اللہ پر یقین اور توکل،
انسان کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونے دیتا۔ مشکل، پریشانی
جتنی مرضی بڑھی لیکن اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا بھی کفر۔
اللہ کریم،
ھی تو ہیں جن نے ہمیں اس وقت رزق دیا جس وقت ہمیں اپنی ہوش بھی نہ تھی
اللہ پر یقین رکھیں
زندگی جینا شروع کریں
اُمید اور خوشی کے ساتھ
خاموشی اختیار کر لیجیے، مگر شکووں کی زنجیر میں خود کو قید مت کیجیے۔ جہاں عزتِ نفس کو بار بار مجروح ہونا پڑے، وہاں کنارہ کشی اختیار کرنا بہتر ہے، مگر کسی کی توجہ اور وقت کے لیے دستِ سوال دراز مت کیجیے۔
یاد رکھیے، محبت مانگنے سے اور عزت التجاؤں سے حاصل نہیں ہوتی۔ جن رشتوں میں احترام مفقود ہو، وہاں قربت بھی رفتہ رفتہ اذیت بن جاتی ہے۔
تنہائی کو اپنا ہم سفر بنا لیجیے، گوشۂ عافیت میں پناہ لے لیجیے، مگر کسی کی قربت کی خاطر اپنا وقار، اپنی خودداری اور اپنا معیار کبھی مت گرائیے۔
بعض اوقات کسی رشتے سے دست بردار ہو جانا، خود سے رشتہ بچا لینے کے مترادف ہوتا ہے۔
یہ کہانی ایک دوست نے سنائی۔ پڑھ کر آخر تک ضرور سوچئے۔
جب میری بیٹی یورپ سے واپس آئی تو اس نے ایمسٹرڈیم کے کوسٹکو کا ایک چھوٹا سا واقعہ سنایا جو دل میں اتر گیا۔
اسٹور کے دروازے پر ایک پانچ سالہ بچہ کھڑا تھا۔ ہاتھ میں چپس کے پیکٹ، گلے میں بورڈ ‘‘اسکاؤٹ چیریٹی کے لیے صرف بیس ڈالر میں ایک پیکٹ۔’’
لوگ جلدی میں گزر رہے تھے۔ کچھ خرید لیتے، زیادہ تر ‘‘نہیں’’ کہہ دیتے۔ مگر بچہ ہر ‘‘نہیں’’ کے بعد مسکراتا، سر ہلاتا اور اگلے شخص کے پاس چلا جاتا۔ نہ رونا، نہ مایوسی—صرف خاموش اعتماد۔
میری بیٹی نے بھی ایک پیکٹ خرید لیا۔ پھر پوچھا: ‘‘بیٹا، کب تک یہاں رہو گے؟’’
بچے نے سادگی سے جواب دیا: ‘‘جب تک سو لوگ مجھے ’نہیں‘ نہیں کہہ دیتے۔’’
قریب کھڑا استاد مسکرایا: ‘‘ہمارا مقصد پیکٹ بیچنا نہیں۔ ہم اسے سکھانا چاہتے ہیں کہ ’نہیں‘ سننا، قبول کرنا اور پھر بھی اگلے سے پوچھنا کیسے ہوتا ہے۔’’
ہم اپنے بچوں کو جیتنا سکھاتے ہیں، ہارنا نہیں۔ کامیابی کا راستہ دکھاتے ہیں، ناکامی کا حوصلہ نہیں دیتے۔
حالانکہ زندگی زیادہ تر ‘‘نہیں’’ ہی کہتی ہے۔ امتحان میں ناکامی، انٹرویو میں رد، کاروبار میں نقصان، رشتوں کا ٹوٹنا—سب ‘‘نہیں’’ ہیں۔
وہ بچہ چپس نہیں بیچ رہا تھا۔ وہ انکار جمع کر رہا تھا۔ وہ گرنے کے بعد اٹھنے کی مشق کر رہا تھا۔
آج سے بچوں سے صرف یہ نہ پوچھیں کہ ‘‘جیتے یا ہارے؟’’
کبھی یہ بھی پوچھیں: ‘‘آج کتنی بار ’نہیں‘ سنا؟ پھر بھی کوشش جاری رکھی؟ مجھے تم پر فخر ہے۔’’
جیتنے والے کو تالیاں ملتی ہیں۔ ہار کر دوبارہ اٹھنے والا زندگی جیتا ہے۔
سلام ہے اس ننھے بچے کو—جس نے سو مرتبہ ‘‘نہیں’’ سن کر سب سے بڑا ‘‘ہاں’’ سکھا دیا۔
یہ تحریر ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ بطور والدین، اساتذہ یا معاشرے کے فرد، ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ
زندگی کا اصل امتحان ”ہاں“ حاصل کرنا نہیں، بلکہ ۱۰۰ بار ”نہیں“ سننے کے باوجود مسکرا کر اگلا قدم اٹھانا ہے۔
اگر ہم بچوں کو صرف اتنی سی بات سکھا دیں کہ ”انکار کا مطلب سفر کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہے“، تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو مایوسی کے اندھیروں سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوگی۔
