جیو نیوز آپ کی توجہ کی ایسی تیسی کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا لیکن دوستو ہمارا فوکس صرف 27 ستمبر کے پُرامن احتجاج اور کنٹینرز پر ہونا چاہیے۔
بہرحال بڑوں کی ہمیشہ عزت کیا کرو 😜😂
اگر اڈیالہ جیل میں عمران خان سے آپ کی ملاقات ہوجاتی ہے تو آپ اس لانگ مارچ کی کال کو واپس لے سکتے ہیں؟ سوال
”عمران خان صاحب بولے تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں، یہ لوگ اس لئے مجھے عمران خان سے ملنے نہیں دے رہے کیونکہ انکو پتہ ہے کہ عمران خان مجھے جو بھی ہدایت دیں گے، میں من و عن بلا جھجک اس پر عمل کروں گا۔ یہ لوگ اس لئے مجھے عمران خان سے ملنے نہیں دے رہے کیونکہ انکو پتہ ہے کہ یہ جیسے باہر ہے ویسے ہی اندر ہے مجھ میں دوغلا پن نہیں ہے، انہوں نے عمران خان سے ملنے نہیں دیا تو مجبوراً مجھے خود کال دینی پڑی،“- وزیراعلی @SohailAfridiISF
#LongMarchOnSeptember27th
تقریباً چالیس برسوں سے پاکستانی سیاست کے اتار چڑھاؤ کا عینی شاہد ہوں۔
بہت سے لیڈر آئے اور گئے لیکن عمران خان جیسا نڈر اور کبھی نہ ہار ماننے والا لیڈر نہیں دیکھا۔
پارٹی توڑ دی گئی، تمام پہلے اور دوسرے درجے کی لیڈرشپ کو جیل میں ڈال دیا گیا، جھوٹے اور بےبنیاد مقدموں میں پھنسایا گیا اور دھونس، تشدد، اغوا کاری اور غیر اخلاقی طور طریقوں سے اپنی مرضی کی سزائیں بھی دِلوا دیں، اعلیٰ عدالتوں کو استعمال کرکے انتخابی نشان بھی چھین لیا اور آزاد امیدواروں کو انتخابی مہم بھی چلانے نہیں دی گئی، میڈیا پر نام لینے پر بھی پابندی لگا دی اور اذیت پہنچانے اور ہمت توڑنے کے لیے نکاح بھی ختم کروا دیا، لیکن عجیب مردِ قلندر ہے! آج بھی نہ صرف ڈٹا ہوا ہے بلکہ جرأت کی لازوال داستان رقم کر رہا ہے۔
اپنے ہی ملک میں پابندِ سلاسل ہوتے ہوئے بھی اُن کو چیلنج کر رہا ہے جن کو زعم ہے کہ وہ نظام چلا رہے ہیں۔
میں آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں۔ اگر عمران خان زندہ سلامت رہا تو اُسے واپس آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
وقت کا پہیہ گھومتا ہے۔ وہ وقت شاید بہت دور بھی نہیں۔
سئنیر صحافی کامران رحمت