نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دے اُسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا!
جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر
مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دو پہر پہ یہ ابر کیوں؟
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر
کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
کبھی دل کو تِھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر
یہ ہجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی،
مری حسرتوں کو سُخن سُنا مری خواہشوں سے خطاب کر
یہ جلوسِ فصلِ بہار ہے تہی دست ، یار ، سجا اِسے
کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر ۔۔۔!!
محسن نقوی
بخدا! فیض نے اس سے خوبصورت نظم نہیں لکھی اور ضیاء محی الدین نے اس سے حسین نظم پڑھی نہیں!
پھر کوئی آیا دلِ زار؟ نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چُکی رات بِکھرنے لگا تاروں کا غُبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اِک راہگزار
اجنبی خاک نے دُھندلا دیے قدموں کے سُراغ
گل کرو شمعیں بڑھا دو مئے و مینا و اَیاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
فیض احمّد فیض
Thousands of people in Kandiaro took to the streets to protest the encroachment of millions of acres of land due to corporate farming and the construction of six canals on the Indus River. Thank you, Kandiaro, for always trusting in me.
#NoMoreCanalsOnIndus
جب گھر پہنچے تو کچھ سندھ کے وزیروں نے فون کرکے احتجاج کرنے والوں اور بچوں پر ہنسی مذاق کیا، جیسے سب کچھ کھیل ہو۔ یہ بات مجھے بہت ناگوار گزری۔ طاقت ہمیشہ نہیں رہتی؛ کل اسمبلی میں تقریریں کر لینا، مگر اب لوگوں کی نظروں میں نظر نہیں ملا سکو گے۔
– سیف سمیجو
Alhamdulillah. I’m highly grateful to all my friends, supporters and Pakistan Peoples Party jiyalas. Will inshaAllah work hard for betterment of my constituency. 🙏🏼