اس کے گھر میں کچھ چیز یں عجیب تھیں۔ سب سے بڑی پریشان کر دینے والی بات یہ تھی کہ قرآن کا ایک نسخہ اس نے باورچی خانے میں رکھا ہوا تھا جس پر تیل کے نشانات اور گیلے ہاتھوں سے پکڑنے کے نشانات نمایاں تھے، دوسرا نسخہ باہر باغیچہ کے برامدے کے ایک کونے میں لگی تختی پر رکھا تھا۔ اس کے اوراق بھی بہت بوسیدہ سے تھے، ایک نسخہ اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر دیکھا، اور ایک لاؤنج میں۔
میں نے سوچا یہ تو خاصی پڑھی لکھی ہے، یقینا کئی بار قرآن کی طرف پیٹھ بھی ہو جاتی ہو گی، بڑی بے ادبی کی بات ہے… اسے تو لگتا ہے کہ اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں
میرے دل میں غبار سا اٹھا اور شاید چہرےکا رنگ بھی بدل گیا تھا
اس نے بھانپ لیا تھا تبھی بولی۔دراصل بچے چھوٹے ہیں اور بڑا خاندان ہے۔ بے تحاشا مصروفیات میں ایک جگہ بیٹھ کر قرآن سے استفادہ کا موقع نہیں ملتا۔اس لیے جگہ جگہ قرآن رکھ دیے ہیں جہاں ذرا فرصت ملتی ہے ۔اٹھاکرپڑھ لیتی ہوں ۔دراصل باجی مسئلے بھی تو دن میں ہزاروں طرح کے پیش آتے ہیں اور ہر مسئلے کا حل مجھے تو اسی میں ملتا ہے۔
میں کچھ سمجھ نہیں پائی۔۔. وہ پھر گویا ہوئی
باجی اللّٰہ نے قرآن کریم میں ہر مسئلے کا حل بتایا ہے۔ یہ بات میرے ابّا نے مجھے بتائی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ اس سے دوستی کر لو ہر معاملے میں اس سے پوچھا کرو ۔یہ کتاب تمھیں ہر بات کا جواب دے گی اور تمھارا ہر مسئلہ حل کرے گی۔
بس جب سے یہی سہیلی ہے میری، اسی سے پوچھتی ہوں سب کچھ ۔اور یہ کتاب ہے ہی ایسی کہ ہر مسئلہ کا حل بتا دیتی ہے۔کئی مسئلے تو چند آیات پڑھتے ہی سُلجھ جاتے ہیں۔ جہاں سے مجھے اپنے جوابات مل جاتےہیں ان آیات کو میں نشان زد بھی کر لیتی ہوں ۔
جب پھر سےکوئی مسئلہ پیش آۓ تو ان ساری آیات کو جلدی سے کھنگال لیتی ہوں۔کبھی کبھار کسی مسئلہ کا حل ملنے میں یادہ وقت بھی لگ جاتا ہے، اور کبھی تو کتاب کھولتے ہی حل سامنے نظر آجاتا ہے... تو ایسے وقت اپنے رب کی محبت میں میرے آنسو بہنے لگتے ہیں...بس اسی لیے ان نسخوں کی یہ حالت ہو گئی ہے
اب کل ہی کی بات دیکھیے... میری نند آئی ہوئی تھیں۔ میں انھیں کھانا کھلا کر فارغ ہوکر باورچی خانے کی طرف جا رہی تھی کہ ان کی کچھ تلخ باتیں میرے کانوں میں پڑیں ، افسوس اور رنج سے میری حالت بہت خراب ہوئی کہ اتنی مشقت، اور پھر یہ جزا
دل دکھا ہوا تھا… تو یہی باورچی خانے والا قرآن کھولا، ایک آیت میرے سامنے تھی۔ "برائی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو“
بس کیا ہوا کہ دو روز پہلے اپنے لیے جو بندے لائی تھی، لا کر بہت پیار سے نند کو پہنا دیے. وہ خاموشی سے کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی۔پھر رو پڑی۔میں نے اسے گلے لگا لیا۔تو بولی: " بھابھی سسرال میں منفی ماحول نے مجھے بھی منفی بنا دیا ہے۔ معاف کر دیجیے گا مجھے۔آپ میری اچھی بھابھی ہیں بہنوں سے بھی بڑھ کر، اللہ آپ کو بہت خوش رکھے، آباد رکھے
یہ سب سن کرخوشی ہوئی، دل کا اطمینان اور سکون بھی ملا۔۔۔ اسی طرح آج جب آپ آئیں، میں کھانا بنا چکی تھی۔دل میں خیال آیا کیسے پورا ہو گا اتنے کھانے میں۔۔۔اسی وقت حسبِ عادت قران کھولا، سامنے لکھا تھا۔
