آپکا پہلا گول ہونا چاہئے 10 ڈالر روز کمانا۔۔
اتنے پیسے ایک عام انسان کی زندگی کو کافی آسان بنا سکتے ہیں۔۔۔
اپنے شناختی کارڈ اور پاکستانی بنک اکاؤنٹ پر آپ ebay or amazon بنا سکتے ہیں،
ایک ebay اکاؤنٹ آپکی زندگی کو آسان بنا سکتا ہے،
پاکستان سے اکاؤنٹ بنائے اور اسے UK, USA , Australia میں چلائیں۔۔۔۔۔
3,4 ماہ بعد 50 ہزار ، لاکھ کمائیں گے یہ میرا دعوٰی ہے۔۔۔
شرط ہے مستقل مزاجی، ہنر سیکھنا اور محنت کرنا۔۔۔
اب یہاں کئی عطائی ایکسپرٹ آئیں گے۔۔۔
اخے یہ اکاؤنٹ بین ہو جاتے فلا فلا۔۔۔
انکو جواب ہے بھائی دو نمبریاں مت کریں آگے کوئی الو نہیں بیٹھا دنیا کی ٹاپ سیکیورٹی ہے انکے پاس۔۔
لیگل کام کریں سیکھیں اور اپنی زندگی کو بدلیں۔۔۔۔
یہ ٹویٹر سے پیسے، فیس بک ارننگ سب عارضی ہے ہنر سیکھیں فیوچر بنائیں۔۔۔
مزید رہنمائی کیلئے میرے ساتھ ون ٹو ون کال کیلئے اوپر بائیو میں نمبر ہے رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔
👈 *مجھے یہ اتنا دلچسپ لگا کہ اگر آپ اسے نہ پڑھیں تو واقعی افسوس ہوگا:*
بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں ہوتیں بلکہ عمر بڑھنے کا ایک قدرتی عمل ہوتی ہیں۔ ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگ افراد کو یہ مشورے دیے:
آپ بیمار نہیں ہیں، آپ کی عمر بڑھ رہی ہے۔ بہت سی ایسی حالتیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، حقیقت میں بیماری نہیں ہوتیں بلکہ یہ آپ کے جسم کے بڑھاپے کی علامات ہیں۔
1. کمزور یادداشت لازمی طور پر الزائمر نہیں ہوتی؛ یہ بڑھتی عمر کے دماغ کا ایک حفاظتی طریقہ ہے۔ یہ دماغ کی عمر بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔ اگر آپ اپنی چابیاں کہیں رکھ کر بھول جائیں لیکن بعد میں خود ڈھونڈ لیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں ہے۔
2. آہستہ چلنا اور ٹانگوں یا پاؤں کا غیر متوازن ہونا فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری ہے۔ اس کا حل دوا نہیں بلکہ مسلسل حرکت میں رہنا ہے۔
3. بے خوابی بیماری نہیں بلکہ دماغ کے معمولات میں تبدیلی ہے۔ نیند کے انداز میں فرق آ جاتا ہے۔ نیند کی گولیاں استعمال نہ کریں۔ لمبے عرصے تک ان پر انحصار گرنے اور ذہنی کمزوری کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔ بزرگ افراد کے لیے اچھی نیند کا بہترین علاج دن میں دھوپ لینا اور باقاعدہ سونے جاگنے کا وقت رکھنا ہے۔
4. جسم میں درد اور تکلیف لازمی طور پر گٹھیا نہیں بلکہ اعصابی نظام کے عمر رسیدہ ہونے کا ایک قدرتی ردعمل ہے۔ بہت سے بزرگ کہتے ہیں: “میرے ہاتھ پاؤں میں ہر وقت درد رہتا ہے، کیا یہ گٹھیا ہے یا ہڈیوں کی بیماری؟” ہڈیاں کمزور ضرور ہوتی ہیں، مگر 99٪ جسمانی درد بیماری نہیں بلکہ اعصاب کی سست رفتار کی وجہ سے درد کا زیادہ محسوس ہونا ہے۔ اسے سنٹرل سینسِٹائزیشن کہا جاتا ہے، جو عمر رسیدہ افراد میں عام جسمانی تبدیلی ہے۔ اس کا علاج ورزش ہے، دوا نہیں۔
5. کولیسٹرول کا کچھ زیادہ ہونا ہمیشہ خطرناک نہیں۔ بزرگ افراد میں کولیسٹرول تھوڑا زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے زیادہ عمر گزاری ہوتی ہے۔ کولیسٹرول ہارمونز اور خلیوں کی جھلی بنانے کے لیے ضروری مادہ ہے۔ اگر کولیسٹرول بہت کم ہو جائے تو قوتِ مدافعت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بزرگ افراد میں بلڈ پریشر کی قابلِ قبول حد 150/90 mmHg تک ہو سکتی ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے 140/90 ہوتی ہے۔ بڑھاپے کو بیماری نہ سمجھیں۔
