اس طرح سے نہ آزماؤ مجھے
اس کی تصویر مت دکھاؤ مجھے
عین ممکن ہے میں پلٹ آؤں
اس کی آواز میں بلاؤ مجھے
میں نے بولا تھا یاد مت آنا
جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے
علی زریون
مُرجھائےپھول کس کو بھاتے ہیں دلِ فقیر
کس نے تجھے کہا تھا کہ اتنا اُداس رہ
اے عمرِ ناتمام میری داستان نہ بن
تو اقتباس ھے تو فقط اقتباس رہ
تو خدا نہیں ھے پھر بھی میرے دوست
تو میری شہ رگ کے کہیں آس پاس رہ
🖤