تم ہر وقت احرام میں لپٹے رہو ! روزانہ طواف کرو پاکستان میں دودھ کی نہریں بہا دو دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم لہرا دو لیکن خدا کی قسم تمہارا یہ جرم پھر بھی جرم رہے گا تم نے ایک بے گناہ انسان اور اُسکی بیوی کو قید کر رکھا ہے صرف اس خوف سے کہ وہ باہر آ گیا تو تمہارا تخت نہیں بچے گا
کورونا جیسی مہلک ترین وباء میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لئے شکریہ عمران خان — خدانخواستہ اگر یہ والے ہوتے تو انہوں نے تو زیر زمین قبرستانوں کو بسانے کا بھی کریڈٹ لے لینا تھا ، ساتھ میں یہ بھی کہنا تھا کہ شکر کرو کہ مرنے والوں کی لاشیں دے دی ہیں نہ دیتے تو آپ کیا اُکھاڑ لیتے
وزیرآباد میں عمران خان کی جان بچانے والے بہادر نوجوان ابتسام حسن کو آج سحری کے وقت مسجد سے واپسی پر غیرقانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
یہ عمل نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جس شخص نے ایک بڑی سانحہ کو روکنے میں کردار ادا کیا، آج اسی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہم اس گھٹیا اور غیرقانونی اقدام کی پُرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ابتسام حسن کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اس گرفتاری کے ذمہ داروں کا بھی احتساب کیا جائے۔
ایران کیخلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے ایک ہفتے میں 1,300 سے زیادہ ایرانی شہید ہو چکے ہیں جن میں سے 30 فیصد بچے ہیں، یونیسیف کیمطابق امریکی اسرائیلی حملوں نے شہری مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں کم از کم 20 سکول اور 10 ہسپتال شامل ہیں۔ الجزیرہ
#IranIsraelUSWar
یہ اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو لڑواؤ، یہ جتنی آگ لگی ہوئی ہے مسلمان دنیا میں، آپ اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں جائیں گے تو اسرائیل ہو گا، کیونکہ اسرائیل کی بڑی آسان کوشش یہ ہے کہ یہ (مسلمان) آپس میں لڑتے رہیں اور یہ کمزور ہوتے رہیں، پہلے ایران عراق کی لڑائی کروائی، پھر عراق کو تباہ کروایا اسرائیل اس کے پیچھے ہے، اگر مسلمانوں کے دشمن کی یہ کوشش ہے کہ ان کو آپس میں لڑواؤ شیعہ سنی کو لڑواؤ، ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان کو اکٹھا رکھیں، اینٹی ایران ہونا ہمارے انٹرسٹ میں نہیں ہے کیونکہ سعودی عرب پاکستان کا دوست ہے ہمیشہ رہا ہے اور ایران ہمارا ہمسایہ ہے ہماری ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے تھی ان کو اکٹھا کرنے کی، اگر ہم فریق بن جاتے ہیں اور ان کو اکٹھا نہیں کر سکتے پھر وہ جنگ یہاں (پاکستان میں) بھی آئے گی، اگر یہ جنگ بڑھ جاتی ہے جو مسلمان کے دشمن کر رہے ہیں آخر میں یہاں (پاکستان) پہنچے گی۔ سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان
#IranIsraelWar
#IranIsraelUSAWar
"اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر اللّه تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟
اور مومنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں"
سورۃ آل عمران - 160
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا پیغام:
میری گرفتاری متوقّع تھی چنانچہ میں نے یہ پیغام اپنی گرفتاری سے قبل ریکارڈ کروایا۔
یہ لندن پلان پر عملدرآمد کی جانب ایک اور قدم ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے کارکنان پرامن، ثابت قدم اور مضبوط رہیں۔
ہم رب العزّت کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے جو ”الحق“ ہے۔ لاالٰہ الّا اللہ ہی ہمارا ایمان ہے۔
#لندن_پلان_نامنظور
سیاست ڈاٹ پی کے سے وابستہ نوجوان صحافی سہراب برکت کو ائیرپورٹ سے گرفتار کرنا انتہائی افسوسناک اور بزدلانہ فعل ہے ، صحافیوں پر جبر ، پابندیاں اور گرفتاریاں اب مذمت سے بڑھ کر کچھ کرنے کی متقاضی ہیں ورنہ یاد رکھئے گا باری باری سب کی باری
یہ حقیقت کبھی بدلی نہیں جاسکتی کہ بائیس گریڈ کے افسروں نے کس طرح بار بار عوامی میںڈیٹ چرا کر قوم سے مسترد شدہ افراد کے حوالے اقتدار کیا ۔۔!!
#نومبر26_نہیں_بھولیں_گے
مفتی تقی عثمانی صاحب سے مودبانہ سوال ہے کہ کیا سعودی فرمانروا "محمدبن سلمان" سرزمینِ حرمین پہ فحش کنسرٹس کروانے پر دائرہ اسلام سے خارج تصور کئے جائیں گے یا نہیں ؟؟
“بشریٰ بی بی ایک گھریلو اور پردہ دار خاتون ہیں، اِن پر بے بنیاد اور جھوٹے کیسز صرف مجھے دباؤ میں لانے کے لئے بنائے گئے- القادر کیس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے- بشرٰی بی بی کو پہلے 3 مہینے بنی گالا میں ایک کمرے میں قید رکھا گیا، انہوں نے خود ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی کہ مجھے عام قیدیوں کی طرح جیل میں رکھا جائے۔ اڈیالہ جیل میں 9 مہینے سخت ترین قید میں رکھا گیا جس کا مقصد ہمیں دباؤ میں لانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
بشریٰ بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپیگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے۔بشریٰ بی بی کے خلاف سوشل میڈیا کمپین کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
اس تاثر کی سختی سے تردید کرتا ہوں کہ سنگجانی میں رکنے کے بعد مجھے رہا کرنا طے تھا۔ سنگجانی جیسے ایشوز کو اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت کی بدنیتی کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ میں ساڑھے تین سال وزیرِ اعظم رہا ہوں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں۔ اسلام آباد ڈی چوک میں کارکنان کے ہمراہ پہنچ جانا بشریٰ بی بی کی کامیابی تھی جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں- انہوں نے میری ہدایات پر ہی عمل کیا” - سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
میں بھی صحافی تھی میں بھی اختلاف رائے رکھتے تھی مجھ سے میرا روزگار کیوں چھینا گیا میں تو ٹیلی ویژن پر اپنے پروگرام میں اپنی رائے بھی نہیں دیتی تھی تو مجھے پھر کیوں نکالا گیا میرے ساتھ تو عطاء تارڑ آپ کھڑے نہیں ہوئے ۔
ثمینہ پاشا
سستے ٹاؤٹس کو صحافیوں کے جعلی روپ میں بد تمیزی کرنے کی کھلی اجازت نہیں دی جا سکتی۔آج جو ہوا شرمناک ہوا۔ جنرل عاصم اور انکے ساتھی ایکسٹینشن کے دنوں میں سخت پریشان ہیں۔ اس لئے اب فکری دلال قسم کے لوگوں صحافی بنا کر سرکس شروع کروا دی گئی ہے۔ یہ صحافت کی بھی تذلیل ہے۔