6. بڑھاپا بیماری نہیں بلکہ زندگی کا ایک لازمی سفر ہے، جس سے لطف اندوز ہونا چاہیے جب تک ممکن ہو۔
بزرگ افراد اور ان کے بچوں کے لیے چند باتیں:
1. یاد رکھیں کہ ہر تکلیف بیماری نہیں ہوتی۔
2. بہت سے بزرگ خوفزدہ رہتے ہیں۔ میڈیکل رپورٹس یا اشتہارات سے مرعوب نہ ہوں۔
3. اولاد کے لیے سب سے اہم کام صرف والدین کو ہسپتال لے جانا نہیں بلکہ ان کے ساتھ چہل قدمی کرنا، دھوپ میں بیٹھنا، کھانا کھانا، باتیں کرنا اور تعلق قائم رکھنا ہے۔
بڑھاپا دشمن نہیں۔ یہ دراصل یہ کہنے کا ایک طریقہ ہے:
“میں کچھ اور عرصہ جینا چاہتا ہوں۔”
لیکن سستی اور جمود اصل دشمن ہیں۔ صحت مند رہیں۔
ایک کینسر کے ڈاکٹر نے کہا:
1. درمیانی عمر 50 سال سے شروع ہو کر 70 سال تک رہتی ہے۔
2. سنہری دور 70 سے 80 سال تک ہوتا ہے۔
3. بڑھاپا 80 سے 90 سال تک ہوتا ہے۔
4. طویل عمری 90 سال سے شروع ہو کر زندگی کے اختتام تک رہتی ہے۔
5. بزرگ افراد کا سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے۔ میاں بیوی عموماً ایک ساتھ وفات نہیں پاتے؛ ایک پہلے چلا جاتا ہے۔ پھر کسی وقت بیوہ یا بیوہ مرد خاندان پر بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے دوستوں سے رابطہ قائم رکھنا، مل بیٹھنا اور گفتگو کرتے رہنا بہت ضروری ہے تاکہ انسان خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اپنی زندگی پر اختیار نہ کھوئیں۔ یعنی یہ فیصلہ خود کریں کہ کب اور کس کے ساتھ باہر جانا ہے، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کس کو فون کرنا ہے، کب سونا ہے، کیا پڑھنا ہے، تفریح کیسے کرنی ہے، کیا خریدنا ہے اور کہاں رہنا ہے۔ کیونکہ اگر انسان یہ سب آزادی سے نہ کر سکے تو وہ دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے۔
میوزک حرام ہے۔
آپ یہ نہ دیکھیں کہ غامدی صاحب کون ہیں، بلکہ یہ دیکھیں کہ وہ اسلام میں موسیقی حرام یا حلال ہونے کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔
اس معاملے میں ایک اہم ضمنی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا قرآن مجید کے احکامات حدیثِ نبوی ﷺ پر مقدم یعنی حدیث کو supersede کرتے ہیں، یا اس سلسلے میں اہلِ علم اور مفسرین کا موقف کچھ اور ہے؟
پاکستان 🇵🇰 میں دسویں اور بارہویں پاس کرنے کے بعد پیسے نا ہونے کی وجہ سے پڑھائی چھوڑنے والے لاکھوں نوجوانوں کے لیے خوشخبری: مفت ڈیجیٹل ہنر سیکھیں اور بین الاقوامی سطح پر کمائی شروع کریں۔
حقیقت: لاکھوں بچے مالی مجبوریوں کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے
پاکستان میں تعلیم کا بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 26.2 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ سیکنڈری سطح (یعنی دسویں جماعت) پر 4.55 ملین بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے، جبکہ ہائر سیکنڈری سطح (بارہویں جماعت) پر یہ تعداد 5.95 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔
اعداد و شمار مزید بتاتے ہیں کہ صرف 40 فیصد بچے مڈل اسکول تک پہنچ پاتے ہیں، اور صرف 30 فیصد میٹرک مکمل کر پاتے ہیں۔ اس ڈراپ آؤٹ کی سب سے بڑی وجہ مالی مجبوریوں ہیں۔ غریب گھرانے تعلیم کے اخراجات جیسے ٹیوشن فیس، یونیفارم، اور کتابیں برداشت نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے بچے مجبوراً کام کرنے یا گھر پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ صورتحال اگرچہ انتہائی پریشان کن ہے، لیکن اب اس کا ایک حل موجود ہے — ڈیجیٹل اسکلز اور فری لانسنگ۔
