جنرل باجوہ کو سب سے زیادہ غصہ خان کی طرف سے اپنی تقریر میں میر جعفر میر صادق کے الفاظ استعمال کرنے پر تھا۔
کبھی آپ نے سوچا خان نے یہ کیوں استعمال کئیے تھے۔خان کو باہر والوں کا تو پتہ ہی تھا۔ اصل دکھ خان کو یہ تھا کہ اپنے ہم وطن میر جعفر میر صادق بن گئے۔
اگر میں عاصم منیر سے نہیں ڈرا۔ مروت گنڈاپور گروپ کے سوشل میڈیا گروپ کی پورا سال گالیوں سے نہ ڈرا۔ گنڈاپور کے بھائی کی گالیوں پر اپنا پوائنٹ نہ بدلا۔
تو آپکو لگتا ہے تنقید سے ڈر جاؤں گا - جو مجھے سچ لگتا ہے ا وہ بولنا چھوڑ دوں گا۔ 😊
دبا کے کریں تنقید۔ کوئی لحاظ مت کریں۔
میرا کام سوال کرنا ہے۔ غلط کو غلط کہنا ہے۔ یہی خان کا نظریہ ہے۔
سبھی سوشل میڈیا کے ورکز میرے لئے محترم ہیں۔ آپ سب خان کے سپاہی ہیں۔ آپ نے ہی اصل جنگ لڑی ہے۔
آج اگر آپ مجھ پر تنقید کریں گے تو آپ برے نہیں ہو جائیں گے۔ میں آج بھی آپکو اچھا ہی کہوں گا۔ کیونکہ تنقید کرنا سب کا حق ہے۔
کھل کر کریں تنقید۔ کھل کر۔
ہمارا ایک ورکر 25 سالہ احمد ولی ڈی چوک پر شہید ہوا۔ اسکی فاتحہ پر پولیس جوتوں سمیت مسجد داخل ہوئی اور کہا کہ بند کرو یہ فاتحہ۔ یہ شہید نہیں مردار ہوا ہے۔ خاندان کوزدوکوب کیا۔ تعزیت کرنےوالوں پر ایف آئی آر کیے۔
میرے شہید کی عزت و حرمت دوگے مجھے؟
اس نے جیل سے بیٹھ کر بھی بازی پلٹ دی۔۔😊
جیل میں تین سال سے قید لیکن اس کا فیض اپنے لوگوں کے لئے جاری ہے۔ جعلی نمونے اقتدار میں بیٹھ کر اپنے لئے اربوں کے جہاز، گاڑیاں ، اپنے ہرکاروں کی عیاشیوں کا سامان کرنے میں لگے ہیں۔!
Pakistan’s four provinces could be divided into 12, or perhaps 15, or maybe even 160 much smaller and less powerful units. It this comes to pass, it is clear who will benefit https://t.co/G5pUuLL2ia
As Pakistan’s government arrests opposition leaders and suspends an elected provincial government, President Trump continues to embrace its military chief.
The United States should stand with the Pakistani people, not enable political repression. We must press for the release of political prisoners, including Imran Khan.
https://t.co/evitvY5gwk
حجرے شاہ مقیم دے، اک جٹی عرض کرے
میں بکرا دیواں پیر دا، جے سر دا سائیں مرے
ہٹی سڑے کراڑ دی، جتھے دیوا نت بلے
کتی مرے فقیر دی، جیڑی چوں چوں نت کرے
پنج ست مرن گوانڈھناں، رہندیاں نوں تاپ چڑھے
گلیاں ہو جان سنجیاں، وچ مرزا یار پھرے
WATCH: Top student in Azerbaijan delivers emotional speech after being barred from school for wearing hijab:
I scored 335 points. I don’t have a single B on my report card. Is this the respect I get?
The girl, visibly upset, challenged school officials directly:
Have I ever brought shame to this school’s name? Have I ever done anything wrong? And now you’re telling me I can’t enter the school.
Either take off your hijab or don’t come at all.
Why should I have to give up my religion?
امریکہ نے دنیا بھر سے ریئر ارتھ منرلز نکالنے کی کوششیں اور معاہدے کئے۔ کہیں قانون نے روک دیا کہیں عوام سامنے آگئی اور کہیں سیاستدان، NGOs اور حکومتیں ڈٹ گئیں۔ وجہ یہ منرلز نکالتے وقت پھیلنے والی خوفناک تابکاری ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ ابتک دریافت نہیں ہوا۔
ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منرلز کا بکسہ پیش کیا اور منرلز نکالنے کے لیے دربدر امریکی کمپنیوں کو ٹرمپ لے زریعے اپنا وطن پیش کردیا۔ اور امریکی آنکھ کا تارہ بننے کی پوزیشن میں آگئے۔
اب قبائلی علاقوں سے معدنیات نکالنے کے لیے فیلڈ مارشل کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ مل چکا۔ عملدرآمد کے راستے کی آخری رکاوٹ صوبائی حکومت کو بھی گرا دیا گیا۔ کام شروع ہوا تو تابکاری پھیلے گی اور قبائلی بدترین مسائل اور دردناک خاموش موت کا شکار ہوں گے۔
امریکی کمپنیاں صرف منافع چاہتی ہیں اس لیے وہ کبھی بھی عالمی سٹینڈرڈز کا خیال نہیں رکھیں گی اور نہ ہی ان پر یہاں ایسا کوئی دباؤ ہوگا۔ ویسے بھی مہنگے پروٹوکولز بھی کچھ حد تک ہی تابکاری سے بچا سکتے ہیں اسکی تباہی کو روک نہیں سکتے۔ اگر روکنے کا کوئی طریقہ ہوتا تو امریکہ اپنے ملک، یورپ اور دیگر ممالک سے یہی منرلز نکال رہا ہوتا۔
افسوس فیلڈ مارشل کے زاتی مفاد پر مبنی ایک فیصلے نے لاکھوں قبائلیوں اور انکی نسلوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
اب پاکستانیوں خصوصاً قبائلیوں کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ اس غیر انسانی اور قاتل مائیننگ کے خلاف لڑنا ہوگا یا ہمیشہ کے لیے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر کہیں بہت دور نئے گھر بنانے ہوں گے۔ یا پھر تابکاری کے ہاتھوں سسک سسک کر اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں دینی ہوں گی۔
The elected Chief Minister of kp is still missing. His whereabouts are still unknown.
