پچاس ہزار کروڑ کا پراجکٹ بند ۔۔ کرپشن اور نااہلی پر مزید دس ہزار کروڑ بھی ضائع ہوچکے لیکن ایک بھی شخص جیل نہیں گیا
جبکہ بشری بی بی قومی خزانے کو 3 کروڑ کا نقصان پہنچانے پر سخت ترین جیل میں قید تنہائی کاٹ رہی ہے
60000کروڑ بمقابلہ 3 کروڑ کا فرضی نقصان
کیا وجہ ہے کہ 4سال میں بجلی گیس پٹرول ڈالر ، ٹیکس سرچارج لیوی ہر جگہ سے حکومت عوام کو نچوڑ رہی ہے لیکن حکومت کا پیٹ نہیں بڑھ رہا عوام کو کوئی سہولت نہیں مل رہی
عوام سے اس سال 15000ارب نچوڑا گیا وہ سب دفاع میں قرضے میں اور پنجاب کی سڑکوں پر لگ گیا عوام کو ٹھینگا ملا
بینک کا گارڈ اس سے 20% تنخواہ پر گرمی سردی میں نہ صرف باہر کھڑا رہتا ہے بلکہ ڈاکوؤں کی گولی بھی کھاتا ہے۔ اس کی پینشن ہوتی ہے نہ میڈیکل کی سہولت۔ اس کا راشن فری ہے نہ انکی دیکھ بھال کیلئے کوئی فاؤنڈیشن ہے
آپ کے سر سے بالوں کے ساتھ سمجھ بوجھ بھی بھاپ بن کر اڑ گئی ہے؟
شریف خاندان کے پاس 28 آئی پی پیز ہیں، جبکہ دیگر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے پاس 16 آئی پی پیز ہیں۔
آصف علی زرداری کے پاس 16 آئی پی پیز ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے پاس 9 آئی پی پیز ہیں! ایثار رانا۔
بھارت نے سوا سال پہلے 23 اپریل 2025 کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ۔
بھارتی وزیر آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا کہ نئی دہلی اس پر کام کر رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ ملے
جواب میں ہم نے ڈائیلاگ بازی کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ اس کے مضمرات بہت خوفناک ہیں
ہر دس میں سے نو پاکستانی سندھ طاس میں آباد ہیں۔ ہماری نوے فیصد سے زائد فصلیں انہی دریاؤں سے سیراب ہوتی ہیں۔ ملک کے تمام اکیس پن بجلی گھر اسی طاس میں ہیں۔ زراعت معیشت کا چوتھائی حصہ اور دو تہائی افرادی قوت کا روزگار ہے
یہ درست ہے کہ فوری طور پر بھارت پانی بند نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس ابھی پانی ذخیرہ کرنے کا بندوبست نہیں ۔مگر معاہدہ معطل کرتے ہی بھارت نے بگلیہار ڈیم سے چناب کا پانی روکا اور پھر سلال اور بگلیہار کے ذخائر کی flushing کی یعنی ڈیموں میں جمع مٹی اور گار نکال کر ان کی گنجائش بڑھائی گئی۔ یہ کام معاہدے کے تحت مخصوص طریقے اور موسم میں پاکستان کو پیشگی اطلاع دے کر ہونا چاہیے تھا مگر بھارت نے موسمی شیڈول سے ہٹ کر اور بغیر بتائے کیا۔
یوں بھارت اپنے موجودہ ڈیموں کو زیادہ پانی روکنے کے قابل بنا رہا ہے۔ اسی عرصے میں ڈیٹا کی فراہمی بھی بند کر دی گئی۔ انڈس واٹر کمشنر کے مطابق ماہانہ ڈیٹا عرصے سے نہیں مل رہا چناب کے معاملے پر بھارتی کمشنر نے چار میں سے کسی ایک خط کا بھی جواب تک نہیں دیا
پھر چناب اور جہلم کے بہاؤ میں اپریل دو ہزار پچیس سے اچانک اور غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایک موقع پر بھارت نے اچانک 58000 کیوسک سے زائد پانی چناب میں چھوڑ دیا اور پھر ڈیم بھرنے کے لیے بہاؤ تقریباً صفر تک گرا دیا۔ یہ دراصل بہت بڑا اسٹریٹجک خطرہ قرار ہے
اور سب سے خطرناک بات م چناب کا پانی سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس میں منتقل کرنے کا زیر غور منصوبہ ہے۔ بیاس مشرقی دریا ہے جو معاہدے کے تحت مکمل طور پر بھارت کا ہے، یعنی چناب کا پانی ایک بار بیاس میں گیا تو ہمیشہ کے لئے پاکستان کی پہنچ سے نکل جائے گا۔ اس کے ساتھ بھارت مغربی دریاؤں پر نئے منصوبوں کی رفتار بڑھا رہا ہے اور ایسا انفراسٹرکچر بڑھا رہا ہے جس سے پاکستان کو الاٹ شدہ پانی کنٹرول کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف Run of the river منصوبوں کی اجازت تھی یعنی بہتے پانی سے بجلی بناؤ اور پانی آگے جانے دیا جائے۔۔
