ساری زندگی ہمیں یہی منجن بیچا گیا کہ شیعہ کافر ہے، مگر شیعہ تنہا طاغوت سے لڑتا رہا اور مسلمان طاغوت کے ساتھ ناشتے کی سیلفی لگاتا رہا۔
اللہ ہمیں ایسے تکفیری ملاؤں کے شر سے بچائے۔ آمین۔
انا للّٰه و انا الیه راجعون
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجالٌ صَدَقُوا ما عاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَ ما بَدَّلُوا تَبْدِيلاً
(مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے (یعنی جامِ شہادت نوش کر چکے)، اور کچھ انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرّہ برابر بھی تبدیلی نہیں کی۔)
عجیب مذاق ہے۔
پُورے کا پُورا PIA جو بِکا ہے اُس کی قیمت میں سے فقط 10 ارب رُوپے حُکومت کو ملے ہیں اور جس میں 18 کام کرنے والے جہاز شامل ہیں۔۔
اور اسی مَلک میں ہمارا یہ حال ہے کہ پنجاب حکومت نے 11 ارب روپے کا فقط ایک جہاز خرید لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس ملک کا نظام کب بدلے گا ؟
بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کے گھر پر پنجاب کی فارم 47 کی پیداوار فسطائی ٹولہ اور ان کے ہینڈلرز کی جانب سے کی گئی پولیس گردی، چادر اور چار دیواری کی پامالی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ اقدام ایک سیاسی مخالف کے گھر پر ن لیگ کی فسطائی حکومت کی سرپرستی میں کیا گیا وحشیانہ حملہ ہے، جو محض ایک فرد یا خاندان پر نہیں بلکہ آئینِ پاکستان، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار پر براہِ راست وار ہے۔ یہ سب اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران ٹولہ اخلاقی، سیاسی اور آئینی طور پر مکمل دیوالیہ ہو چکا ہے۔
یاد رکھیں! مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا اٹل اور ابدی فرمان ہے کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں۔ جب ریاست خود جبر، انتقام اور ناانصافی کی علامت بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔ بزرگ، بیمار اور باوقار سیاسی شخصیت کے گھرپر دھاوا بولنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ بوکھلاہٹ، خوف اور اخلاقی شکست کا کھلا اعلان ہے۔
یہ فسطائیت، یہ جبر اور یہ دہشت گردی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ایوان ہمیشہ ملبے کا ڈھیر بنے ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومنے میں دیر نہیں لگتی، اور جب یہ گھومتا ہے تو نہ فارم 47 کام آتا ہے، نہ ہینڈلرز بچا پاتے ہیں اور نہ ہی اقتدار کا نشہ باقی رہتا ہے۔ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں حساب ہوگا، اور ضرور ہوگا۔
60 fires in shopping malls in 7 years. SIXTY. And Karachi’s administration didn’t learn anything, didn’t improve safety measures, didn’t reconstruct anything basically did what they always do: nothing and let the people suffer. The Gul Plaza fire the criminal result of this govt
جنید صفدر کی شادی پر انواع و اقسام کی نمکین اور میٹھی ڈشز۔
جبکہ دوسرے ون ڈش کا اصول اپنائیں، ورنہ کریک ڈاؤن اور گرفتاری کی دھمکیاں۔
کیسی منافقت ہے بھئی۔ حد ہے ویسے۔
لاہور کے ایک معروف شاپنگ سینٹر pace میں میرا ایک جاننے والا گھڑیاں، پرس ، بیلٹس وغیرہ کا سٹال لگاتا تھا
جتنی جگہ اس کے پاس تھی
اس کی قیمت پچاس لاکھ سے زیادہ تھی
پیس کو ایک طاقتور شخصیت کے لڑکوں نے آگ لگا دی ، پورا شاپنگ سینٹر جل گیا
ساری دکانوں میں پڑا اربوں روپے کا سامان راکھ ہو گیا، سینکڑوں دکاندار بیٹھے بیٹھے برباد ہو گئے
اور وہ سٹال لگانے والا مجھے ایک دن شاپنگ پلازہ کے صحن میں ایک پھٹے پہ تھوڑا سا سامان لگائے نظر آیا
میں اس کے پاس گیا تو گلے لگ کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رویا
کچھ ماہ تک اس کا باقاعدہ خیال بھی رکھا
پھر وہ اچانک غائب ہو گیا
اور دوبارہ اس کی کوئی خبر نہیں
یہ پلازے اور دوکانیں جلنا ہمارے لئے محض ایک خبر ہوتی ہے
مگر ہر دکان ہر سٹال کے پیچھے ایک پورا خاندان ہوتا ہے
جو اجڑ جاتا ہے
#گل_پلازہ
کیا آج اداکار سدھیر کی برسی یے؟ 52 برس پہلےایک اخباری دفتر سے شب دو بجے پنجاب یونیورسٹی کے لئےپیدل روانہ ہوتا ۔بعض اوقات راستے میں مل جاتے۔ ایک لفظ کہے بہے بغیر گاڑی کا اگلا دروازہ کھولتے۔ خاموشی سے گاڑی چلاتے منزل پہ چھوڑ آتے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔
پہلے ہی کوئی ساکھ ان لوگوں کی نہیں تھی۔ جو باقی تھی شادیوں پر اربوں روپے کے اخراجات اور گل پلازہ کے المناک سانحہ میں راکھ ہوئی۔ ان لوگوں پہ اسٹیبلشمنٹ تکیہ کئے بیٹھی ہے؟
بلوچستان کی گیس فوجی فاؤنڈیشن کو پانی سے بھی سستی دی جا رہی ہے۔ پیداواری لاگت کے محض 13 فیصد پر۔ یہ رعایت نہیں کھلی معاشی ناانصافی ہے۔ ماہر معاشیات قیصر بنگالی
یہ جس کی بھی سوچ ہے وہ نہ صرف ذہنی طو پر انتہائی گھٹیا بلکہ
قوم کے مستقبل کا دشمن عظیم ہے
ووٹ ڈالنے کی عمر 18سے بڑھا کر 25 کی جارہی ہے
وہ بھی آج کل کے زمانے میں
جب 22برس کے نوجوان بچے بچیاں ڈاکٹر بن جاتے ہیں
پی ایچ ڈی کر کے پروفیسر بن جاتے ہیں
18 برس کے بچے بچیاں شادیاں کرکے ماں باپ جیسی
ذمے دار حیثیت ہیں آجاتے ہیں
ڈروائینگ لائسنس لے کے کماؤ پوت بن کر والدین کا معاشی بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجاتے ہیں ،
مگر ووٹ دینے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ زمینی خداؤں کے حکم پر
ووٹ نہیں دیں گے
پی پی پی کے سینئر رکن قمر زماں کائرہ کے منہ سے
یہ سن کر صرف حیرت نہیں ان سے کراہت آئی
کہ ووٹ دینے کی عمر بڑھا دی جائے تو کوئی حرج نہیں
بلاول زرداری صرف 19 برس کی عمر میں پارٹی کے چئیر مین بن گئے اور غیر ملکی حکمرانوں کے ساتھ سرکاری مذاکرات کی میز پر بیٹھنے لگے تھے
خوشی ہوئی
کہ عمران خان نے کیسے کیسے نام نہاد جمہوریت پسندوں کو بے نقاب کردیا
ان کی اصل مکروہ چہرے عوام کو دکھا دئے