جیو نیوز کی رپورٹر دعا مرزا کا رپورٹنگ سٹائل چیک کریں😀
اہم خبر یہ ہے کہ اس بار مظاہرین کو منتشر نہیں گرفتار کیا جائے گا،پھینٹی بھی"تن"کر لگائی جائے گی۔
اس بار لانگ مارچ روکنے کے لیے 52 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہونگے جن میں سے 30 ہزار صرف اٹک پل پر تعینات ہونگے۔
بالکل ایسا ہی ہے، بطور حوالہ اس ایک کیس کی مثال دے رہا ہوں، یہ امیر کبیر Rapists کیخلاف CCD کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟
لاہور ماڈل ٹائون میں ایک ماہ قبل گھریلو ملازمہ کے ساتھ ایسا ہی افسوسناک واقعہ ہوا، گھریلو ملازمہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اسکا اسقاط حمل کروایا گیا اور وہ جان سے گئی۔ ملازمہ نے ویڈیو بیان میں مالک مکان کے بیٹے اور ملازم کو نامزد کیا لیکن چونکہ مالکان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا اور دبا کر امیر تھے لہذا CCD پاس سے بھی نہیں گزری۔۔۔
ہے ہمت CCD میں یہاں پولیس مقابلے کی؟
یہ ہے حکمرانوں کی احکامات کی اوقات۔۔۔۔
محترم سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ صاحب آج لاہور ہائیکورٹ تشریف لائے، انکے ساتھ پروٹوکول کیلئے ایک ڈی آئی جی سمیت مختلف پولیس افسران اور اہلکار بھی عدالت تشریف لائے۔ سی سی پی او لاہور آفس سے لاہور ہائیکورٹ کا فاصلہ شاید آدھا کلومیٹر ہوگا تاہم پروٹوکول پر آئے افسران کی گاڑیاں آن رکھنے، ای سی چلا کر رکھنے وغیرہ وغیرہ پر شاید پانی خرچ ہوتا ہے، اس لئے انہیں پرواہ نہیں، اگر حکومت اپنے سرکاری افسران کی پروٹوکول عیاشی پر کفایت شعاری نہیں کروا سکتی تو عوام پر پیرافورس کی شکل میں غنڈا گرد فورس مسلط کرنے کا کیا جواز ہے؟
محترم سی سی پی او صاحب اکیلے تشریف لے آتے، یا چلیں کم از کم متعلقہ ایس پی اور ایس ایچ او تین بندے بھی کافی تھے لیکن اتنی فوج ظفر موج کیوں؟
لاہور ہائیکورٹ کے سکیورٹی اسٹاف کو بھی نکال دیا جائے، پھر بھی پروٹوکول کیلئے افسر و اہلکار غیر ضروری ہیں۔۔۔
حکومت کی جاہلانہ پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ 3برس کے دوران پنجاب میں ایک بھی ایسا کسان دیکھنے کو نہیں ملے گا جس کو کسی ایک بھی فصل میں فائدہ ہوا ہے، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ کی حکومت کے آغاز پر گندم پالیسی کے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے آج تک کسان اٹھ نہیں سکا، نقصان در نقصان اٹھانے کے بعد مقروض در مقروض ہوتا جا رہا ہے، کسان مقامی سود خوروں سے قرضے لے لے کر دھنستے جا رہے ہیں اور ہمارے حکمرانوں، عدلیہ اور ریاست کو عیاشیوں کیلئے جہاز خریدنے، بلیو پاسپورٹس بنوانے، اے سی لگوانے، نئی گاڑیاں خریدنے، تنخواہوں اور مراعات میں ازخود اضافے کرنے، کرپشن اور لوٹ مار کرنے سے فرصت نہیں ہے۔۔۔
بے حس، بے شرم کہیں کے
گونگے، بہرے اور اندھے
ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری عدالتوں، ہماری حکومتوں، ہماری ریاست اور ہم سب سے بڑا بے شرم، بے حس، گونگا، بہرہ اور اندھا شاید دنیا کے کسی کونے میں بھی نہ ہو۔
سکھر کی گلان بھارو، 2 بچوں کی ماں نے تھانے پر پناہ لی کہ اس غیرت کے نام پر قتل کردیا جائے گا، آج عدالت میں پیشی کے موقعے پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
قدرت کے اصول کے تحت عدالتی تحویل سب سے زیادہ محفوظ جگہ سمجھی جاتی تھی، آج وہ بھی نہیں رہی، پولیس اسٹیشن پناہ گاہ سمجھے جاتے تھے، آج قتل گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ریاست ماں جیسی ہوتی تھی آج پنجاب میں شہریوں کو جنرل ڈائر کی طرز پر گولیاں مار کر قتل کیا جا رہا ہے، عدالتیں کبھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، ظلم اور ناانصافی کو روکنے کی جگہیں سمجھیں جاتی تھیں، آج اپنے اور تنخواہ دینے والے مالکوں کی پالتو جانور بنی دم ہلاتی زبان ہکلاتی نظر آ رہی ہیں۔