اسے زراعت کے نقطہ نظر م سے دیکھیں۔ چناب کا بے ترتیب بہاؤ سب سے پہلے پنجاب کی گندم پر وار کرتا ہے۔ بوائی کے دنوں میں پانی نہ ملے تو فصل بیٹھ جاتی ہے اور جب کھڑی فصل کو ریلے کی ضرورت نہ ہو تب اچانک پانی چھوڑ دیا جائے تو کھیت ڈوب جاتے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ کی آبپاشی اس اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہی ہے اور کسان کم پیداوار اور بڑھتے قرضوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ گندم قومی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، اس پر ضرب دراصل ہر پاکستانی گھر کے دسترخوان پر ضرب ہے۔ پھر بجلی کا معاملہ ہے، دریاؤں کا بہاؤ غیر یقینی ہو تو ڈیمز سے بجلی کی پیداوار بھی غیر یقینی ہو جاتی ہے۔
ابھی بھارت کے پاس وہ ڈیم اور ذخائر موجود نہیں جو سندھ، جہلم اور چناب کا پانی روک سکیں۔ ان تینوں دریاؤں سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جبکہ بھارت ان پر پونے چار ملین ایکڑ فٹ کے قریب ہی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اتنے بڑے بہاؤ کو روکنے کے لیے درجنوں بڑے ڈیم چاہئیں جن کی تعمیر میں برسوں لگتے ہیں۔
مگر بھارتی منصوبے بتا رہے ہیں کہ فی الحال اصل خطرہ پانی کی مکمل بندش نہیں پانی کے وقت سے کھیلنا ہے۔ آسان لفظوں میں اسے یوں سمجھیں کہ بھارت کا ہتھیار نلکا بند کرنا نہیں نلکے کو جھٹکے دینا ہے۔ البتہ اگلے پانچ سے دس برسوں میں بھارت ذخیرے کی صلاحیت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ جھٹکے بندش میں بدل سکتے ہیں۔ اصل معرکہ آج نہیں، آنے والے برسوں کا ہے اور تیاری آج کرنی ہے۔
اس وقت بہت ضروری چیز ڈیٹا کی خود انحصاری ہے۔ بھارت نے دریاؤں کا ڈیٹا دینا بند کر دیا تو ہمیں اپنا سیٹلائٹ اور ٹیلی میٹری نظام بنانا ہو گا تاکہ چناب میں آنے والے ہر جھٹکے کی پیشگی خبر ہو۔ یہ معلومات اب ہماری آپریشنل ضرورت ہیں۔
رونالڈو دنیا کا بہترین فٹ بالر ہے GOAT ہے ، وہ ہزار ایواڈ جیتا کئی میچر جیتا کئی لیگز جیتا لیکن پورے کرئیر میں کبھی ایک سنگل FIFA ورلڈ کپ نہیں جیت سکا۔اس کی دنیا میں قدر ہے پوجا کی جاتی ہے اس کے ملک میں اس کی ۔
لیکن ایک ہم ہیں جنہوں نے اُس لیجنڈ سٹار کو جس نے اس ملک کو 78سالوں میں اکلوتا ورلڈ کپ دیا اسے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔
قوموں کی زلالت اور برتری اسی بات سے پتہ چل جاتی ہے
علمائے دیو بند
انگریزی حرام ہے
برددر ہیز آسکڈ اے ویری گڈ کوئیسچن
لاوڈ سپیکر حرام ہے
ایکو تھوڑا کم کروائیں ڈی جے سے
تصویر بنوانا حرام ہے
مولانا تھوڑا سا چہرہ دائیں کو ۔ ۔ ۔ پرفیکٹ
ٹی وی حرام ہے
رمضان ٹرانسمیشن جیو کے ساتھ
غیر اسلامی ملک کی سکونت اور موت حرام کی موت ہے
وہ جی بیٹے کی گریجوئیشن پر کیلیفورنیا جا رہا ہوں
عورت کی حکمرانی حرام ہے
وہ جی مریم نواز کو اللہ نے بذات خود چُنا ہے پنجاب کے لئے
صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین کی بے ادبی حرام ہے
وہ جی علی کا ساتھ دینے والوں میں ایک آدھ کتا بھی تھا
بلیو پاسپورٹ چاہیے سب کو ،عوام جائیں بھاڑ میں !
