گماں کی قید میں تھا اب یقیں کی قید میں ہوں
میں ہاں سے چھوٹ گیا تو نہیں کی قید میں ہوں
بڑے ادب سے بٹھایا تھا تخت دل پہ جسے
غضب ہے اب اسی مسند نشیں کی قید میں ہوں
#شنWeR#اردو_زبان
حُسن کہتـــے ہیں جسے عشق و محبت والے
جوہرِ چشمِ بصیرت کے سوا کچھ بھی نہیں
ہجـر ہو وصل ہو اے دوست عدم ہو کہ وجود
اک تیری چشمِ عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں
#شنWeR#قافلہ_ادب