" اگر شکر کرو گے تو میں بڑھا دوں گا۔“
میں نے پریشانی چھوڑ کر اس ذات کا شکر ادا کیا ۔ فریج میں دیکھا مٹر رکھے ہیں۔سوچا مٹر پلاؤ بنا لیتی ہوں ، اسی وقت پڑوس سے بریانی کی بھری ہوئی ڈش آگئی۔۔۔یہی نہیں، میاں بھی آفس سے آتے ہوئے حلیم ساتھ لیتے آۓ۔ یعنی اللہ نے فوراً ہی میرا مسئلہ حل کر دیا اور بندوبست کر دیا۔
اسی لیے تو بس باجی، ہر مشکل لمحے میں میرا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے۔
ابھی پچھلے دنوں کووڈ میں میاں کا کام چھوٹ گیا۔بڑی پریشان تھی،قران کھولا تو لکھا تھا:
"استغفار کرو بدلے میں تمھیں بارش بھی دوں گا، مال اور اولاد کو بڑھاؤں گا۔اور باغات اور نہریں عطا کروں گا ۔"
میں تو حیران رہ گئی ایک استغفار کے اتنے فائدے
پھر سوچ سوچ کر ہر اس شخص سے معافی مانگی۔جس سے گمان تھا کہ ہم نے کوئی زیادتی کی ہوگی۔ استغفارپڑھتے رہے ۔سید الاستغفار کا بھی ورد رہا ۔آپ یقین جا نیے جلد ہی اس کے ایسے اثرات ظاہر ہوئے کہ پریشانیاں دور ہوکرحالات بہتری اور خوش حالی کی طرف جانے لگے...
وہ انتہائی سادگی سے قرآن کو سینے سے لگاۓ لگاتار بولتی چلی جا رہی تھی، اور میں بہت شرمندہ تھی
آج تک میرا قرآن سے ایسا کوئی تعلق نہیں بن سکا تھا، قرآن سے ایسی رہنمائی مجھےمیسر نہیں تھی کیونکہ میں نے تو قرآن پر بیش قیمت غلاف چڑھوا کر اسے سب سے اوپر والے شیلف میں رکھ دیا تھا...
اب دل کا غبار ندامت میں ڈھلا تو آنسؤوں کی صورت بہنے لگ
میں نے قرآنِ مقدس کے ظاہری رکھ رکھاؤ پر جتنی توجہ دی کاش اتنی ہی توجّہ اس کی روح اور اصل پیغام پر دی ہوتی۔ تو اس کے اصل پیغام سے محروم ہونے کے بجائے آج اس کا یہ قرب اور یہ اعجاز میرے نصیب میں بھی ہوتا
منقول
#موناسکندر
یہ واقع ایک بہن نے شئیر کیا ہے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے معاشرے میں ہر قدم پر درندے کھڑے ہیں
میں ایک ہولناک واقعہ کی نشان دہی کر رہی ہوں ۔۔اس پہ مائیں غور کریں اور والدین ہر ریپ اور بچوں کی غفلت کی ذمہ داری سے بری بالکل نہیں ہوتے یہ یاد رکھیے
میرا گاؤں 7 چک سرگودھاروڈ پہ ہے میری ایک ملازمہ سداں 6 چک کی تھی بزرگ تھی میں اسے ڈراپ کرنے کئی بار چلی جاتی ایک دن فون آیا کہ باجی جلدی آئیے دس بجے تھے میں مجبور” چلی گئی ۔۔بہت لوگ گھر کے سامنے جمع تھے ۔۔اس کا ایک بیٹا ۔۔دو بہویں تین عدد پوتیاں بھی تھیں تماشا گیر تھے ایک نوجوان کوباندھا ہواتھا ۔۔ایک 9 سال کے بچے کے بھی پاؤں ھاتھ باندھ رکھے تھے ۔۔پتہ چلا کہ سداں دو روز سےگھر پہ تھی میں نے چھٹی دی تھی ۔۔9 سالہ بچہ ہر گھنٹے بعد اس کی دو تین چار سال کی پوتی کو بلانے آئے کہ ٹافی لے لو جوس پی لو سداں نے بہو سے کہا یہ لڑکا کون ہے ؟ اور کیا مفت جوس دے رھا ہے ۔۔جواب میں لڑکے نے کہا ۔۔او مائی تو کیوں دخل دے رہی ہے ہمارا 15 دن سے معاملہ ہے مفت دال گھی اور جوس کے بدلے بچیاں دکان پہ جاتی ہیں ۔۔دکان والا بہت بدمعاش تھا اور چھ سات بدمعاش اور بھی ساتھ ہوتے ۔۔سب سے بڑی بچی نے دادی کو بتایا کہ ابھی جوس اور چیزیں دے کے میرے کپڑے اتارتے ہیں ۔بہن کے بھی اور چند مزید گھروں کی بچیوں کے بھی ۔۔پھر کل پرسوں کار پہ تین بچوں جن میں ایک 3 سالہ لڑکا بھی تھا ان کوسیر کے لیے لے جائیں گے ۔۔سداں مجھ سے قصے سن چکی تھی اس نے جوتا اتارا اور بہو کو مارا۔۔بیٹے کو بلایا آدھا چک اکٹھا کر لیا دکان دار مان گیا کہ سچ ہے اور یہ بچہ گوجرے سے لے کے بچے گھیرنے کے لیے ملازم رکھا ہے بچہ 18 سالہ کسی بندے سے بھی چالاک تھا ۔۔گالیاں دے ۔۔بکواس کرے ۔۔پولیس بلوائی اگرچہ پکا پتہ تھا کہ سب نے چھوٹ جانا ہے انصاف پیسوں پہ بکتاہے ۔۔البتہ مسجد سے اسپیکر منگا کے والدین کے سامنے رو رو کے درخواست کی پیدا کیے بچے سنبھال کے رکھو ۔۔۔ساتھ باندھ کے رکھو ورنہ زینب کی طرح لاش آئے گی ۔۔
