@AliFahimp یہ عمران خان سے زیادہ لاڈلے نہیں، جیسے اس کو استعمال کرکے پھینک دیا گیا اب یہ استمال ہورہے ہیں ان کا حشر عمران خان سے زیادہ برا ہوگا
"بس اس پہ متفق ہیں کہ مجھ سے عناد ہے
ورنہ تو بات بات میں ان سب کی تضاد ہے
سب کی زبان الگ ہے چہرے ہیں الگ الگ
مخالفت دیکھو پھر بھی کتنا اتحاد ہے۔"
@MeriAwaazSuno90@MQMPKOfficial آپ کا یہ تجزیہ کتوں کی ناراضگی کا سبب بن گیا ہے کل وہ پریس کلب پر بھوک ہڑتال کریں گے، ان کا موقف یہ ہے کہ ہم کو ان سے نہ مماثلت دی جائے کیوں کہ وفاداری ہماری سرشت میں ہے۔
@RahilaMujahid اور حشر بھی عمران خان سے برا ہوگا۔
"بس اس پہ متفق ہیں مجھ سے عناد ہے
ورنہ تو بات بات میں ان سب کی تضاد ہے
سب کی زبان الگ ہے چہرے ہیں الگ الگ
مخالفت دیکھو پھر بھی کتنا اتحاد ہے۔"
@RahilaMujahid ہاں اب تو سات خون معاف ہوگئے ہیں تم لوگوں کو الطاف حسین بھائی سے علیحدگی اختیار کرکے کیوں کہ اصل بغض و عناد تو دراصل الطاف بھائی سے ہی سے تھا، تم تو اب اشاروں پر ناچ رہے ہو۔ لیکن یاد رکھو تم عمران خان سے زیادہ لاڈلے نہیں ہو لہٰذا جب تک تم کو استعمال کرنا ہے کرکے پھینک دیں گے
@TOKCityOfLights "Contempt of Court"
یعنی موصوف کے مطابق کورٹ نے انصاف سے کام نہیں لیا
بلکہ انہیں الطاف حسین سے علیحدگی پر ریلیف دیا ہے
مطلب یہ کیسا انصاف( Justice) ہے
جس کو ہم آج 14 سال بعد نہ
Justice Hurried Justice Burried
کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی
Justice Delays Justice Denied
کہہ سکتے ہیں۔
11th June 1978 was the day when QT Altaf Hussain laid the foundation for the injustices carried out by those people who don’t want to see Mohajirs in every aspect of life.
#11JuneAltafHai
ہر گھڑی نامِ شہیداں ہمیں دیتا ہے پیام
ان کی راہوں پہ وفا اپنی لٹانے آئے ہیں
راہبر پر ہے یقیں، منزلِ مقصود قریب
دست در دست سبھی منزل پانے آئے ہیں
کہہ رہا ہے یہ ناصرؔ سرِ محفل بڑھ کر
عہدِ وفا لے کے ہم پرچم اٹھانے آئے ہیں
*" اے پی ایم ایس او کے اڑتالیسویں یوم تاسیس کے موقع پر"*
یومِ تاسیس کا دن آج منانے آئے ہیں
عہدِ وفا قائد سے نبھانے آئے ہیں
ظلمتوں نے جو بچھایا ہے اندھیروں کا حصار
فکر کی شمع سے اس کو مٹانے آئے ہیں
کب تلک ظلم کی زنجیر رہے گی قائم
عزمِ پیہم سے یہ بندھن بھی گرانے آئے ہیں
فکرِ قائد ہو اگر آئینۂ کردارِ عمل
ہر قدم ایک نیا ساتھی بنانے آئے ہیں
جو بھی باطل کی عمارت کو بچانے نکلے
جان ہتھیلی پہ لیے اس کو ہٹانے آئے ہیں
یادِ شہدا سے منور ہیں دلوں کے آنگن
ان کی قربانی کے نغمے ہی سنانے آئے ہیں