خوشخبری: ڈیجیٹل ہنر آپ کی کامیابی کی کنجی ہیں
فری لانسنگ پاکستان میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق، پاکستان کے فری لانسرز کی سالانہ کمائی 642 ملین ڈالر سے بڑھ کر 959 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان اب دنیا کے ٹاپ فائیو فری لانسنگ ممالک میں شامل ہے، جہاں 3 ملین سے زائد ایکٹیو فری لانسرز کام کر رہے ہیں۔
آئی ٹی سیکٹر کی ایکسپورٹس 3.38 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جس میں فری لانسرز کا 856 ملین ڈالر کا کردار ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ اگر آپ کے پاس صحیح اسکل ہے تو آپ دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر کمائی کر سکتے ہیں — چاہے آپ کے پاس 10ویں یا 12ویں کی ڈگری ہو یا نہ ہو۔
مفت اور قابلِ اعتماد وسائل سے سیکھیں
1. DigiSkills Pakistan (https://t.co/Xy3Pnxcesc) — گورنمنٹ آف پاکستان کا مفت پروگرام
یہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا فلیگ شپ پروگرام ہے جو مکمل طور پر مفت ہے۔ اب تک اس پروگرام میں 4.87 ملین سے زائد انرولمنٹ ہو چکی ہے، اور اس کے فری لانسرز نے 1.65 بلین ڈالر کا زرمبادلہ کمایا ہے۔
دستیاب کورسز (18 کورسز):
Freelancing
Graphics Design
WordPress
Search Engine Optimization (SEO)
Digital Marketing
Virtual Assistant
Data Analytics & Business Intelligence
Artificial Intelligence with Python
UI/UX & Webflow
AutoCAD
QuickBooks
E-Commerce Management
اور بہت سے دیگر
رجسٹریشن:
https://t.co/y7LEyhthsE
2. Prime Minister Digital Youth Hub (PMYP Digital Youth Hub)
یہ پلیٹ فارم 18 سے 35 سال کے تمام پاکستانی شہریوں کے لیے مفت ہے۔ یہاں آپ کو AI-based کیریئر گائیڈنس، ٹیکنیکل ٹریننگ، انٹرن شپس، اور اسکالرشپس تک رسائی ملتی ہے۔
رجسٹریشن:
https://t.co/n2sjfBAAoJ
3. HEC DLSEI 3.0 — مفت Coursera لائسنس
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 30,000 مفت Coursera لائسنس جاری کیے ہیں، جس کے ذریعے آپ 18,000 سے زائد کورسز تک مفت رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
رجسٹریشن:
https://t.co/ZOFoPGcZhH
4. AI Seekho 2026 — Google کا مفت AI پروگرام
Google for Developers اور وزارت آئی ٹی کا مشترکہ پروگرام جو مکمل طور پر مفت ہے۔ اس میں Generative AI اور Vibe Coding سکھائی جاتی ہے۔
رجسٹریشن:
https://t.co/VQpAR3Zl09
6 ماہ کا حقیقت پسندانہ روڈ میپ — فری لانسنگ کے لیے مکمل گائیڈ
مہینہ 1-2: بنیادی مہارتیں اور پلیٹ فارم کا انتخاب
پہلے دو مہینوں میں ایک ہی اسکل کا انتخاب کریں اور اس پر مکمل فوکس کریں۔ مختلف اسکلز میں بکھرنے کے بجائے ایک اسکل میں مہارت حاصل کریں۔
انتخاب کے لیے بہترین اسکلز:
1. Graphics Design — Canva اور Figma سیکھیں
2. Web Development — WordPress یا MERN Stack
3. SEO & Digital Marketing — Google Ads اور Meta Ads
4. Data Analytics — Excel اور Power BI
5. AI with Python — مشین لرننگ اور آٹومیشن
وسائل:
https://t.co/Xy3Pnxcesc کا کورس مکمل کریں
YouTube پر مفت ٹیوٹوریلز دیکھیں
freeCodeCamp پر کوڈنگ کی پریکٹس کریں
مہینہ 3: پورٹ فولیو بنائیں
اب آپ کو اپنے سیکھے ہوئے ہنر کو عملی طور پر دکھانا ہے۔ 5 سے 10 کلائنٹ ریڈی پروجیکٹس بنائیں جو آپ کی مہارت کو ظاہر کریں۔
مثال:
گرافکس ڈیزائنر: 5 لوگو، 3 سوشل میڈیا پوسٹس، 1 برانڈ گائیڈ
ویب ڈویلپر: 3 مکمل ویب سائٹس
