@OfficialMQM إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
اللّٰہ تعالیٰ عامر سنارا بھائی کی مغفرت و بخشش فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر عظیم عطا فرمائے۔ آمین ثمہ آمین
@azizabadi إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
اللّٰہ تعالیٰ عامر سنارا بھائی کی مغفرت و بخشش فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر عظیم عطا فرمائے۔ آمین ثمہ آمین
@AltafHussain_90 إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
اللّٰہ تعالیٰ عامر سنارا بھائی کی مغفرت و بخشش فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر عظیم عطا فرمائے۔ آمین ثمہ آمین
ایم کیوایم کورنگی سیکٹرکے سینئرکارکن عامر کرامت اللہ المعروف عامرسنارا کےانتقال پر مجھے زاتی طورپر بہت دکھ ہواہے، وہ میرا سچاساتھی اورتحریک کاایک وفاپرست کارکن تھا۔
#AmirSunaraRIP
عامرسنارا مرحوم نےتحریکی جدوجہد کے دوران ریاستی آپریشن جھیلا، کئی بار گرفتاریوں، سرکاری ٹارچر سیلوں کا تشدد، قیدوبند کی ازیتیں جھیلیں اورمصائب و مشکلات کاسامناکیالیکن تحریک اوراپنے قائد کا ساتھ نہ چھوڑا، وہ بیماریوں اورعلالت کے باوجود تحریک کےلئے خدمات انجام دیتا اور آخر دم تک تحریک سے وفا نبھاتارہا۔ میں عامر سنارامرحوم کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں، ان کی بیوہ، بچوں، بھائیوں اور تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتاہوں، میں ان کے غم میں برابر کاشریک ہوں۔ میں دعاکرتاہوں اللہ تعالیٰ عامر سنارامرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اور انہیں صبرجمیل عطا فرمائے۔آمین
الطاف حسین
ایم کیوایم کے سینئرکارکن عامرسنارا مرحوم کو ملیر کے قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا
مرحوم کی نماز جنازہ کورنگی نمبر 2 کی قادری مسجد میں اداکی گئی۔
عامرسنارا مرحوم کے جنازے میں ایم کیوایم کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ارکان جوہرعابد ایڈوکیٹ، ادریس علوی ایڈوکیٹ، رحمت رحمانی ایڈوکیٹ، اسماعیل قریشی، وفاپرست کارکنوں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت
رابطہ کمیٹی کے کنوینرمصطفےٰ عزیزآبادی اوراراکین رابطہ کمیٹی نے عامر سنارا مرحوم کے صاحبزادے اوربھائی سے فون پر تعزیت کی
لندن ……29 اکتوبر 2026ء
ایم کیوایم کورنگی سیکٹرکے سینئرکارکن عامرسنارا مرحوم کوآج بروز جمعرات سپردخاک کردیا گیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز عصر کورنگی نمبر 2 کی قادری مسجد میں اداکی گئی۔ جس میں ایم کیوایم کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ارکان جوہرعابد ایڈوکیٹ، ادریس علوی ایڈوکیٹ، رحمت رحمانی ایڈوکیٹ،اسماعیل قریشی، وفاپرست کارکنوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ نمازجنازہ کے بعد عامرسنارا مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ بعدازاں عامرسنارامرحوم کوملیر15 کے علاقے میں واقع شبانہ قبرستان میں اداکردی گئی۔اس موقع پر ایم کیوایم کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ارکان نے عامر سنارا مرحوم کے صاحبزادے اوربھائی سے تعزیت اورگہرے افسوس کا اظہارکیا۔ عامرسنارامرحوم کے جنازے میں کورنگی کے علاوہ، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، ملیر، نارتھ کراچی،لیاری، رنچھوڑ لائن، برنس روڈ اوردیگرعلاقوں سے تعلق رکھنے والے وفاپرست کارکنوں اورہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی اورمرحوم کوخراج عقیدت پیش کیا۔ عامرسنارا مرحوم طویل علالت کے باعث بدھ کوانتقال کرگئے تھے۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرمصطفےٰ عزیزآبادی اوراراکین رابطہ کمیٹی نے عامر سنارا مرحوم کے صاحبزادے اوربھائی سے فون پر تعزیت کی اوران سے گہرے رنج وغم کااظہارکیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر روزانہ خبریں شیئر کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے فلاں جگہ پر دہشت گردوں کے ساتھ زبردست مقابلہ ہوا، اتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے، اتنے فوجی شہید ہوئے اور بلا بلا بلا۔