If this is what happens with the elected CM, imagine ordinary people
گماشتوں ڈاکیوں اور دلالوں کے منہ پر چپیڑ ہے یہ ویڈیو جو کہہ رہے تھے عمران خان منتیں کر رہا ہے لیٹ گیا ہے ! یہ روز جا کر عمران خان کے سامنے لیٹتے ہیں اور وہ انکو لات مار کہ کہتا جاو میں آج نہیں کر رہا کل کروں گا ! عمران خان جیل میں بیٹھ کر انکے ساتھ پرینک کر رہا ہے
میرے ملک کے مستقبل کا سوال نہ ہوتا، میرے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر نہ لگی ہوتیں تو مجھے اس خدائ کے دعویدار مافیہ کی مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
مئی جون ۲۰۲۲ میں مراد سعید دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ریاست مخالف پراپگنڈہ کررہا تھا۔ لوگوں کو اُکسا رہا تھا۔
ارشد شریف پر جعلی ایف آئ آرز انہوں نے کاٹیں، اُس کو ہراساں کرنے ان کے ہرکارے اُس کے گھر تک گئے، قتل انہوں نے کیا۔ مطلوب ہوا مراد سعید۔
عمران خان کے گھر پر ان کے پہ در پہ حملے ناکام ہوئے تو مراد سعید کے لائے شرپسندوں نے زمان پارک میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی زندگی پر حملہ انہوں نے کیا عمران خان کے زندہ بچ نکلنے پہ قصوروار مراد سعید تھا۔ اس لیے وہ درکار تھا، ”زندہ یا مردہ”۔
۹ مئی کو کالر سے گھسیٹ کر تشدد کرکے اغوا عمران خان کو انہوں نے کیا۔ فالس فلیگ انہوں نے کیا۔ ذمہ دار مراد سعید تھا۔
۵ اکتوبر کو وزیر علی امین گنڈاپور لانگ مارچ لے کر آئے، روابط مراد سعید سے تھے۔ (پھر اُسی علی امین گنڈاپور کو ان کے ٹاوٹس یقین دہانیاں کراتے رہے کہ آپ کو وزارت سے ہٹانے کی سازش مراد سعید نے رچائی)۔
۲۶ اکتوبر کو گولی کیوں چلائی کا جواز یہ تھا کہ مراد سعید کنٹینر پر موجود تھا، بلکہ لانگ مارچ کے لیے افغانستان سے ۱۵۰۰ بندہ لے کر آیا تھا۔ وہی مراد سعید جس نے اپنی قوم کو ساتھ ملا کر انہیں مجبور کیا تھا کہ اپنے فوجی ٹرکوں میں، اپنے لائے ہوؤں کو اُس افغانستان چھوڑ کر آئیں جس کے ساتھ بارڈر کی سیکیوریٹی ان کی ذمہ داری تھی۔
عمران خان نے قبائلی نوجوان سہیل آفریدی کو وزیر اعلی نامزد کیا بندوقوں کا رُخ پھر مراد سعید کی جانب ہوگیا۔ روپوش مراد سعید نے جیل میں بیٹھے عمران خان سے اپنے دستِ راست کی منظوری کرالی۔
سہیل آفریدی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا تھا، تو ”عمران خان کو مروانا چاہتا ہے؛ جان نشینی کا طلبگار“؛ مراد سعید
۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو ٹاؤٹوں نے جا کے اہل خانہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ مراد سعید کو ان کا پیغام پہنچ جاتا ہے پھر وہ احتجاج پر زور دلواتا ہے۔ یعنی ان کے جائز حقوق چھیننے کا مجرم بھی مُراد سعید۔
خیبر پختونخواہ کے امن کا سودا انہوں نے کیا، یہاں کے وسائل کا اختیار انہیں چاہئیے تھا۔ خان صاحب کی رہائی کے بدلے عوام کے خون کی بلی یہ مانگ رہے تھے۔ مذاکرات ناکام مُراد سعید نے کیے۔
گورنر سے لے کر، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، سیکٹر کمانڈرز سے لے کر، اُس کے میڈیائی پالتوؤں اور پارٹی کے اندر کے ٹاؤٹوں سے لے کر سوشل میڈیائ گھس بیٹیھوں تک۔ سب کی نااہلیوں، بے غیرتیوں اور غداریوں کے لیے موردِ الزام مراد سعید۔
بات میری قوم کے مستقبل، میرے لوگوں کی زندگیوں کی نا ہوتی تو مجھے آپ خدائ کے دعویداروں کی اس مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