ایک صاحب ہر ماہ صدقہ کرتے تھے۔
کافی رقم نکالتے تھے۔
ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے۔
لوگ ان کی سخاوت کی تعریف کرتے تھے۔
ایک دن ان کے ملازم نے تنخواہ میں معمولی اضافے کی درخواست کی۔
صاحب نے کہا:
"کمپنی کے حالات اچھے نہیں۔ ابھی ممکن نہیں۔"
اسی شام وہ ایک غریب خاندان کو بڑی رقم دے کر آئے۔
یہ دیکھ کر مجھے ایک سوال نے روک لیا:
کیا ہم کبھی دور کے لوگوں کے ساتھ اتنے مہربان ہوجاتے ہیں کہ قریب کے لوگوں کے حقوق بھول جاتے ہیں؟
کسی اجنبی کو کھانا کھلانا آسان ہے۔
اپنے گھر کے فرد کے ساتھ اچھا اخلاق رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
کسی غریب کو صدقہ دینا آسان ہے۔
اپنے ملازم کو اس کا جائز حق دینا کبھی کبھی مشکل لگتا ہے۔
کسی مسجد کے لیے چندہ دینا آسان ہے۔
گھر میں کسی ضرورت مند رشتے دار کی مستقل مدد کرنا مشکل لگ سکتی ہے۔
حالانکہ اسلام نے صرف عمومی نیکی نہیں سکھائی،
بلکہ حقوق کی ترتیب بھی سمجھائی ہے۔
جو لوگ ہمارے اختیار میں ہیں، ان کے حقوق بھی ہماری ذمہ داری ہیں۔
نیکی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم وہاں خرچ کریں جہاں لوگ ہمیں نیک کہیں۔
کبھی اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں ہماری نیکی کی کوئی تصویر نہیں بنتی۔
جہاں کوئی تالیاں نہیں بجاتا۔
جہاں کوئی تعریف نہیں کرتا۔
اور جہاں صرف اللہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا کیا۔
کبھی اپنے صدقے سے پہلے اپنے ذمے کے حقوق کا حساب بھی کر لیا کریں۔
ممکن ہے جس حق کو ہم نے "بعد میں" کے لیے رکھا ہے، وہی ہماری آج کی سب سے بڑی ذمہ داری ہو۔
حکومت کے بڑے بڑے فیصلے کرنے والے زرا غور سے اس ہونہار نوجوان آئی ٹی اسپلیشٹ کی زبان سے سننیں IT فری لانسر پر کیا گزر رہی ہے شہباز شریف صاحب آپکی حکومت نے انٹرنیٹ سروسز پر پابندی لگا کر پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری سے جڑے نوجوانوں کے مستقبل کا بیڑا غرق کردیا ہے پاکستان کو لا متناہی نقصان پہنچ رہا ہے
افغانستان میں ریلوے ٹریک چاءینہ کی مدد سے بچھایا جا رہا ہے ،
اس سے پہلے کبھی ریل کی پٹری اتنی تیز رفتاری سے نہیں ڈالی گئی ۔
صرف چند ماہ میں تقریبآ500 کلو میٹر تک ٹریک بچھا دیا ��ائےگا ۔