اگر آپ ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں تو پھر گاڑی دائیں مڑے کے بائیں، تیز چلے یا آہستہ، آپ کا اختیار نہیں۔۔۔ آپ ڈرائیور کے رحم وکرم پر ہیں۔۔۔ یہ اصول زندگی کے ہر شعبے میں قوموں کی حیات و ترقی میں موجود ہے۔
ہمت ہے تو ڈرائیونگ سیٹ پر آئیں نہیں تو ذلت برداشت کریں۔
تلاش، کھوئی عظمت کی ۔۔۔
آپ کی گزشتہ کامیابی، آنیوالی کامیابی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔ آج من حیث القوم ہمارا بھی یہی حال ہے، ماضی بعید کی روشن تاریخ کو سوچ سوچ کر آج بحر الکاہل اور سست الوجود بن گئے۔۔۔
تلاش ہے کھوئی عظمت، حوصلے ، جرات کی۔۔۔
کسی بھی گاڑی کے لئے پٹرول ضروری ہے ،لیکن کاڑی کا ایک پٹرول پمپ سے دوسرے پٹرول پمپ کے درمیان گھومتے رہنا مقصد وجود نہیں ، اسی طرح انسان کا اپنی ذاتی ضرورتوں کے محور میں ہی گردش کرنا ۔۔۔ کیا یہی مقصد زندگی ہے۔۔۔۔
تلاش ہے کھوئی ہوئی عظمت، حوصلے، جرات کی۔۔۔۔
پہلے قومیں جنگ جیت کر شکست خوردہ کو غلام بنا کر حکومت کرتی تھیں، آج ذہنوں پر کنٹرول کرکے، معاشرے میں موجود ضمیر فروش راھنماوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتی ہیں تاکہ ہدف بھی پورا ہو اور امن پسند مہذب ہونے کا بھرم بھی باقی رہے۔۔۔۔
تلاش ہے کھوئی ہوئی عظمت، جرات کی۔۔۔
جو لوگ اپنی عورتوں کی عزت کی خاطر پردہ پر زور دیتے ہوں، بری نظر سے بچاتے ہوں، وہی لوگ قوم کی عزت، حفاظت اور خودداری کو لیکر اتنے غافل ہیں کہ اپنی معیشت، صنعت، تجارت، کاروبار، میڈیا پر دوسروں کا قبضہ ہو اور ماتھے پر ایک شکن بھی نہ آئے ۔
تلاش ، کھوئی ہوئی جرات ، عظمت، عزت کی ۔۔۔
@TheSyedaSays آدھی رات بھی زماں و مکاں کے اعتبار سے ہر جگہ مختلف ہے۔ تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ الله تعالی دنیا میں ہر وقت کہیں نہ کہیں پہلے آسمان پر موجود ہوتے ہیں۔ آدھی رات سے فجر تک۔۔۔
انسان کی سوچ محدود ہے۔
الله تعالی کی ذات لامحدود۔۔۔۔ اسباب ، خزانے لامحدود۔۔۔۔
@TheSyedaSays الله تعالی کے لئے زماں و مکاں کے حساب سے لیلة القدر کا نزول کچھ مشکل تو نہیں۔ جب باری تعالی خود ہر آدھی رات سے فجر تک پہلے آسمان پر موجود ہوتے ہیں، پکارنے والے کی پکار سنتے ہیں۔۔۔۔رب العالمین کی حکمت ہے، ہمارا کام تلاش کرنا ہے، رسول الله صل الله علیہ وآلہ وسلم کے اقتداء میں۔
@irumrae کیا آپ پتنگ بازی کے لئے دھاتی ڈور استعمال کرتے ہیں جو کہ جان لیوا ہے؟ یہ اقدام قتل ہے، اسکے بارے میں ٹکٹاک، فون، اخبار، ٹیوی، وال چاکنگ، ریڈیو پیغام ، جمعہ خطبات، سب جگہ بتائیں۔۔۔ آگاہی سے اس گھناونے کھیل کو شکست دی جاسکتی ہے