تاریخ گواہ ہے پاکستانیوں کا مرکز ثقل کبھی بھی کوئی انسان کا بچہ نہیں رہا۔ بھٹو خاندان شریف زادوں سےلے کر عمران خان جیسے چوتیوں کے پیچھے بھاگتے ہی ملے۔اس میں قصور ان حرام زادوں کا نہیں۔بلکہ ہمارے لوگوں کا اخلاقی معیار ہی اتنا ہے۔اس سے بہتر نہ یہ اپنے لیے سوچ سکتے نہ کرسکتے ہیں
عمران کے چوہے سوائے عوام کو شخصیت پرستی کے کچھ نہیں۔ دے رہے ۔۔۔ عوام تبتک غلام ہے جب تک کہ اسے سوچنے کے عمران خان نواز شریف یا زرداری کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ آج خان کے پیچھے کھڑی عوام بھی طوطے کی طرح وہی کچھ بولتی ہے جو عمران خان رٹواتا ہے یہ غلامی سے آزادی نہیں نئی غلامی کہتے ہیں