عطااللہ تارڑ نے سب کو صالح ظافر سمجھا ہوا ہے کہ وہ حکومت کی مرضی کا سوال کرینگے، فنانس جرنلسٹس کا من پسند لوگوں سے مرضی کے سوالات کرانے پر بائیکاٹ، جاتے جاتے آئینہ بھی دکھا گئے کہ فنانس منسٹری کی بریفنگ میں انفارمیشن منسٹر کا کیا کام ؟؟
اپنے گھر یا آفس میں بیٹھ کر پنجاب گورنمنٹ کا ای اسٹامپ پیپر خود پرنٹ کرنے کا طریقہ (بیانِ حلفی 300 روپے والا):
سب سے پہلے PLRA کی ویب سائٹ اوپن کریں۔
وہاں موجود Get an e-Stamp کے آپشن پر کلک کریں۔
اس کے بعد Challan Form (Low Denomination) کو اوپن کریں۔
فارم میں مطلوبہ تمام تفصیلات درست طریقے سے درج کریں۔
فارم مکمل کرنے کے بعد اسے Save کر لیں، اس سے آپ کا چالان تیار ہو جائے گا۔
اب اس چالان کو Easypaisa / JazzCash یا کسی بینک کے ذریعے جمع کروا دیں۔
چالان جمع ہونے کے بعد دوبارہ ویب سائٹ پر جا کر Download Stamp Paper کے آپشن پر کلک کریں۔
وہاں Challan Number / PSID درج کریں۔
جو موبائل نمبر آپ نے فارم میں دیا تھا، اس پر Stamp Number آئے گا، اسے بھی درج کریں۔
اس کے بعد اپنا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر لکھیں۔
پھر Download Stamp پر کلک کریں۔
آخر میں ایک Password / OTP مانگا جائے گا، جو آپ کے موبائل پر آئے گا۔ اسے درج کرنے کے بعد e-Stamp Paper ڈاؤن لوڈ ہو جائے گا اور آپ اسے پرنٹ کر سکتے ہیں۔
نیٹ ورک کمپنیاں فراڈ مافیا بن چکی ہیں، چیئرمین پی ٹی اے کو کارکردگی دکھانی ہو گی ، تب تک اس مہم کو رکنا نہیں چاہیے، آپ ساتھ دیں
۔
۔
#ammarkhanyasir#focusmedia#PTA
حکومت پنجاب کا بیوہ خواتین کے لیے بڑا ریلیف پیکج!
حکومت پنجاب کی جانب سے "بیوہ سپورٹ کارڈ 2026" کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد مستحق بیوہ بہنوں اور ان کے بچوں کو مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔
پروگرام کی اہم خصوصیات:
مالی امداد: 1 لاکھ سے 1.5 لاکھ روپے تک کی یکمشت رقم۔
زندہ ترجیح:** بچوں والی بیوہ خواتین کو پہلے ترجیح دی جائے گی۔
شفاف نظام: زکوٰۃ فنڈ کے ذریعے بینک یا ATM سے براہ راست ادائیگی۔
آغاز: فروری 2026 کے آخر سے۔
*درخواست کا طریقہ:*
اپنی یونین کونسل میں موجود مقامی زکوٰۃ کمیٹی سے رابطہ کریں۔ اپنے اصل شناختی کارڈ اور شوہر کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کروائیں اور اپنا کارڈ بنوائیں۔
یاد رکھیں: درخواست بالکل مفت ہے، کسی کو کوئی فیس نہ دیں!