SEO ماہر: 5 ویب سائٹس کی آڈٹ رپورٹس
مہینہ 4: فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پروفائل بنائیں
اب آپ کو اپنی سروسز کو بیچنا ہے۔
میں ان دس چیزوں میں سے یا ساری کرچکا ہوں یا کرتا ہوں۔
حتی کہ شادی خانہء آبادی کا فیصلہ بھی اکیلے ہی کیا تھا۔ اور یہ الحمدللہ بہترین ثابت ہوا۔ ڈرا نہ کریں زندگی کے بڑے فیصلے اکیلے کیا کریں۔ آپ سے بہتر اپنے آپ کو کوئی نہیں جانتا۔
جمعہ کے روز مولوی صا حب مسجد میں رو رو کر دعا مانگ رہے تھے۔۔
"اے اللہ ہمارے حکمرانوں کو غیرت و شرم نصیب فرما۔۔ ساری دنیا میں مسلمانوں پر بڑا ظلم ہورہا ہے لیکن کسی کو غیرت نہیں آرہی"۔
"یا اللہ پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ کر دے"۔
"ہمارے روزے اور نمازیں قبول فرما"۔۔
"ہماری خیراتوں اور نزر و نیاز کے ذریعے رزق میں برکت فرما "
میں نے مولوی صاحب کے کان میں کہا۔ مولوی صاحب یہ دعائیں تو ہر کوئی روزانہ کرتا ہے۔ آج ذرا یہ دعا کرکے دیکھیں۔۔
"اے اللہ مسلمانوں میں فرقے پیدا کر کے اپنی اپنی مسجدیں بنانے والوں کے ہاتھ توڑ دے "
"اے اللہ جو مسلک کے نام پر جتھے بناتے ہیں، لوگوں کو ڈراتے ہیں، مذہب کے نام پر چندے اکٹھے کرتے ہیں، بد معاشی کرتے ہیں، یااللہ ان کو تباہ و برباد کر دے"
"اے اللہ غیر قانونی ھاؤسنگ سوسائٹی بنا کر جعلی فائلیں بیچنے والوں پر غضب نازل فرما"۔۔ یا اللہ مسجد میں جتنے فراڈیے پراپرٹی ڈیلر بیٹھے ہیں، یااللہ ان سب کے اپنڈکس پھاڑ دے "۔
"اے اللہ ہمارے علاقے کے تھانے کا ایس ایچ او رشوت لیتا ہے اور عوام کی خدمت کے بجائے ایم این اے کا ذاتی نوکر بنا ہوا ہے۔ اے اللہ ان بیغیرت پولیس والوں اور کرپٹ ایم این اے کو ہتھکڑیاں لگوا "
"اے اللہ اس محفل میں بیٹھے نمازیوں میں جو جو اپنی بہنوں کی جائیدادیں کھا گئے ہیں ان پر لع نت فرما "
"اے اللہ آج جمعہ پڑھنے والوں میں جو دکاندار کم تولتے، ملاوٹ کرتے ہیں ان کی دکانوں کو تالے لگوا دے"
"اے اللہ حاضرین میں سے جو گلی محلے میں کوڑا پھینکتے ہیں ان کے نکاح فاسق کر دے "
"اے اللہ جو قاری بچوں کو سبق پڑھاتے تشدد کرتا یا بچوں کا ذہنی و جنسی استحصال کرتا ہے اس کے سودے پر فالج گرا دے "
یا اللہ ایتھے میرے سمیت تقریبا سارے ای یک نیں، اینہاں ساریاں بیغیرتاں نوں برباد کر دے!!
بس پھر مولوی صاحب کے شٹے ٹاٹ ہو گئے۔۔🥴
آصف وڑائچ
مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے:
"AI کیسے سیکھیں؟ کون سا کورس کریں؟ کون سا استاد ڈھونڈیں؟"
میرا جواب ہمیشہ ایک ہوتا ہے:
کوئی کورس نہیں، کوئی استاد نہیں۔
AI خود ہی آپ کا بہترین استاد ہے۔
لیکن پہلے ایک غلط فہمی دور کر دوں:
AI صرف تصویریں بنانے، میمز بنانے یا ای میل لکھوانے کا نام نہیں۔
AI سے یہ بھی ہوتا ہے:
🔹 مکمل ویب سائٹ یا ای کامرس اسٹور — منٹوں میں
🔹 پراڈکٹ ڈویلپمنٹ — آئیڈیا سے پروٹوٹائپ تک
🔹 کوڈنگ — بغیر کسی پروگرامنگ نالج کے
🔹 مارکیٹنگ اسٹریٹیجی
🔹 بزنس آٹو میشن— کام آپ کریں، AI چلائے
یہ سنجیدہ کاروبار ہے — کھیل نہیں۔
اور اسے سیکھنے کا طریقہ بھی سادہ ہے:
🔹 کوئی بھی فیلڈ چنیں جس میں دلچسپی ہو
🔹 AI سے پوچھتے جائیں
"یہ کیسے کروں؟"
"یہ سمجھ نہیں آیا، دوبارہ سمجھاؤ"
"اب اگلا قدم کیا ہے؟"
🔹 AI آپ کی رفتار سے چلے گا
نہ جھڑکے گا، نہ تھکے گا، نہ فیس مانگے گا
🔹 غلطی کریں، پھر پوچھیں
سیکھنے کا یہی راستہ ہے
سب سے بڑی رکاوٹ کورس یا استاد نہیں ہے۔
سب سے بڑی رکاوٹ پہلا سوال نہ پوچھنا ہے۔
آج ہی Claude، ChatGPT ،Gemini، Copilot کھولیں۔
اور پوچھیں: "مجھے فلاں فیلڈ میں کہاں سے شروع کرنا چاہیے؟"
