ملک شام جاتے وقت وادی صفراوی میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس درخت کے نیچے ارام فرمایا تھا اس کا نظارہ کر لیجئے اور ہاں اخر میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا مت بھولنا
علامہ راجہ ناصرعباس نے بغیر لگی لپٹی سب کچھ بتا دیا کہ ڈیڈ لاک کن باتوں پر ہوا۔حکومت عمران خان کے ایشو پر نہیں مانی تو پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پلان/کاروائی پر راضی نہیں ہوئی۔
چلیں کوئی نہیں اپنی اپنی ضد پر قائم رہ کر اب دونوں کا رانجھا راضی تو ہو جائے گا۔۔
ویڈیو/دانیال ہاشمی
@AllamaRajaNasir@Daniyal_hashmii
ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، ٹانک ، وزیرستان، لکی مروت والو تیار ہو جاؤ
آج آپ نکلیں گے آپ کو سہیل آفریدی لیڈ کریں گے آپ کرک پہنچیں گے والہانہ استقبال ہو گا مہمان نوازی ہو گی انقلاب کی بنیاد آج آپ رکھیں گے
نکلو گھروں سے آج
عمران خان کی ہسپتال منتقلی، ان کے ذاتی معالجین کی رسائی، اور سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے فارم 47 کی حکومت کی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئ۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کا اصولی موقف برقرار۔ ملاقات کی بحالی ویسے ہی بنیادی حق ہے۔ ان ملاقاتوں کا نہ ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
@salmanAraja
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
پاکستانیوں آپ کہ اور عمران خان کی نوجوان وزیراعلی سُہیل آفریدی اور اُن کے نوجوان ساتھیوں نے اپنا کام کردیا اب آپ کی باری ہیں آپ سب نے نکلنا ہے ہماری طاقت آپ یعنی عوام ہے توڑ دو خوف کے بُت سب نے مل کر ایک دفعہ نکلنا ہے اگر آپ کی تعداد لاکھوں میں ہوگی آپ کے اور ہمارے لیڈر عمران خان کو کوئی بھی قید میں نہیں رکھ سکتا کوئی بھی آپ کی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتا نکلو اپنے حق کے لیے نکلو اپنے جائز حقوق کے لیے نکلو بے گناہ سیاسی قیدیوں کے لیے نکلو بشرہ بی بی ، علمیہ خان ، عظمیٰ خان، نورین نیاری، یاسمین راشد، ضنم جاوید، فلک جاوید سمیت تمام بے گناہ خواتین کی رہائی کے لیے
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