یہاں تو یہ اکٹھے نظر آتے ہیں۔ ان میں دہشت گرد کون ہیں؟ ان میں فوج والے کون ہیں؟ اور یہ دہشت گرد کس سے لڑ رہے ہیں اور یہ فوجی کس سے لڑ رہے ہیں؟
جہاں ظلم وبربریت کاراج ہو،آئین و قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں،کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کہا جاسکتا ہے؟
………………………………………………………
پاکستان کانام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان “ہے،اسلام میں انسان کی زندگی اورانسانی حرمت کادرس دیا جاتا ہے،قرآن مجید میں ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ شہریوں کے ساتھ کھلی کھلی زیادتیاں کی جارہی ہیں کہ جس کسی کےگھرپرچھاپہ مارنا ہو، چھاپہ مارو، جس کوبھی گھرسے اٹھانا چاہو اٹھالو اوراگروہ گھرپر نہ ملے تو اس کے بھائی، بیٹے یا بزرگ والد کو اٹھالو، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرو، اس کے گھرکی خواتین کی بے حرمتی کرو۔کیا قرآن مجید کی کسی آیت مبارکہ، کسی حدیث مبارکہ یااسلامی تعلیمات میں کہیں کوئی ایسادرس ہے کہ کسی بھی مطلوبہ شخص کےگھر کے دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہو،گھرمیں تلاشی کےنام پر توڑپھوڑ کرو، مطلوبہ شخص نہ ملے تواس کے بے گناہ گھر والوں کے ساتھ ایسا ظلم کیا جائے؟ پاکستان کواسلامی ملک کہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے تمام شہروں میں اس قسم کی زیادتیوں کے واقعات روز مرہ کامعمول ہیں۔ جہاں بغیر وارنٹ گھروں میں چھاپوں کے نام پر یہ زیادتیاں کی جائیں، ظلم وبربریت کاراج قائم ہو، عوامی مینڈیٹ کااحترام نہ کیا جائے، قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں، تو کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کیسےکہا جاسکتا ہے؟ اگرکوئی ملک اسلامی ہوتو وہاں ریاست کے عام شہری کی بھی اتنی ہی عزت ہوتی ہے جتنی ریاست کے امیرکی ہوتی ہے۔قانون کی نظر میں ریاست کاامیراورعام شہری برابرہیں۔
حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے شہریوں کے حقوق کااحترام کریں، خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق ؓ نےفرمایا تھا کہ ”اگرنہرِ فرات پرکوئی کتا بھی بھوکا ہو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے“ لیکن ہمارے ملک میں ریاست کے حکمرانوں کا طرزعمل اس کے صریحاً برخلاف ہے۔ ہمارے ہاں انصاف نہیں ہے۔ میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کوپولیس اوررینجرز نے گھرسے گرفتارکر کے تین روز تک تشددکانشانہ بنانے کے بعدکراچی کے علاقےگڈاپ میں لےجا کر بیدردی سےدونوں کوشہید کردیا، وہ ایم کیو ایم کے کارکن نہیں تھے، ان کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا، اسی طرح میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگرفتار کرکے ان پر تشدد کیا گیا، انہیں کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں، انہیں بھی شہید کردیاگیا۔ میرے بھائی اوربھتیجے کا کیا قصورتھا؟ ان کے ماورائے عدالت قتل کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔
اسی طرح ایم کیوایم کے بزرگ رہنماجنہوں نے کراچی یونیورسٹی کےشعبہ فلاسفی کے پروفیسر کی حیثیت سے 40 تک ہزاروں طلبہ کوفلسفہ کی تعلیم دی وہ ایم کیو ایم میں شامل ہوئے اور22 اگست 2016ء کے بعد جب انہوں نے مجھ سےلاتعلقی کرنےسے انکار کردیا اور ایم کیوایم کی نئی رابطہ کمیٹی میں شامل ہوئے توانہیں بھی پہلے گرفتارکرکے کئی ماہ تک قیدمیں رکھا گیا،جب وہ ضمانت پررہا ہوئے تو 13جنوری 2018ء کوانہیں اغواکرنے کے بعد تشدد کرکےشہید کردیا گیا اوران کی لاش کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں پھینک دی۔ آخرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کا کیا قصورتھا؟
قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہے کہ، اللہ ظلم کوناپسند فرماتا ہے، اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں، ظالموں کاانجام بھیانک ہوگا، ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ چھولے گی۔
اسی طرح نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی مختلف احادیث مبارکہ میں بھی ظلم اورظالموں کی مذمت کی گئی ہے اورایک حدیث میں یہاں تک فرمایا ہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظالم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث بنے گا۔
ہم اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں، قرآن مجید، اللہ کی وحدانیت پرایمان رکھتے ہیں اور حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کواللہ کاآخری نبی مانتے ہیں لیکن پاکستان میں جوظلم ہورہا ہے اسے دیکھ کرخاموش رہتے ہیں، ظلم کو قوم سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں آپ کسی بھی جگہ ہونے والے ظلم کو چھپا نہیں سکتے، وہ زمانے گئے جب ظالم وجابرفرعون، شداد، نمرود، ہامان عوام پر ظلم کیا کرتے تھے اورکسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔ آج جگہ جگہ کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے (CCTV) لگے ہوتے ہیں، ہرفرد کے کیمرے والے موبائل فون ہیں اور جو خبر اخبارات یا ٹی وی چینلز پر شائع یا نشر نہیں ہوتی وہ سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔
حال ہی میں بلوچستان میں سیکوریٹی فورسز کے ایک کیمپ پر بلوچ مزاحمت کاروں کے حملے کی خبرآئی اور کہا گیا کہ پاکستانی فوج نے ایک خاتون سمیت 9 حملہ آوروں کو ہلاک کر ڈالاجبکہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے وڈیو فلم گردش کررہی ہے جس میں دکھایا گیا ہےکہ مزاحمت کاروں اورفوج کے درمیان فائرنگ ہورہی ہے۔
1/2
میں نواب شاہ سبزی مارکیٹ کی دکانوں کو تجاوزات قرار دیکر مسمار کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ نوابشاہ مارکیٹ روڈ پر یہ دکانیں قانونی تھیں جو 60 سال قبل بلدیہ کے منظور شدہ نقشے کے مطابق قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں، اس مارکیٹ کے دکاندار بلدیہ کو باقاعدگی سے ہر ماہ کرایہ بھی ادا کرتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت نے ان دکانوں کو تجاوزات قرار دے کر گرادیا ہے۔اس سلسلے میں دکانداروں کو کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا۔دوسال قبل نوابشاہ کے علاقے منوآباد میں بھی اردو بولنے والوں کی دکانیں توڑ دی گئیں تھیں اور اب نوابشاہ کے مارکیٹ روڈ پر قائم 60 سال پرانی سبزی مارکیٹ کی دکانیں مسمار کردی گئی ہیں۔
نوابشاہ کے شہریوں کی قانونی دکانوں کو مسمار کرنا سراسر ظلم ہے۔ پیپلزپارٹی کی ظالم حکومت ایک طرف تو شہریوں کو روزگار فراہم نہیں کر رہی ہے دوسری طرف شہریوں سے ان کا روزگار چھین کر ان کا معاشی قتل کررہی ہے۔میں نوابشاہ کے شہریوں خصوصاً جن لوگوں کی دکانیں مسمار کی گئی ہیں ان سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ مارکیٹ کی دکانیں گرانے کا عمل بند کیا جائے، دکانیں بحال کی جائیں، دکانداروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور نوابشاہ کے شہریوں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے دور حکومت میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ نئے نئے گینگز پیدا ہوتے ہیں،
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اسلئے نافذ کیا گیا تاکہ ریئل ارتھ منرلز نکالے جائیں،
مائنس عمران خان کی سازش کی جارہی ہے،
ملک کی تازہ ترین صورتحال پر وڈیو لاگ