بس — استاد مل گیا۔
آج پہلا سوال پوچھیں
شریعت نے کوئی ایسا سسٹم متعارف نہیں کرایا کہ آپ ساری زندگی نہ قرآن کھولیں نہ سمجھیں نہ عمل کریں اور آپکے مرنے پر لوگ دو ہزار قرآن میت کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دیں
مراثی نے دو شادیاں کر لیں خرچہ اُس سے ایک کا بھی پورا نہیں ہوتا تھا
پھر دوسری کے آنے پر وہ دونوں مل کر اُسے بالوں سے پکڑ کر گھوماتی اور
اُسے خرچہ نا دینے پر اچھا خاصا پھینٹا لگاتیں،
ایک دن مراثی تنگ آکر جنگل کی طرف خودکشی کرنے نکل پڑا تو جیسے ہی وہ اپنا خاتمہ کرنے لگا
جاری ہے👇
وہ کام جو لگتا ہو ناممکنات میں سے ہے اللہ کے کرم سے سورت یسین کے اس وظیفے سے ممکن ہوجاتا ہے ،میری فیملی میں یہ وظیفہ ہم اکثر پڑھتے ہیں ۔
صدق دل سے اللہ کریم کی بارگاہ میں اس طریقے سے سورت یسین پڑھیں ان شاءاللہ ہر مقصد پورا ہوگا ۔
گرمیوں کی چھٹیاں عزاب نہیں راحت
اسکولوں میں جلد ہونے والی موسم گرما کی تعطیلات کے باعث والدین خصوصاً۔ ماؤں کا بلڈ پریشر ہائی ہے،
پریشان نا ہوں اگر اس وقت کو مثبت انداز میں خرچ کیا جائے تو بچے اور والدین دونوں خوش رہیں گے ۔
والدین کے لئے چند تجاویز پیش کی جارہی ہیں ، جن پر عمل کر کے آپ گھریلو خانہ جنگی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔😆
گھر یا کمرے میں ہی بچوں کے لئے علیحدہ جگہ مختص کردیں، جہاں وہ کھل کر کھیل سکیں، اپنے کھلونے پھیلا سکیں، یا کوئی دیگر کام جو وہ کرنا چاہیں سکون کے ساتھ کرسکیں۔
دھیان رہے بچوں کے کھیل کے ٹائم پر انہیں ڈسٹرب ہرگز نا کریں، بار بار ڈسٹرب کرنے سے وہ چڑ جاتے ہیں اور بدتمیزی کرنے لگتےہیں۔
بچوں کا ٹائم ٹیبل سیٹ کردیں ، اسکول ہوم ورک ، ٹیوشن، سپارہ ، کھیل ، عبادت ، ٹی وی یا موبائل۔ ہر چیز کا ٹائم مقرر کریں،
بچوں کی عمر اور شوق کے مطابق انہیں چیزیں مہیا کردیں ، مثلآ فائن آرٹ کا شوق ہے تو رنگین کاغذ ، فارمک شیٹ اور دیگر سامان ،
عموماً بچیاں گڑیوں کا شوق رکھتی ہیں ، آپ انہیں گڑیا کے کپڑے اور دیگر سامان بنانا وغیرہ سکھا سکتی ہیں، یو ٹیوب پر ہر چیز موجود ہے ۔
انجینرنگ کا شوق ہے تو سیل بیٹری تاریں وغیرہ ۔
یہ صرف مثال ہے۔ آپ اپنے بچے کے رجحان کو مد نظر رکھیں۔
بچے جتنا زیادہ تعمیری کاموں میں مصروف رہیں گے، تنا انکے اور آپ کے لئے اچھا رہے گا۔
باغبانی کی طرف راغب کریں،۔ گھر میں پھول پودے ، سبزیاں پھل وغیرہ لگائیں اور انکی دیکھ بھال کی زمہ داری بچوں کے ہی سپرد کریں ۔
کسی کورس میں ایڈمیشن کروادیں، کوکنگ ، سلائی ، کمپیوٹر ، کراٹے، لینگویج ، خطاطی ، ڈرائنگ ایسے بے شمار کورسز ہیں جو آن لائن بھی کروائے جاتے ہیں ، بچوں کو لازما کچھ نا کچھ نیا سکھائیں ۔
گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی عادت ڈالیں،
انکا کمرہ، الماری ، کھلونے اور دوسری چیزوں کو حفاظت اور اہتمام سے رکھنا انکے ہی سپرد کریں،
یاد رکھیں۔ بچوں میں احساس زمہ داری پیدا کرنا ازحد ضروری ہوتا ہے ۔
بازار سے دینی ، معلوماتی اور عمدہ کتابیں انکے لئے ضرور خرید لائیں ، کتاب بینی کا شوق انکے علم و اخلاق میں بھی اضافہ کرے گا اور موبائل کی لت بھی۔ چھڑا دے گا ۔
صبح جلدی اٹھنے کی ہی عادت ڈالے رکھیں ، بہت سے گھروں میں بچے دوپہر تک پڑے سوئے رہتے ہیں ، اس سے عقل اور جسم دونوں ہی کمزور ہوجاتے ہیں، عادتیں الگ بگڑ جاتی ہیں، انہیں ایکٹو اور تندرست ہی رہنے دیں ۔
عبادت کا خاص خیال رکھیں، وقت پر نماز اور تلاوت قرآن مجید کی باقاعدگی کی عادت ڈالیں۔