انہی وجوہات کی وجہ سے میں اور آپ، ہم سب اپنے اپنے جھوٹے سچے، نیک و بد مفادات، پسندیدگی اور ناپسندیدگی کی وجہ سے معاشرے میں گلان بھارو جیسی اپنی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کے قتل کیخلاف آواز نہیں اٹھاتے، ہر چند دن چند ماہ بعد ایسی ہی گلان بھارو غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے اور ہم سب گونگے بہرے اور اندھے بن کر آگے نکل جاتے ہیں۔
مجھے ہی دیکھ لیں، آج ابھی گلان بھارو کے قتل پر یہ دکھ بھری اور غصے بھری تحریر لکھ رہا ہوں، چند گھنٹے بعد اپنے کام، چند دن بعد مزید کاموں میں مصروف ہوں گا اور تب تک بھولا رہوں گا جب تک اگلی گلان بھارو کے قتل کی خبر نہ دیکھ لوں۔۔۔۔
ہم سب کتنے بے شرم اور بے حس ہو چکے ہیں، ہم سب۔۔۔۔
اگر تمام آئی پی پیز کے معاہدے قانون کے مطابق اس سال ختم ہو جائیں، جیسا کہ ان کے معاہدوں میں لکھا ہوا ہے، تو موجودہ گرمیاں مہنگی بجلی کی آخری گرمیاں ہیں۔ موجودہ بحران اس لئے پیدا کیا جا رہا ہے، تا کہ ان آئی پی پیز کے معاہدوں میں ناجائز توسیع کی جا سکے۔
📌واخان کوریڈور: پاکستان کا تاریخی گیٹ وے
واخان کوریڈور، جو نوآبادیاتی دور میں ایک بفر زون کے طور پر بنایا گیا تھا، آج بھی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے اور عسکریت پسندوں کے پاکستان، چین اور وسطی ایشیا میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ علاقہ تاریخی طور پر پاکستان سے جڑا رہا ہے، لیکن اب یہ خطے میں روابط کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ طالبان نے بھارت کو افغان تجارتی راستوں تک رسائی دے دی ہے، مگر پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اپنے تجارتی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے، پاکستان کو واخان پر قانونی یا اسٹریٹجک کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات پر غور کرنا ہوگا۔
موتیاں والیو۔۔
افغانستان سے
32 سکوائرکلومیٹر کا علاقہ لیکر
باڑ بھی لگا لی۔
ادھر پھول اگے ہوئے تھے
جو
"واخان"میں نہیں اگے ہوئے؟
"واخان"ول وی "تیان"پا لوو
میں نے کونسا"واخان"پٹے پر لکھوانا ہے۔
پاکستان کی Strategic depth ہی کے لیے"ترلے"ڈال رہا ہوں۔
(اسد آر چوہدری)
@OfficialDGISPR
حدیثِ کساء (چادر والی حدیث)
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا»
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ صبح کے وقت باہر نکلے اور آپ ﷺ نے سیاہ بالوں والی کڑھائی دار چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ پھر حسن بن علی آئے تو آپ ﷺ نے انہیں چادر میں داخل کر لیا، پھر حسین آئے وہ بھی اندر آ گئے، پھر فاطمہ آئیں آپ ﷺ نے انہیں بھی داخل کر لیا، پھر علی آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بھی چادر میں لے لیا اور فرمایا: "اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے۔"
• کتاب: صحیح مسلم | مصنف: امام مسلم | حدیث نمبر: 6261
سٹیٹ بینک ہر سال عید الفطر سے قبل ایک اعلامیہ جاری کرتا بینک نئے کرنسی نوٹ جاری نہیں کرینگا۔لیکن ہر سال لاہور کے سٹیٹ بینک کے باہر نئے نوٹ فروخت ہورہے ہوتے،وہ نوٹ کہاں سے آتے؟10 کی کاپی 1500 کی ملتی،20 کی 2500 سو،50 کی 5500 سو اور 100 والی کاپی 11 ہزار کی ملتی۔
پاکستان میں مسئلہ صرف مہنگائی نہیں، مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ ایک طرف عوام بجلی کے بل اور پٹرول کی قیمتوں میں پس رہے ہیں، دوسری طرف ہزاروں سرکاری گاڑیاں روزانہ کروڑوں روپے کا پٹرول جلا رہی ہیں۔
ایک غریب ملک میں حکمرانوں اور اشرافیہ کیلئے لگژری گاڑیاں، مفت پٹرول، سرکاری گھروں اور پروٹوکول کی فوجیں—یہ سب عوام کے ٹیکس سے چل رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ملک غریب کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ اس ملک کو غریب رکھا کیوں جا رہا ہ
اب مہنگا تیل خریدنے کے لیے پیسے نہی ہیں آمدن سے زیادہ ہم نے خرچے پھیلا رکھے ہیں ہر بڑے عہدے دار نے اپنا الگ ذاتی وی آئی پی طیارہ رکھا ہوا ہر رکن اسمبلی کو مفت بزنس ٹکٹ چاہیں ہر ریٹار ڈ جج کو دو ہزار یونٹ بجلی پانچ سو لیٹر مفت پیٹرول چاہیے ہر وزیر کو دس دس گاڑیوں کا پروٹوکول چاہیے اور ان سب کی مجموعی کارکردگی یہ کہ تیل خریدنے کے پیسے نہی قرض مانگنا پڑتا ہے