اب آپ سمجھ گئے کہ آیت نور کے ساتھ کیا ہوا ۔۔ماں نے بچے کے ساتھ جانے دیا جو سہولت کار تھا اور پھر۔۔۔
ماں باپ بچوں کی سائے کی طرح حفاظت کریں یا دادا نانی کسی کی ڈیوٹی لگائیے ۔۔۔ورنہ روتے رھنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
اپنی مدد آپ کے تحت گلی محلوں میں گروپ بنائیے اورجو بن پڑ کیجے ۔۔پر پیدا شدہ بچے بچا لیں پلیز ۔۔
ہر کوئی AI کے بارے میں بات کر رہا ہے۔
لیکن تقریباً کوئی نہیں جانتا کہ 2026 میں کون سے ٹولز واقعی اہم ہوں گے۔
سب سے ضروری AI ٹولز 2026 کے لیے:
1. ChatGPT – سوچنا، لکھنا، کوڈنگ
2. Perplexity – ریسرچ بغیر SEO شور کے
3. Claude – طویل فکری تجزیہ
4. Gemini – گوگل لیول کانٹیکسٹ
5. ElevenLabs – انسانی سطح کی وائس کلوننگ
6. https://t.co/TxPizkrvws – AI نیریشن اور آڈیو بکس
7. RecCloud – فوری وائس چینجز
8. Suno – ٹیکسٹ سے میوزک بنائیں
9. Udio – اسٹوڈیو لیول AI گانے
10. Runway ML – سنیماٹک ویڈیو ایڈیٹنگ
11. Pika – ٹیکسٹ ٹو ویڈیو ویژولز
12. LumaLabs – 3D ماڈلز اور NeRFs
13. Kaiber – اینیمیشنز اور میوزک ویڈیوز
14. Krea AI – لوگو اور ویژول ڈیزائن
15. Midjourney – ایلیٹ AI امیجز
16. Ideogram – ٹیکسٹ پرفیکٹ گرافکس
17. PicWish – صاف فوٹو ایڈیٹس
18. https://t.co/iWd9lZjXkK – بیک گراؤنڈ ریموو
19. Descript – آڈیو/ویڈیو ایڈیٹ ٹیکسٹ سے
20. CapCut AI – آٹو کیپشنز اور ایڈٹس
21. Opus Clip – لمبے ویڈیوز کو وائرل شارٹس میں تبدیل کریں
22. VEED AI – براؤزر بیسڈ ویڈیو ایڈیٹنگ
23. Gamma – خوبصورت ڈاکیومنٹس
24. Tome – AI پریزنٹیشنز
25. Notion AI – نوٹس اور سسٹمز
26. ClickUp AI – پروجیکٹ مینجمنٹ
27. Zapier AI – ورک فلو آٹومیشن
28. Make – ایڈوانسڈ آٹومیشن
29. Relume – ویب سائٹ سٹرکچر
30. Framer AI – نو کوڈ ویب سائٹس
31. Webflow AI – پروفیشنل ویب ڈیزائن
32. Durable – بزنس سائٹس چند منٹوں میں
33. https://t.co/O3UXPji7Eg – مارکیٹنگ کاپی
34. Jasper – برانڈ لیول رائٹنگ
35. Writesonic – ایڈز اور SEO
36. Surfer AI – کانٹینٹ رینکنگ
37. Synthesia – AI اوتار ویڈیوز
38. HeyGen – ٹاکنگ ہیڈ AI ویڈیوز
39. Recraft – ویکٹر اور برانڈ ڈیزائن
40. Rewind AI – سرچ ایبل میموری
41. Otter AI – میٹنگ نوٹس
42. Fireflies AI – کال سمریز
43. Grok – ریئل ٹائم ٹرینڈ اینالیسس
زیادہ تر لوگ صرف اسکرول کریں گے۔
سمارٹ لوگ اسے بعد کے لیے محفوظ کریں گے۔
اسے بوک مارک کریں اور 2026 میں فائدہ اٹھائیں۔
*دو سگے بھائیوں* کے بڑے بڑے زرعی فارم ساتھ ساتھ واقع تھے دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے سے اتفاق سے رہ رہے تھے اگر کسی کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت پڑتی تو وہ بغیر پوچھے بلا ججھک ایک دوسرے کے وسائل استعمال کرتے تھے .