ان باتوں پر عمل کرکے چھٹیاں بچوں اور بڑوں سب کے لئے زحمت کی بجائے رحمت بن جائیں گی انشاء اللہ ۔
پوسٹ اچھی لگے تو شئیر یا کاپی پیسٹ کردیں ۔دوسروں کا بھی بھلا کریں۔☺️ شکریہ
گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔
گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا،
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا،
چٹائی بچھائی جاتی اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.
پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
رات کو آسمان کے تارے دیکھتے دیکھتے نیند آ جاتی۔
کبھی آنکھ کھلتی تو آسمان پر جہاز کی روشنی نظر آتی،
یا کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی چمک —
اور پھر صبح ہو جاتی۔
تب کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ شور ہے تو سائلنٹ روم ہونا چاہیے،
گرمی ہے تو اے سی چاہیے،
صبح روشنی ہوتی ہے تو بلائنڈرز چاہئیں۔
وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔
ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔
اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
خاموشی ہے،
اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔
مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی۔"
کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
ہماری لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا ہے؟
پانچ علماء کی کتب کا مطالعہ کرنے سے غبی طالب علم بھی ذہین ہو جائے گا۔
حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری رح فرمایا کرتے تھے، میں نے اپنے اساتذہ سے سنا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن رح نے ارشاد فرمایا، چار علماء ایسے ہیں جن کی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرنے اور ان سے علمی مزاولت (شغف) رکھنے سے غبی طالب علم بھی ذہین ہو جاتا ہے، وہ چار شخصیات یہ ہیں
۱، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح
۲، مجد الف ثانی رح
۳، امام غزالی رح
۴، شیخ ابن عربی رض
اس کے بعد شیخ الہند رح نے فرمایا کہ میں اس فہرست میں پانچویں شخصیت کا اضافہ کرتا ہوں، اور وہ ہیں حضرت الاستاذ، حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح۔
مفتی سعید احمد پالنپوری رح فرماتے ہیں، یہ سن کر میں نے سوچا کہ میں ان پانچوں اکابر کی تمام کتابیں تو خرید نہیں سکتا، کیونکہ ہمارے طالب علمی کے دور میں یہ کتب عام دستیاب نہیں تھیں اور نہ ہی مجھ میں انہیں خریدنے کی مالی استطاعت تھی، اس لیے میں نے ان میں سے دو بزرگوں کی کتابوں سے خاص تعلق استوار کیا، پہلے حضرت نانوتوی رح، جن کی پہلی کتاب “ توفیق الکلام فی الانصات خلف الامام” میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں محض چھ پیسے میں خریدی تھی، اور دوسرے شاہ ولی اللہ رح جن کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں نے مشکوٰۃ شریف کے سال حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری طیب صاحب رح سے پڑھی تھی۔
چنانچہ اس علمی شغف کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ آگے چل کر مفتی سعید احمد پالنپوری رح نے شاہ ولی اللہ رح کی اسی “حجۃ اللہ البالغہ” کی ایسی بے مثال اور مفصل اردو شرح “ رحمۃ اللہ الواسعۃ” کے نام سے لکھی، جس کے بارے میں اکابر اہل علم فرماتے ہیں کہ مفتی صاحب رح نے اس کتاب کی شرح کا حق ادا کر دیا، اور عصرِ حاضر میں اب تک کسی نے حجۃ اللہ البالغہ کی ایسی محققانہ شرح نہیں لکھی۔
