔۔
++
خنزیر ہیں، حرامذادے ہیں، ان کی عورتیں کتیاں ہیں، جو کہے جو قادیانی نہیں وہ چوہڑے اور چمار ہیں، جو افیون کا استعمال کرے، جو کہے میرے پاس ٹی��ی ٹیچی آتا ہے، جو کہے انگریزوں کی فرما برداری اسلام کا رکن ہے، جو غلط حوالاجات دے، جو قرآن کی آیات میں تحریف کرے، ترجمعہ غلط کرے۔۔۔۔
++
اب ہم مرزا کی عبرت ناک موت پر بات کریں گے۔
مرزا نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کو چیلنج کیا تھا:
اگر میں اتنا ہی جھوٹا ہوں کہ آپ میرے بارے اپنے ہر رسالے میں لکھتے ہیں ےو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جھوٹے آدمی کی عمر ذیادہ نہیں ہوتی اور۔۔۔۔۔
++
اور خدا اسے ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں سچا ہے خدا اس کی مدد کرے گا"۔
لیکن ہوا کیا۔ مرزا 4 اگست سے پہلے ہی 26مئی 1908 کو مر گیا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم اس کی موت۔۔۔۔۔۔
++