پنجاب کے شہر حاصل پور سے خبر آئی کہ غربت سے تنگ آکر میاں بیوی نے اپنے دو بچوں سمیت زہر کھا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے ۔ جبکہ بلوچستان میں درجنوں جوان پاکستان کی خاطر شہید ہوگئے سچ یہ ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال آؤٹ آف کنٹرول ہوتی جا رہی ۔ ملک کے داخلہ امور کا وزیر کافی دنوں سے ملک سے باہر ہے جب ماؤں کےلال شہید ہو رہے ہیں تو ایسے ہیں آج سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اہم مدعا تھا کہ 22ویں گریڈ ریٹائرڈ بیورکریٹس کی طرح سابق اراکین پارلیمنٹ ( موجود کو پہلے ہی سہولت میسر) کے شریک حیات اور 28 سال کے کم عمر زیرکفالت بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دیا جائے ۔ اس بل کو کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے ۔
اسی دوران ایک اور خبر یہ ہے کہ عام پاکستانیوں کے گرین پاسپورٹ کی دنیا میں درجہ میں 100ویں پوزیشن آئی ہے ہمارے بعد بس اعراق شام اور افغانستان ہیں
اب سوال یہ ہے کہ ریٹائر ہونے والے بیورکریٹس کس طرح بلیو پاسپورٹ کے حقدار ہیں جو اب سابق سینیٹرز اور ایم این ایز بھی مانگ رہے ہیں ؟
خیبرپختونخوا حکومت پر سب نے تنقید کی اب وفاق میں یہ قانون سازی کیوں ؟
وہی جملہ " یہ ملک اشرافیہ کی شکار گاہ ہے "
پیپلزپارٹی اور ن لیگ، جنہوں نے 2 دن میں ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ دیئے کہ خیبرپختونخوا والے کیسے بلیو پاسپورٹ لے سکتے ہیں تو پتہ چلا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں پہلے ہی 70 کی دہائی سے یہ(تاحیات سرکاری پاسپورٹ کی سہولت) چل رہی ہے۔۔تو وہاں پر سرکاری پاسپورٹ جائز ہے، کے پی میں ناجائز ہے؟: اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1
@KhalidHusainTaj Toh tum bhi gherat khao jin ki kutta giri kr rahy ho woh hakomat main malkon sy kaho ab sabit kr dain k 2018 main PTI ny koi dhandli ki RTS tab tery patta daron bathaya aur PTI ki seats kmm ki.
Khota tum ny khaya hy sab ko apna jesa begherat na samjho paisha dalali hy aur batain
حدیث تو یہ بھی ہے: تم سے پہلے کی قومیں اسی لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا یا معزز آدمی چوری کرتا، تو وہ اسے چھوڑ دیتے، اور اگر کوئی کمزور یا غریب چوری کرتا، تو اس پر حد (سزا) نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی، تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ طارق متین
#pakistan @tariqmateen
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
یہی کمپنی چلے گی اب اس کمپنی کے علاوہ کسی کے پاس کوئی چوائس نہیں۔ عمران اب واپس نہیں آ سکتے، کسی معجزے سے ہی واپس آ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔عمر چیمہ
یہ اور اس جیسے کئی دانشور کہتے تھے عمران کے ہاتھ میں اقتدار کی لکیر نہیں ہے ان کا تھوکا ان کےمنہ آیا آئندہ بھی ایسے ہو گا، عمران واپس آئے گا اسے یہ قوم واپس لائے گی
یہ رانامسجد بنوی میں ہوئے واقعے پر جس کا عمران خان سے دور دور تک تعلق واسطہ نہیں تھا عمران خان کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دیتا تھا اور آج کہہ رہا ہے کہ اسحاق ڈار کےسگے نواسے کی بھتہ خوری اغواکاری اور زیادتی کیس سے ڈار کا کوئی تعلق نہیں وہ اپنےفعل کا خود ذمہ دار ہے۔واہ منافقو واہ