لیکن ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور کسی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف ایسا بڑھا کہ ان میں بول چال تک بند ہو گئی اور چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آ ئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے میں اپنا بلڈوزر نکالا اور شام تک اس نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھاڑی کھود کر اس میں دریا کا پانی چھوڑ دیا.
اگلے ہی دن ایک ترکھان کا وہاں سے گزر ہوا تو بڑے بھائی نے اسے آواز دے کر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے اس نے کل بلڈو زر سے میر ے اور اپنے گھروں درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھاڑی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے.
میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑھ لگا دو کیونکہ میں اس کا گھر تو دور کی بات ہے اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا اور دیکھو مجھے یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا.
ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سے ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں .
موقع دیکھنے کے بعد ترکھان اور بڑا بھائی ساتھ واقع ایک بڑے قصبہ میں گئے اور تین چار متعلقہ مزدوروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آگئے ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور اپنا کام ہم پر چھوڑ دیں․ ترکھان اپنے مزدوروں کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا ۔
صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی ،وہ قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ وہاں ایک بہترین پل بنا ہوا تھا جہاں اسکے چھوٹے بھائی نے گہری کھاڑی کھود دی تھی.
جونہی وہ اس پل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑا کبھی کھاڑی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتا رہا اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری چند سیکنڈ بعد دونوں بھائی نپے تلے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے پل کے درمیان آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر دونوں بھائیوں نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے ایک دوسرے کو پوری شدت سے بھینچتے ہوئے گلے لگا لیا۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے اور دور کھڑا ہوا ترکھان یہ منظر دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
بڑے بھائی کی نظر جونہی ترکھان کی طرف اٹھی جو اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا تو وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اورکہا کہ وہ کچھ دن ہمارے پاس ٹھہر جائے لیکن ترکھان یہ کہہ کر چل دیا کہ اسے ابھی اور بہت سے”پُل “ بنانے ہیں۔
*برائے مہربانی کوشش کریں کہ لوگوں کے درمیان پل بنائیں دیواریں نہ بنائیں۔*
انتخاب #قلم_کہانی
A Pakistani content creator offered ordinary Pakistanis a wad of cash to burn the Indian flag.
Every single person refuses.
You can manufacture outrage. You can monetize hatred. But sometimes ordinary people remind you that patriotism does not require dehumanising your neighbour.
That is the Pakistan I recognise.
▪️ اپنی بیٹی یا بیٹےکو کبھی کسی سہیلی، دوست کے گھر نہ چھوڑو
▪️ نہ پڑھائی کے بہانے نہ دوستی کے نام پر
▪️ اپنے بچوں کو ایسا موبائل مت دو جس کا استعمال تم خود نہیں جانتے
▪️اپنے بچوں سے پہلے کبھی مت سو جانا
▪️جب تک وہ سو نہ جائیں تم جاگتے رہو
▪️رات کے دس بجے سے زیادہ کا وقت گھر سے باہر رہنے کی اجازت مت دو
یہی حد ہونی چاہیے
▪️اپنے بچوں کو سکھاؤ کہ صبح فجر کیلئے اٹھنا زندگی کی عادت ہے نہ کہ سزا
▪️اپنی بیوی کی عزت بچوں کے سامنے کبھی نہ توڑو
ورنہ وہ اس کی نہیں اپنی ماں کی قدر کھو دیں گے
▪️آج کل کے کیفے اور کھیل کے میدان اکثر بگاڑ کے اڈے بن چکے ہیں
▪️اپنے بچوں کو اکیلا وہاں نہ بھیجو
ان کے ساتھ رہو ان کی نگرانی کرو
▪️اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیٹی کسی غیر کے میٹھے لفظوں میں نہ بہکے
