@babakodda18plus یقیناً جنہوں نے کہاہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ڈٹے رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں"
سورہ فصلت 41:30
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
خان ایک بہادر ، نڈر مرد مجاہد ہے،جو بے تیغ لڑ رہا ہے
اللّٰہ حامی و ناصر ہو
تاریخ بہادروں کو یاد رکھتی ہے
امریکی سامراج نے اسرائیل نامی اپنی فوجی چوکی کے دفاع میں ایران پر حملہ کردیا ہے۔ امریکہ نے حملے میں فردو سمیت تین نیوکلیر تنصیبات پر حملے کرنے کا دعوی کیا ہے
یہ حملے اس وقت ہورہے ہیں جب ایران ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کررہا تھا۔ اسرائیل نے پہلے حملے میں ملٹری کمانڈروں اور نیوکلئر سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ مزاکراتی ٹیم کے ممبران کو بھی شہید کردیا تھا۔ درحقیقت مسئلہ ایٹمی ہتھیاروں کا نہیں۔ شام عراق یمن لیبیا اور لبنان میں کونسے ایٹمی ہتھیار تھے؟ غزہ میں جن سکولوں ہسپتالوں پر بمباری کی گئی ہے وہاں پر کونسے ایٹمی ہتھیار تھے؟ مقصد صرف اور صرف ان تمام ریاستوں اور مزاحمتی گروہوں کی تباہی ہے جو سامراج کے خلاف کسی بھی قسم کا مقابلہ کرسکے۔ پورے خطے کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے اس کے وسائل اور معدنیات پر قبضے کا منصوبہ بہت عرصے سے تیار ہے جس میں آخری رکاوٹ ایران ہے۔ صہونی اور امریکی سامراج اب مل کر اس چٹان کو گرانے کی کوشش کررہے ہیں۔
وہ سرکاری دانشور اب خاموش ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ٹرمپ کی نوبل پرائز کی نامزدگی کا یہ کہہ کر دفاع کررہے تھے کہ اس کے ذریعے پاکستان ٹرمپ کو روکنے پر مجبور کردے گا۔ ان کم عقلوں کو یہ علم نہیں ہے کہ سامراج ایک شخص کی ذاتی نرگسیت کا نام نہیں ہے بلکہ ایک معاشی اور سیاسی نظام ہے جس کی یہ مجبوری ہے کہ وہ دیگر ممالک کو مسلسل تابع رکھ کر ان کے وسائل پر قبضہ کرسکے۔ جو بھی ملک مزاحمت کرتا ہے، پابندیاں، رجیم چینج اور بمباری اس کا مقدر بنتی ہے۔ سامراجی نمائندے جمہوریت یا انسانی حقوق میں نہیں، صرف قبضہ گیری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
جو دوست نظریاتی محاذ پر لڑ رہے ہیں، وہ ان لوگوں سے ہوشیار رہیں جو اس لڑائی میں یہ کہہ کر پوزیشن لینے سے انکار کررہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایران میں بھی مسئلے ہیں۔ اس لئے ایران کی حکومت کے بجائے ہمیں ایران کی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ اس سے زیادہ بے معنی اور سیاسی طور پر غیر سنجیدہ بات نہیں ہوسکتی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ صہونی ریاست کو نسل کشی کرنے پر امریکہ کہ جانب سے نوازا جارہا ہے جبکہ ایران کو اسی نسل کشی کے خلاف مزاحمت کاروں کی مدد کرنے پر سزا دی جارہی ہے۔ ایران اور اسرائیل میں اس گھڑی مماثلت تلاش کرنا بدترین اخلاقی بددیانتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی اور امریکہ نے جن ممالک پر بھی جارحیت کی ہے، ان قدیم تہزیبوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔ شام عراق اور لیبیا ایک زمانے میں عرب دنیا کی تہذیب کے گڑھ سمجھے جاتے تھے اور آج وہاں پر ہر علاقے میں مختلف gangsters کا راج یے۔ غزہ میں امدادی کیمپوں پر اسرائل کا قبضہ ہے جس پر وہ مسلسل بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر گولیاں برساتا ہے۔ یہی حال وہ ایران کا کرنا چاہتے ہیں تاکہ تمام وسائل پر مغربی کمپنیوں کا قبضہ ہو اور رضا پہلوی جیسے وطن فروش امریکہ کی کٹھ پتلی بن کر بیٹھے ہوں۔