امام عطاء اللہ خان۔
اے معجزات کے رب ،اے وہ ذات جس کا امر (حکم) 'کاف' اور 'نون' (کُن) کے درمیان ہے۔ میری ناممکن ترین خواہشات کے لیے بھی فرما دے کہ "کُن " تاکہ وہ پوری ہو جائیں۔
اے اللہ میرے دل کو ڈھارس دینے، میری تسلی کرنے اور میری تقدیروں کو بہترین تقدیر میں بدلنے کے لیے مجھے اپنی قدرت کے عجائب دکھا دے۔
اے میرے پروردگار زمین کے سارے اسباب ختم ہو چکے ہیں اور میں عاجز آ گیا ہوں، پس تو آسمانی اسباب کے ساتھ میری مدد فرما۔ اور میرے لیے وہ دروازے کھول دے جن کے بارے میں مَیں نے سوچا تھا کہ وہ کبھی نہیں کھلیں گے۔
اے اللہ میرا دل تیری طرف سے کسی خوشخبری کا منتظر ہے، پس مجھے اس خوشی کے آنسو کی لذت سے محروم نہ کرنا جو مجھے زندگی کی چکھی ہوئی ہر کڑواہٹ بھلا دے۔
خفیہ رشتے آسان لگتے ہیں… مگر نکاح ناممکن؟ معاشرے نے حلال کو حرام سے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ مہنگی شادیاں، لامتناہی تاخیریں، ناممکن شرائط — جبکہ تنہائی اور گناہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ اللہ نے نکاح سکون اور رحمت کے لیے آسان بنایا (سورۃ الروم ۳۰:۲۱)۔
۔ مکمل ویڈیو دیکھیں
ہماری سوسائٹی کا ایک ایسا ناسور جس پر بات کرنے سے ہم سب کتراتے ہیں،
وہ ہے نکاح کی مقدس چادر کے سائے میں پنپنے والے ناجائز تعلقات۔
ہم ہمیشہ مرد کی بے وفائی پر تو چیختے ہیں، لیکن جب ایک عورت اس اندھی کھائی میں گرتی ہے،
تو اس کے پیچھے چھپی تلخ حقیقتیں کیا ہوتی ہیں؟
یہ تعلق راتوں رات نہیں بنتے۔ جب ایک عورت کو اپنے ہی گھر میں جذباتی اور نفسیاتی طور پر تنہا چھوڑ دیا جائے، جب اسے اپنے جائز حق، قربت، وقت اور توجہ کے لیے بھکاری بننا پڑے، تو وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔
اور پھر… کسی غیر مرد کی ایک جھوٹی ہمدردی، تعریف کا ایک جملہ اور واٹس ایپ پر ملنے والی تھوڑی سی توجہ اسے وہ سراب دکھاتی ہے جسے وہ 'محبت' سمجھ بیٹھتی ہے۔ وہ لمحاتی کشش میں یہ بھول جاتی ہے کہ جو مرد اسے اس کے اپنے آنگن سے بغاوت پر اکسا رہا ہے، وہ اس کی عزت کا محافظ کبھی نہیں بن سکتا۔
یہاں سے شروع ہوتا ہے موبائل سکرینوں پر چھپ کر ہونے والی باتوں، ڈیلیٹ کی جانے والی چیٹس، اور جھوٹ کا وہ گھناؤنا کھیل، جو بالآخر پورے خاندان کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
یہ کتنی خوفناک سچائی ہے کہ آج کل 'جسٹ فرینڈز'، 'ہمدرد' اور 'کولیگ' کے لبادے میں غیر مرد ان عورتوں کی جذباتی بھوک اور تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اور عورت اسے اپنی آزادی اور ماڈرن ہونے کی دلیل سمجھ لیتی ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ بغاوت کا یہ راستہ کبھی سکون نہیں دیتا۔
کسی غیر کی باتوں میں یا اس کے وعدوں میں پناہ ڈھونڈنا کوئی حل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو عورت کے اپنے وقار، اس کے ضمیر اور اس کی نسلوں کی رگوں میں اتر جاتا ہے۔ نکاح کے بعد کسی غیر مرد کی طرف اٹھنے والی نظر اور دل میں پیدا ہونے والا چور، دراصل اپنی ہی روح کا سودا ہے۔
ہمیں بحیثیت معاشرہ یہ سوچنا ہوگا کہ آخر ہمارے گھر اور رشتے اتنےہماری سوسائٹی کا ایک ایسا ناسور جس پر بات کرنے سے ہم سب کتراتے ہیں، وہ ہے نکاح کی مقدس چادر کے سائے میں پنپنے والے ناجائز تعلقات۔ ہم ہمیشہ مرد کی بے وفائی پر تو چیختے ہیں، لیکن جب ایک عورت اس اندھی کھائی میں گرتی ہے، تو اس کے پیچھے چھپی تلخ حقیقتیں کیا ہوتی ہیں؟