تو خود اسے سب سے پہلے پیار اور تعریف دو
تاکہ وہ کسی باہر والے سے یہ تلاش نہ کرے
▪️بیٹی تمہارا سکون اور تمہاری پناہ ہے
اس پر سختی مت کرو
ماں کو تربیت کرنے دو اور خود رہنمائی اور محبت کا کردار ادا کرو
▪️بیٹے کا دوست اس کا مستقبل ہے
اس کے دوستوں کے انتخاب میں خود شریک رہو چاہے دخل دینا پڑے
▪️تمہارے بیٹے یا بیٹی کے موبائل کا پاس ورڈ تمہیں معلوم ہونا چاہیے
یہ بدگمانی نہیں بلکہ حفاظت ہے
▪️ان کے فون اور سوشل میڈیا پر اچانک نظر ڈالنا کبھی کبھار ضروری ہے
مگر ایسا خفیہ رکھو تاکہ اعتماد قائم رہے
▪️بچوں کے ساتھ دوستی رکھو
زیادہ سختی سے وہ دور بھاگتے ہیں
مگر عزت اور ادب کی لکیر ہمیشہ واضح رکھو
▪️اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیٹی پڑھائی میں کامیاب ہو
تو اسے ہمیشہ حوصلہ دو
کیونکہ لڑکیوں کے لیے حوصلہ ہی دوا ہے
انہیں مارنا نہیں محبت سے سوارنا ہے
▪️یاد رکھو تم اپنی فیملی کے لیے جیتے ہو
تو فیملی کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لو
▪️اپنے بچوں کو ایسے تربیت دو کہ وہ تمہاری زندگی کے بعد بھی تمہارا صدقہ جاریہ بن جائیں
اور لوگ تمہیں تمہاری اچھی اولاد کے اخلاق سے پہچانیں
اللہم صل وسلم وبارك على سيدنا محمد
بچوں کو وقت دو کیونکہ کل وقت تمہیں بچے نہیں دیں گے۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس پیغام کو ریپوسٹ کریں۔ جزاک اللہ
کسی باپ کی بیٹی ہوگی، کس بھائی کی بہن ہوگی، اور کس ماں کی لختِ جگر ہوگی…
پتہ نہیں اس کی کیا مجبوری ہوگی کہ سڑکوں پر بائیک چلا کر محنت کر رہی ہے۔
لیکن شکر ہے، حلال رزق کے لیے محنت کر رہی ہے۔
اللہ پاک اس کی محنت میں برکت دے، عزت دے اور ہر مشکل آسان فرمائے۔ آمین 🤲
رزق حلال میں اللّٰہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے اور باپردہ عورت ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس کے پردے کی لاج رکھے آمین
جن لوگوں نے اپنا بچپن اور لڑکپن اپنے والد کے سائے کے بغیر گزارا ہو، وہی جانتے ہیں کہ ایک کم عمر بچہ خاموشی سے کتنی جنگیں لڑتا ہے۔ دنیا آخر میں صرف کامیابی دیکھتی ہے، مگر وہ زخم، قربانیاں اور جدوجہد کسی کو نظر نہیں آتیں جو ایک انسان کی شخصیت کو تراشتی ہیں۔ ساجد خان بھی انہی بچوں میں سے ایک تھے۔
کرکٹ ان کا خواب تھا، لیکن خواب مفت میں پورے نہیں ہوتے۔ پاکستان میں میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی آپ کو بیٹ، جوتے، کٹ اور بے شمار دوسری چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک معمولی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لڑکے کے لیے یہ سفر صبر اور حوصلے کا امتحان بن جاتا ہے۔ کھیل آپ کو دباؤ برداشت کرنا بعد میں سکھاتا ہے، زندگی پہلے ہی مشکلات کا سامنا کرنا سکھا دیتی ہے۔
آج ہم جس ساجد خان کو دیکھتے ہیں، ان کی بے خوف شخصیت اور کبھی ہار نہ ماننے والا جذبہ برسوں کی سخت جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ وہ لڑکا جس نے اپنے خواب کو زندہ رکھنے کے لیے بیٹ کی گرپس فروخت کیں، موبائل فون بیچے اور دبئی ایئرپورٹ پر ملازمت بھی کی۔ اس کے پاس کوئی شارٹ کٹ نہیں تھا، صرف بھوک، یقین اور کامیاب ہونے کی ضد تھی۔
لیکن ہر جدوجہد کرنے والے کھلاڑی کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایک فرشتہ ضرور آتا ہے۔ ساجد کو بھی اپنا فرشتہ گریڈ ٹو ٹرائلز کے دوران ملا۔ وہ مناسب جوتوں کے بغیر ٹرائل دینے پہنچے، مگر ان کی صلاحیت اتنی نمایاں تھی کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ سابق فاسٹ بولر عمران خان سینئر نے ان پر نظر ڈالی اور جوتوں کے بارے میں پوچھا۔ ساجد، جو ایک فوجی کے خوددار بیٹے تھے، مسکرا کر بولے: "میں جوتے پہننا بھول گیا تھا۔" عمران خان سینئر ان کی مجبوری سمجھ گئے، اس جواب کے پیچھے چھپی جدوجہد کو محسوس کیا اور انہیں دو جوڑے جوتے تحفے میں دیے۔ یہ چھوٹا سا احسان ان کی زندگی کا رخ بدل گیا۔
اس کے بعد ساجد خان ایک ایک قدم، ایک ایک لڑائی اور ایک ایک شاندار کارکردگی کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔ آج ہم ایک ایسے کھلاڑی کو دیکھتے ہیں جسے خون، پسینہ یا گرد کی کوئی پرواہ نہیں۔ اس کے لیے سب سے بڑھ کر اس کے سینے پر سجا پاکستان کا نشان اور اپنی ٹیم کی نمائندگی ہے۔
