| Civilian | Constitutionalist | Cutting through the noise with facts & perspective |
| Democracy, policy, and the pulse of our times |
| RT + Endorsement |
Man works as driver in Karachi - 12 hour shift
Salary is Rs 50,000
Three young children
Monthly school fees for all 3 at neighbourhood private school - Rs 8,000
Monthly tuition fees for children - Rs 9,000
Bijli bill (average) - Rs 8,000
Gas bill (average) - Rs 1,500
Food and kitchen expenses bought from local kiryana store on monthly credit - Rs 12,000
Lucky for him he lived in a flat that used to be his father’s so no rent had to be paid
Leaves around Rs 10,000 a month for savings/ emergency expenses
(Of course this also assumes that there are no other expenses to be made which is not usually the case)
میٹھائی کھلانے والے میرے محترم چاچو ذوالفقار علی ہیں۔ ان کا میرے والدِ گرامی کے ساتھ زمینوں کا ایک دیرینہ معاملہ چل رہا تھا۔ بارہا فون آتے تھے کہ کسی طرح یہ مسئلہ حل کرا دیا جائے۔
آج اللہ کے کرم سے ہم سب بیٹھے، مکمل حساب کتاب کیا، اور نہایت خوش اسلوبی سے معاملہ طے پا گیا۔ چاچو کی ایک کنال زمین ہمارے ذمے نکلتی تھی، جسے اسی وقت باقاعدہ طور پر ان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا۔ نہ کسی کچہری کے چکر لگانے پڑے، نہ پولیس کی ضرورت پیش آئی، اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کو بیچ میں لانا پڑا۔
اسی طرح ایک کزن کا بھی زمین سے متعلق دعویٰ تھا، وہ بھی باہمی گفتگو، اعتماد اور خلوصِ نیت سے چند لمحوں میں حل ہو گیا۔
حقیقت یہی ہے کہ اگر نیت صاف ہو، دل میں کھوٹ نہ ہو، اور رشتوں کی قدر باقی ہو تو بڑے سے بڑا تنازع بھی آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے میری سب سے یہی گزارش ہے کہ اپنے باہمی معاملات کو عدالتوں، تھانوں اور وکیلوں کے سپرد کرنے کے بجائے خود بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کریں۔ عدالتوں کے سالہا سال کے چکر اور لاکھوں روپے کی فیسیں اکثر صرف فاصلے بڑھاتی ہیں، جبکہ خلوص، برداشت اور انصاف چند لمحوں میں دل بھی جیت لیتے ہیں اور مسئلے بھی حل کر دیتے ہیں۔
والدِ محترم کا خصوصی شکریہ، جنہوں نے انتہائی فراخدلی، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بڑوں کے سایے سلامت رکھے اور ہمیں بھی رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ایک رکشہ چلانے والا کوئی پانچ سال پہلے کے ختم ہوئےمقدمے میں پنجاب پولیس کے ہتھے چڑ گیا۔پولیس اٹھا کر لے گئی، خاتون خانہ کو بتایا گیا کہ تمہارے شوہر کو ہاف فرائی کیا جائے گا یعنی ٹانگ میں گولی ماری جائے گی (پنجاب پولیس کی ٹانگ میں گولی مارنے کے لئے نئی ٹرم) اور پٹی کر کے جیل نجھوا دیا جائے گا،خاتون اپنے تین ننھے بچے لےکر تھانے گئی اور ایس ایچ او کے پیر پکڑ کر ترلہ منت کی کہ اسے گولی مت مارنا میرے بچے بے آسرا ہو جائیں گے ایس ایچ او نے کہا بی بی تیرے بچوں پر ترس کھا کر اسے چھوڑ رہا ہوں اور اس طرح ایس ایچ او نے 40 ہزار روپے کا ترس کھا کر خاتون کے شوہر کو بنا ”ہاف فرائی“کئے عدالت پیش کر دیا اور عدالت نے اسے جوڈیشل کر دیا ہے۔