یہ تعلق راتوں رات نہیں بنتے۔ جب ایک عورت کو اپنے ہی گھر میں جذباتی اور نفسیاتی طور پر تنہا چھوڑ دیا جائے، جب اسے اپنے جائز حق، قربت، وقت اور توجہ کے لیے بھکاری بننا پڑے، تو وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔
اور پھر… کسی غیر مرد کی ایک جھوٹی ہمدردی، تعریف کا ایک جملہ اور واٹس ایپ پر ملنے والی تھوڑی سی توجہ اسے وہ سراب دکھاتی ہے جسے وہ 'محبت' سمجھ بیٹھتی ہے۔
وہ لمحاتی کشش میں یہ بھول جاتی ہے کہ جو مرد اسے اس کے اپنے آنگن سے بغاوت پر اکسا رہا ہے،
وہ اس کی عزت کا محافظ کبھی نہیں بن سکتا۔
یہاں سے شروع ہوتا ہے موبائل سکرینوں پر چھپ کر ہونے والی باتوں،
ڈیلیٹ کی جانے والی چیٹس، اور جھوٹ کا وہ گھناؤنا کھیل،
جو بالآخر پورے خاندان کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ یہ کتنی خوفناک سچائی ہے کہ آج کل
'جسٹ فرینڈز'،
'ہمدرد' اور 'کولیگ'
کے لبادے میں غیر مرد ان عورتوں کی جذباتی بھوک اور تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اور عورت اسے اپنی آزادی اور ماڈرن ہونے کی دلیل سمجھ لیتی ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ بغاوت کا یہ راستہ کبھی سکون نہیں دیتا۔ کسی غیر کی باتوں میں یا اس کے وعدوں میں پناہ ڈھونڈنا کوئی حل نہیں،
بلکہ یہ ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو عورت کے اپنے وقار، اس کے ضمیر اور اس کی نسلوں کی رگوں میں اتر جاتا ہے۔
نکاح کے بعد کسی غیر مرد کی طرف اٹھنے والی نظر اور دل میں پیدا ہونے والا چور، دراصل اپنی ہی روح کا سودا ہے
ہمیں بحیثیت معاشرہ یہ سوچنا ہوگا کہ آخر ہمارے گھر اور رشتے اتنے کھوکھلے کیوں ہو رہے ہیں کہ عورتوں کو گھر کے باہر پناہ اور توجہ ڈھونڈنی پڑ رہی ہے؟
اور دوسری طرف، عورت کو بھی یہ تلخ سچائی تسلیم کرنی ہوگی کہ غیر مرد کی وقتی توجہ کا یہ سستا نشہ،
اس کی پوری زندگی کی عزت اور تقدس کو خاک میں ملا دینے کے لیے کافی ہے۔ بے وفائی، چاہے مرد کی ہو یا عورت کی، یہ ایک ایسی دیمک ہے جس کا انجام صرف اور صرف تباہی ہے۔
کھوکھلے کیوں ہو رہے ہیں کہ عورتوں کو گھر کے باہر پناہ اور توجہ ڈھونڈنی پڑ رہی ہے؟
اور دوسری طرف، عورت کو بھی یہ تلخ سچائی تسلیم کرنی ہوگی کہ غیر مرد کی وقتی توجہ کا یہ سستا نشہ،
اس کی پوری زندگی کی عزت اور تقدس کو خاک میں ملا دینے کے لیے کافی ہے۔ بے وفائی، چاہے مرد کی ہو یا عورت کی،
یہ ایک ایسی دیمک ہے جس کا انجام صرف اور صرف تباہی ہے۔
ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھاناہے۔ حکومت یہ سکیم تاجر اور دکاندار تنظیموں کے نمائندوں کی مشاورت اور ان کے مطالبے پر لائی ہے۔ 20 کروڑ یا اس سے کم سالانہ فروخت والے دکاندار اس سکیم کا حصہ بن سکتے ہیں جس کے تحت دکاندار اپنی آمدن پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے۔ دکاندار ودہولڈنگ ٹیکس بھی ایڈجسٹ کر اسکیں گے البتہ یہ شرط لاگو ہوگی کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانے ہوں گے۔ اُردو اور علاقائی زبانوں میں ایک صفحے کا فارم بنایا گیا ہے جو سادہ موبائل ایپ کے ذریعے بھی جمع کرایا جا سکے گا۔ سکیم کا حصہ بننے والے دکاندار کو ایف بی آر کی طرف سے رجسٹریشن پلیٹ ملے گی جو وہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کرے گا۔ اس پلیٹ کی موجودگی میں کوئی ٹیکس اہلکار جانچ پڑتال کے لیے دکان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ سکیم کا اُردو میں سادہ فارم، ایف بی آر کی پلیٹ اور اس سکیم کی دیگر تفصیلات ٹویٹ کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