Meri zindagi mae jo log important rahe mae hamesha unki saalgira per bakro ka sadqa deta tha. Unfortunately kuch halaat aise hogaye hain k aaj yeh nahi ker saka.
خالد جاوید چیمہ چالیس سال سے امریکہ کے شہر کینساس میں کھربوں روپے کا کاروبار کررہے تھے
چند سال قبل اپنے پنجاب کے آبائی شہر وزیر آباد کی محبت میں اربوں روپے کا کاروبار شروع کیا، کاروبار کے توسط سے سینکڑوں مقامی لوگوں کو نوکریاں ملی، آٹے کی ماڈرن ملز لگائیں، کاروبار چل پڑا
جہاں قدم قدم پہ انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کیا، وہی صاف ستھرا کاروبار شروع کیا، تمام کاروبار کے بارے میں ٹیکس حکام، پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ کو پیشگی ریکارڈ دیا، این او سیز لیے اور کاروبار شروع کردیا
لیکن پچھلے کئی ہفتوں سے انکا کاروبار مقامی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ٹھپ ہے، وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح اوورسیز پاکستانیوں کے یہاں سلوک ہورہا ہے
ایک معزز اوورسیز پاکستانی خالد جاوید چیمہ کا مسیج پڑھیے اور آگے پھیلائیے
“A'A sir I m overseas pakistani last 40 years stay in usa and don all kind of labor and save some money & bring in to pakistan i build a flour mill name Al- qadir flour and General Mills located @ gujranwala ali pur chatha road near Ali pur chatha food department Wazirabad sealed my mill since 7 day's i did not even sell my products in the godam which going to spoil the department always demand money because I m new in the business so I don't no that before eid I must see dfc & dd it's my request to madom Maryam nawaz please take over my mill and i she'll go back to America thanks.
Khalid Javid Cheema
Son of haji ghulam۔”
@MaryamNSharif@AmjadHafeez19@PMLNPunjabPk@GovtofPunjabPK@CMComplaintCell@ChShafayHussain@Khalidc04230594
میرا تعلق کراچی سے ہے۔ فخریہ مہاجر بھی ہوں۔ کراچی کے ساتھ ناانصافی پر دکھ بھی ہے اور اس پر آواز بھی اٹھاتا رہتا ہوں ۔
لیکن ایک بات واضع طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے بطور مہاجر ہم پاکستان کے خلاف کبھی نہیں جائینگے۔ کبھی پاکستان دشمنوں کے ساتھی نہیں بنیں گے
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
Lahore, despite all its impressive development, will always remain a branch city. Maryam Nawaz has done outstanding work there.
But Karachi is Pakistan’s organic HQ, a vibrant port city with unmatched talent, work ethic & HR edge.
It must be treated as a national security project. Orphaned since Jinnah & Fatima Jinnah left us. Time to rebuild the mother city.
پنجابی بھائیوں سے معذرت کے ساتھ.
میرا مشاہدہ ہے پنجابی لوگوں کو پیٹ بھرنے سے سروکار ہوتا ہے ذائقے سے نہیں۔ پیٹ بھرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے، کھانا جیسا بھی ہو۔ اسلیے صحتمند ہوتے ہیں۔ کراچی والے کم کھا لیتے ہیں، مگر ذائقہ بھرپور چاہیے ہوتا ہے ہمیں۔
کراچی اور لاہور کے کھانوں پر ہونیوالی بحث ایک وقت تک خوشگوار اور علم و ذائقے سے بھرپور تھی، اہلِ کراچی اور پڑھے لکھے لاہوری دوست علمی انداز میں بات کرتے، گفتگو کا مرکز صرف کھانے، ان کے ذائقے اور ان کی تاریخ تھا
مگر اب، جن کے پاس دلائل ختم ہو چکے ہیں، یا جو علم و ادب اور شعور سے محروم ہیں، وہ اس بحث کو تلخی اور تعصب کا میدان بنانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ کھانوں پر بات کرنے کے بجائے وہ شہر کے خلاف تعصب سے بھرپور زبان استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بدتہذیبی اور بے ادبی دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ اس محاذ پر ناکام ہو گئے ہیں جہاں انہیں اپنے بہتر ہونے کا وہم تھا۔
ہمارے شہر کو حق مانگنے پہ گالی ملی
حقوق مانگنے جائیں تو ہم کہاں جائیں؟
ہمارے ٹیکس کے پیسوں پہ پلنے والے لوگ
ہمی کو آنکھیں دکھائیں تو ہم کہاں جائیں؟
وجیہ ثانیؔ
#کراچی#Karachi
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا قصور یہ ہے
کہ
فیض کے زیر سایہ جب عمران خان کو تاحیات ملک کا سربراہ بنانے کے لئے انتظامات ہورہے تھے۔
چھوٹے موٹے رپورٹروں کو پکڑ کر بڑا صحافی بنایا جارہا تھا۔
ففتھ جنریشن کے نام پر پیڈ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور واریئر پیدا کئے جارہے تھے۔
دھرنے دلوائے جارہے تھے
فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھا۔
اس دن سے فیضیاب ناراض ہیں۔
سارے پلان میں پہلا شکاف ڈالنے والا ۔۔ ہی سارے انتظام کے دھڑن تختہ ہونے کا باعث بنا۔۔
ان کی تکلیف سمجھ آتی ہے۔