ایسے ترس کھانے والے ستھرے محافظ اور ہوئے تو یہ ملک جنت بن جائے گا🙂
معلومات کے مطابق ذیشان خان روکھڑی ایک پروگرام سے 40 لاکھ جب کہ مہک ملک ایک ہفتہ میں 30 لاکھ کما لیتی ہے، کئی مشہور ٹک ٹاکرز ماہانہ 30،30 لاکھ کما رہے ہیں۔۔۔۔ دوسری طرف ایک عام تعلیم یافتہ نوجوان جس کے پاس ڈگریاں، تہذیب و اخلاق، سلیقہ سب کچھ ہو ایک ماہ میں 20 سے 50 ہزار کما رہا ہے۔۔ پڑھی لکھی لڑکیاں پرائیویٹ اسکولز میں 10 سے 15 ہزار تنخواہ پر پڑھا رہی ہیں۔۔ ہمارے معاشرے کی ترجیحات چیک کریں۔۔
درحقیقت، مسئلہ کسی کے رزق پر اعتراض کا نہیں بلکہ اس سماجی بگاڑ کا ہے جہاں شہرت کو علم پر اور نمائش کو کردار پر فوقیت دی جا رہی ہے۔۔۔ جب معاشرہ تالیوں کی گونج کو کتاب کی خاموشی سے زیادہ عزت دینے لگے تو نوجوان نسل قدرتی طور پر اسی راستے کا انتخاب کرتی ہے جہاں محنت کم اور صلہ زیادہ نظر آئے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے دربدر نہ پھریں تو ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ ایک قوم کے طور پر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تفریح دل بہلانے کے لیے تو ٹھیک ہےلیکن تہذیبیں علم، اخلاق اور استاد کی تکریم سے ہی پروان چڑھتی ہیں...!!
لوگ بہت مجبور ہیں ۔ایک کی کہانی سنو دوسرے کی اسکی سامنے ماند پڑ جاتی ہے۔ کسی نے بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنےہیں لیکن اس کے اپنے ہاتھ خالی ہیں، کسی کی تنخواہ چالیس ہزار ہے سارے خرچے پورے ہو گئے لیکن گھر کا اکلوتا پنکھا خراب ہے اسکے لئے کچھ نہیں بچا اب وہ بچوں کو گیلی چادریں اوڑھ دیتا ہے کہ گرمی نہ لگے، کسی کی روزگار کا واحد سہارا اسکی سلائی مشین تھی لیکن نشئی بیٹے نے وہ مشین بیچ کھائی ہے اور اب نوبت گھر میں فاقوں کی ہے، کسی نےبجلی کا بل بھرنا ہے لیکن پیسے دو وقت کی روٹی کے نہیں، کسی کی بیوی ڈلیوری کی منتظر ہے لیکن اسکے پاس اس دن کے لئے خرچے کا انتظام نہیں۔کوئی سڑک کے کنارے بیٹھا رو رہا ہے کہ دور دراز نوکری کے لئے آیا پیچھے سے باپ مر گیا۔ کوئی بی اے کی ڈگری لئے آئس کریم بیچ رہا ہے کہ کہیں نوکری نہیں ملی ، ہر کوئی کسی نہ کسی جنگ میں ہارا ہوا سپاہی ہے۔ دنیا بہت مجبور ہے اللہ ان مجبوروں کی مدد کرے ۔حکومتوں کے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے کے دعوے ان بے بسوں کی بے بسی کا مذاق اڑاتے ہیں۔
امیروں کے کروڑوں کے فلیٹس خطرے سے دوچار ہوئے تو وزیراعظم نے فورا احکامات جاری کر دئیے کہ مزید کوئی آپریشن نہیں ہو گا کمیٹی بیٹھ کر معاملہ سلجھائے گی۔۔۔ لیکن بری امام،سید پور ،بارہ کہو اور جی سیون میں غریب غربا کی بستیوں کی بستیاں مسمار ہو گئیں کوئی مدد کو نہ آیا ۔
کسی کے ایک آنسو سے ہزاروں دل تڑپتے ہیں
کسی کا عمر بھر رونا یونہی بیکار جاتا ہے