ایک ایسا اسپنر جس کا دل ایک فاسٹ بولر جیسا ہے۔ ایک ایسا جنگجو جو ہر وکٹ کا جشن ایسے مناتا ہے جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔ کچھ کھلاڑی صرف صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، مگر ساجد خان جیسے کردار درد، قربانی اور مسلسل جدوجہد سے تراشے جاتے ہیں۔ "اسپن کا شعیب اختر؟" شاید یہ مبالغہ نہیں، کیونکہ شعیب اختر کی طرح ساجد خان بھی صرف گیند بازی نہیں کرتے، وہ اپنے ساتھ ایک منفرد جذبہ، جنون اور رویہ بھی میدان میں لے کر اترتے ہیں۔
"آج ایک بھائی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا، 'میری شادی ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ بعض اوقات انسان کو دوسروں سے زیادہ اپنے ہی لوگوں کے رویے بدلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔'"وہ کہنے لگے:
"جس دن سے میری شادی ہوئی، گھر کا ماحول یک دم بدل گیا۔ میری دو بہنیں اور ایک بھائی ہے، اور میں سب سے بڑا ہوں۔ الحمدللہ، میرا کاروبار بہت اچھا ہے اور میری ماہانہ آمدنی لاکھوں روپے ہے۔ میری شادی میری خالہ کے گھر ہوئی اور یہ پسند کی شادی تھی۔
شادی سے پہلے میری بہنیں جو چیز مانگتیں، میں فوراً لا دیتا تھا۔ اگر کسی کو کپڑے خریدنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی تو میں دے دیتا۔ میں ہمیشہ ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ میرے والد ریٹائرڈ استاد ہیں اور انہیں پنشن ملتی ہے۔
شادی کے بعد جب میری اہلیہ نے کسی چیز کی فرمائش کی تو میں نے وہ چیز منگوا دی۔ جیسے ہی کھانا آیا، میری بہنوں نے کہنا شروع کر دیا کہ صرف بھابھی کے لیے ہی سب کچھ آتا ہے، ہمارے لیے کچھ نہیں آتا۔
میں نے جواب دیا کہ اگر آپ لوگوں کو بھی کچھ چاہیے تو بتا دیجیے، میں پیسے دے دیتا ہوں۔
اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ باہر چلا جاتا تو میری والدہ اور بہنوں کا موڈ خراب ہو جاتا۔ میرے والد انہیں سمجھاتے کہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے، انہیں خوش رہنے دو، لیکن کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
ایک دن میں اپنی بیوی کے ساتھ باہر سے واپس آیا تو والدہ نے دروازہ کھولا۔ ان کے چہرے پر غصہ صاف نظر آ رہا تھا۔ میں نے پریشانی سے پوچھا کہ خیریت تو ہے؟
والدہ نے جواب دیا:
'آج کے بعد اگر اپنی بیوی کو باہر لے کر جانا ہے تو پہلے مجھ سے پوچھ کر جانا۔'
یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ آخر ایسی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ گاڑی میری تھی، خرچہ میرا تھا اور میں کسی سے کچھ نہیں لیتا تھا۔ ابھی تو ہماری شادی کو بھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔
آہستہ آہستہ میں ذہنی دباؤ کا شکار ہونے لگا۔ پھر ایک دن میں نے اپنے والد سے بات کی۔ میں نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔
والد نے مسکراتے ہوئے کہا:
'بیٹا! تمہاری بیوی کی آمد کے بعد تمہاری ماں اور بہنوں کو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اب ان کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ پہلے تم ان کی خریداری کرتے تھے، ان کے ساتھ وقت گزارتے تھے، لیکن اب تمہاری توجہ اپنی بیوی کی طرف زیادہ ہو گئی ہے، اسی لیے وہ ایسا محسوس کر رہی ہیں۔'
والد کی بات سن کر میں بہت حیران ہوا، لیکن میں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ میں اس ماحول میں مزید نہیں رہ سکتا۔ میں نے کہا کہ آج نہیں تو کل میرے بچے بھی ہوں گے اور مسائل بڑھ جائیں گے، اس لیے میں الگ گھر بنانا چاہتا ہوں۔
میرے والد میری بات سن کر بالکل ناراض نہیں ہوئے، بلکہ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے کہا:
'مجھے خوشی ہو گی اگر تم اپنا گھر بنا لو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں اور اگر تمہیں پیسوں کی ضرورت ہوئی تو میں مدد بھی کروں گا۔'
میں نے جواب دیا:
'ابو! آپ نے مجھے اجازت دے دی، میرے لیے یہی بہت بڑی بات ہے۔'