آج ہی اپنے قریبی یونین کونسل آفس جائیں اور اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔
اس پیغام کو شیئر کریں تاکہ کسی ضرورت مند تک یہ معلومات پہنچ سکے۔
ان کمپنیوں کی چوری اور پھر اس پہ سینہ زوری کے خلاف مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ دن بدن ریٹ بڑھتے جا رہے ہیں اور سروس بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ پی ٹی اے چیئرمین میجر جنرل ر حفیظ الرحمان اور انکی ٹیم ستو پی کر سو رہی ہے شاید
پاکستان میں سیلولر کمپنیاں پی ٹی اے کی ملی بھگت یا آنکھیں بند رکھنے کی وجہ سے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں عام آدمی کے نمبر پر خودساختہ ڈیلی پیکیجز ایکٹو کر دئیے جاتے ہیں بیلنس لوڈ کرنے کے بعد اکثر بیلنس چیک کریں تو زیرہ ملتا ہے ہیلپ لائن میں کوئی شنوائی نہیں ظلم کی انتہا
پاکستان میں jazz, zong, telenor, ufone سمیت تمام نیٹ ورک کمپنیاں عوام کی کھال ادھیڑنے میں لگی ہیں، ہر مہینے پیکجز کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے اس پہ مستزاد نت نئے پیکجز خودکار سسٹم سے لگا کر چپکے سے بیلنس کاٹ لیا جاتا ہے ، PTA جو ریگولیٹری اتھارٹی ہے وہ اس حوالے سے بالکل خاموش ہے، چیئرمین PTA میجر جنرل ر حفیظ الرحمان صاحب سے گزارش ہے کہ خدارا فوری نوٹس لے کر کمپنیوں کو شفاف اور منصفانہ پالیسی کا پابند بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
ایس ایچ او کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار
پولیس کو درخواستوں میں “بخدمت جناب SHO” لکھنے پر پابندی، نوآبادیاتی سوچ مسترد، فیصلہ سپریم کورٹ
عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ، SHO عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں، فیصلہ سپریم کورٹ
اب SHO کو صرف “جناب SHO” لکھا جائے گا، پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے۔ فیصلہ سپریم کورٹ
ایف آئی آر FIR درج کروانے والا شہری “اطلاع دہندہ” ہوگا، شکایت کنندہ نہیں، فیصلہ سپریم کورٹ
“کمپلیننٹ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود، فیصلہ سپریم کورٹ
پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ بھی ممنوع قرار، فیصلہ سپریم کورٹ
“فریادی” رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں، فیصلہ سپریم کورٹ
ایف آئی آر FIR کے اندراج میں تاخیر ناقابلِ قبول، پولیس افسران کو سخت وارننگ فیصلہ سپریم کورٹ
ایف آئی آر FIR میں تاخیر پر PPC 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے، فیصلہ سپریم کورٹ
ایف آئی آر FIR میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ، فیصلہ سپریم کورٹ
تاریخی فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا فیصلہ سپریم کورٹ
جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر عدالت کی واضح ہدایات، فیصلہ سپریم کورٹ
پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی ضروری ہے۔ فیصلہ سپریم کورٹ
فیصلہ 30 جنوری 2026 کو سنایا گیا، فیصلہ سپریم کورٹ
بی آئی ایس پی کے تحت رجسٹرڈ خواتین مفت سم حاصل کرنے اور سوشل پروٹیکشن والٹ کھلوانے کے لیے کسی بھی قریبی بی آئی ایس پی کے دفتر یا کیمپ سائٹس پرتشریف لائیں۔
✔ بینیفیشری کو بایومیٹرک تصدیق کے بعد مفت سم فراہم کی جائے گی۔
✔ اسی سم پر بی آئی ایس پی سوشل پروٹیکشن والٹ کھولا جائے گا
✔ مستقبل میں بی آئی ایس پی کی تمام اقساط، وظائف اور مالی امداد اسی والٹ کے ذریعے منتقل ہوں گے
یاد رکھیں!
یہ صرف ایک سم نہیں بلکہ آپ کا ڈیجیٹل بٹوہ ہے، اس کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔
#BISP #SocialProtectionWallet #مفت_سم #خواتین_کی_بااختیاری #BISPAlert
نجی تعلیمی ادارے والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے کتب، یونیفارم یا دیگر اشیاء خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتے، خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ والدین غیرقانونی عمل کی شکایت CRM پورٹل کے ذریعے درج کرائیں تاکہ قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔
https://t.co/Bhpj5tjVph