مجھے پٹرول پمپوں کےباہر جنجال پورے کی قطاریں آج تک سمجھ نہیں آئیں۔یہ قوم بارہ بجےسے پہلے ایسے دوڑیں لگاتی ہےجیسےپہلےتو پٹرول اونے پونے داموں بک رہاتھالیکن بارہ بجےکےبعدسونےکے بھاؤ ملے گا۔ یا پھرجیسےایک ٹنکی فل کرائی ہے تو وہ اسرافیل کےصورپھونکنے تک فراٹےبھرتی رہےگی۔عجیب
پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے کا اضافہ
پیٹرول کی نئی قیمت 399 روپے 56 پیسے
ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے کا اضافہ
ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے
If there is no change in pricing formula or taxes, diesel prices to increase by Rs119/L to Rs616/L
Diesel imported landed price (including premiums) is $322/bbl
Crude landed price is $165/bbl
The refinery margin (as 75% is refined locally) is $157/bbl or Rs275/L on diesel
یہ ایک عسکری بنک کی کہانی نہیں تمام بنک آفس بوائے کو 25 ھزار ماھانہ تنخواہ دے رھے ہیں جو حکومت کی خود مقرر کردہ 43 ھزار روپے ماھانہ سے نصف ھے ۔بنکوں کا سالانہ منافع ملاحظہ کریں اور یہ معاشی استحصال ۔
@Askari_Bank
سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری سالانہ بنیادوں پر 41 فیصد کم ہو کر 98 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہ گئی ہے‘ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم ایک ارب 66 کروڑ ڈالر تھا۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کے ساتھ ساتھ منافع کی بیرونِ ملک منتقلی میں 26 فیصد اضافہ بھی ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ایک ارب 67 کروڑ ڈالر سے زائد رقم منافع کی صورت میں بیرونِ ملک لے جائی جا چکی ہے۔ یہ دہرا دباؤ بیرونی کھاتے پر بوجھ بڑھا رہا ہے۔ ملک میں مجموعی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی تناسب مسلسل کم ہو رہا ہے۔ مالی سال 2022ء میں یہ شرح 15.6فیصد تھی جو اَب کم ہو کر 13.1فیصد تک آ گئی ہے: روزنامہ دنیا
سڑکیں تو بنوا لیں لیکن جو کام اٹارنی جنرل کا تھا وہ تو کر نہیں سکے ترمیموں کے بعد عدلیہ تہس سے نہس ہو گی جناب کو کچھ اثر ہوتا تو استعفی دے دیتے اٹارنی جنرل کو کر اگر سیاست کا شوق ہے تو اس عہدے کا خیال رکھیں استعفی دیں اور سیاست کر لیں ۔۔۔ اب کوئی جج اٹھے اور سڑکیں بنوانا شروع کر دے جو اس کا کام نہیں ہے تو کیا ہم کہیں گے یہ بہترین کام کر رہا ہے
’’میں عالیہ سے ملنے کوٹ لکھپت جیل گئی۔ عالیہ نے روتے ہوئے ڈی ایس پی اکرام اللہ نیازی کے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے بددعا دی ’جس طرح میں یتیم تھی، اللہ کرے اسکی بیٹیاں بھی یتیم ہو جائیں۔‘ ڈی ایس پی کی سات بیٹیاں تھیں۔ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اکرام اللہ نیازی پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔ مظلوم کی آہ انکا پیچھا کر رہی تھی۔ راوی پُل کے پاس گول چکر کا نام انکے نام پر نیازی چوک رکھ دیا گیا۔‘‘
سابق ایس ایس پی نیلما ناہید درانی کی آپ بیتی ’’زیستم‘‘ سے اقتباس