ایسے میں "ایرانی عوام" یا لیبیا کی عوام یا شام کی عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کا کیا مطلب ہے جب آپ ان ممالک میں موجود اس واحد قوت کو رد کردو جو ان کا دفاع کرسکتی ہے؟ کیا مغربی لیفٹ کے چند دانشور ایرانی عوام کا ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرکے امریکی اور صہونی حملے روکیں گے؟ یا civil society مظاہرے کرکے روکے گی جو اسرائیل کی غزہ میں 20 ماہ سے جاری نسل کشی کو نہیں روک سکی؟ واحد قوت جو ایران کی عوام کو نسل کش ریاست کی مستقل غلام بننے سے روک سکتی ہے وہ ایرانی ریاست اور اس کی افواج ہیں۔ جو بھی شخص اس وقت اگر مگر کرکے اس واحد قوت کے حق میں نہیں بول سکتا جو ایرانی عوام کا دفاع کرسکتی ہے، وہ در حقیقت ایرانی عوام کا دشمن ہے اور ہمیں کبھی بھی اس منافق کو سنجیدہ نہیں لینا چاہئے۔
ایران پر حملے کا مقصد ایرانی ریاست کو تباہ کرکے ایرانی عوام کو غلام بنانا ہے جبکہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب ایرانی ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جو اس وقت صہونی ریاست اور امریکی سامراجی غلبے کے آگے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرکے تاریخ رقم کررہی ہے۔
ہمارے پورے خطے میں آگ بھڑک رہی ہے۔ ہماری سالمیت ایران کی سالمیت سے جڑی ہوئی ہے۔ ہمیں اپنے خطے کے ممالک کے ساتھ پرانی رنجشیں بھول کر ہنگامی بنیادوں ہر دفاعی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر حکمران ڈالری جنگوں کے چکر میں اغیار کا ساتھ دیں گے تو ان کے پاپا جونز اور عیاشیاں شائد چلتی رہیں لیکن ہمارا خطہ برباد ہوجائے گا۔ ترقی پسندوں پر لازم ہے کہ وہ ان تمام رجحانات کو جوڑیں جو امریکہ سے ہٹ کر بیجنگ، تہران اور ماسکو کی طرف دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایران کو ہر حال میں اپنی بقا کے لئے بڑا حملہ کرنا ہو گا ،چاہیے روس چین ساتھ دیں یا نہ دیں ،
دعا ہے کہ ایران کو اس جارحیت کے خلاف ایک تاریخی کامیابی نصیب ہو۔
مرگ بر امریکہ
مرگ بر اسرائیل🪐🥷🏼👁️🪐👁️🪐۴/۵۳🪐🥷🏼🪐۹/۶۳🥷🏼🪐🥷🏼🪐👀👁️👣✍️
والدِ محترم رحمہ اللہ کا یہ کلپ 2004 میں انکے ”دورہ بھارت کے دوران ممبئی“ میں کیئے گئے ایک خطاب سے لیا گیا ہے۔ آج اس کلپ کا ایک چھوٹا سا حصہ بہت شیئر ہوا حتی کہ مختلف ٹی وی چینلز نے بھی دکھایا۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ بھارت میں دیا گیا والدِ محترم کا یہ بیان بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کا حرفِ اول بن گیا۔ اللہ اکبر وللہ الحمد ! براہ کرم اس کلپ کو آخر تک سماعت فرمائیں۔
Congratulations on behalf of myself & PTI to @realDonaldTrump for winning the US Presidential Elections. The will of the American people held against all odds.
President Elect Trump will be good for Pak-US relations based on mutual respect for democracy & human rights. We hope he will push for peace, human rights and democracy globally.