یہ کہہ کر میں اپنے والد کے گلے لگ گیا۔
جب والدہ اور بہنوں کو اس بات کا پتا چلا تو گھر میں بہت شور شرابا ہوا، لیکن میرے والد نے سب کو سمجھا دیا اور صاف کہہ دیا کہ یہ فیصلہ میری اجازت سے ہو رہا ہے اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
الحمدللہ، میں نے چار مرلے کا پلاٹ خرید لیا ہے اور اپنے نئے گھر کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ آج حالات اچھے ہیں، لیکن کل کیا ہو گا، کوئی نہیں جانتا۔ اسی لیے میں نے یہ موقع ضائع نہیں کیا۔
ان شاء اللہ، بہت جلد ہمارا نیا گھر مکمل ہو جائے گا۔
"اے اللہ! ہمارے والدین کے دلوں میں ہمارے لیے محبت پیدا فرما، ہمارے گھروں کو سکون کا گہوارہ بنا دے، بہن بھائیوں کے درمیان محبت قائم رکھ اور ہمیں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔"
"حکماء کہا کرتے تھے:
تمہارا بیٹا پہلے سات سال تک تمہارا پھول ہے، اور اگلے سات سال تمہارا خدمت گزار۔ پھر جب وہ چودہ برس کا ہو جائے، تو اگر تم اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرو گے تو وہ تمہارا شریک اور رفیق بنے گا، اور اگر اس کے ساتھ بدسلوکی کرو گے تو وہ تمہارا دشمن بن جائے گا۔
اور بلوغت کے بعد نہ اسے مارنا چاہیے اور نہ اس کے ساتھ سختی اور بدسلوکی کرنی چاہیے؛ کیونکہ اس عمر میں وہ یہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ اس کا باپ دنیا سے چلا جائے، تاکہ وہ اپنی رائے کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکے۔"
ابن الجوزي رحمه الله
صيد الخاطر (١١٧٥)
**اگر آپ کے بچے نے FSC کے امتحانات دے دیے ہیں، تو صرف پاکستان میں Bachelor کروانے کا نہ سوچیں۔ ابھی سے بیرونِ ملک Scholarships کی تیاری شروع کریں، کیونکہ یہی صحیح وقت ہے۔**
پاکستان میں اس وقت FSC کے نتائج کا انتظار بھی ہو رہا ہے اور مختلف Universities میں Admissions کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ زیادہ تر طلبہ اور والدین اسی مرحلے پر صرف مقامی Universities کے بارے میں سوچتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی چند مہینے آنے والی **Fully Funded Scholarships** کی تیاری کے لیے سب سے اہم ہوتے ہیں۔
اگر ابھی سے صحیح Planning شروع کر دی جائے تو اگلے سال بیرونِ ملک **Bachelor Scholarship** حاصل کرنے کے امکانات کافی بڑھ سکتے ہیں۔
**سب سے پہلے کن Scholarships پر نظر رکھنی چاہیے؟**
ہر سال **Hungary Government Scholarship (Stipendium Hungaricum)**، **HEC** کے ذریعے پاکستانی طلبہ کے لیے کھلتی ہے، جس میں **Bachelor** سمیت مختلف پروگرامز کے لیے **Fully Funded Scholarship** دی جاتی ہے۔
اس Scholarship میں **HAT Test** کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چونکہ **HEC** سال میں کئی مرتبہ **HAT Test** منعقد کرتی ہے، اس لیے اگر آپ ابھی سے تیاری شروع کر دیں اور اچھے نمبر حاصل کر لیں تو آپ کی مجموعی Profile کافی مضبوط ہو سکتی ہے۔
اسی طرح **Brunei Government Scholarship** اور **Romania Government Scholarship** بھی **HEC** کے ذریعے پاکستانی طلبہ کے لیے آتی ہیں، جہاں **Bachelor** کی سطح پر بھی مکمل فنڈڈ تعلیم حاصل کرنے کا موقع موجود ہوتا ہے۔
**کیا صرف یہی مواقع ہیں؟**
بالکل نہیں۔
اگر آپ اپنی Academic Profile مضبوط بنا لیں تو **Taiwan، China، Hong Kong، South Korea، Thailand** اور کئی دوسرے ممالک کی Universities میں بھی براہِ راست **Scholarships** کے لیے Apply کر سکتے ہیں۔
یعنی مواقع کی کمی نہیں، اصل ضرورت صحیح معلومات، بروقت تیاری اور مضبوط Profile کی ہے۔
**ابھی سے کن چیزوں پر کام شروع کریں؟**
اپنے Academic Grades بہتر رکھنے کی کوشش کریں۔
اور**HAT Test** کی تیاری شروع کریں۔
اپنی English بہتر بنائیں، کیونکہ بعد میں **IELTS** یا دیگر Language Requirements درکار ہو سکتی ہیں۔
مختلف ممالک اور Universities کی **Scholarships** کے بارے میں باقاعدگی سے معلومات حاصل کریں۔
اپنے ضروری Documents جیسے Passport، Academic Certificates اور دیگر کاغذات وقت پر تیار رکھیں۔
**والدین کے لیے ایک اہم بات**
بہت سے والدین صرف اس لیے اپنے بچوں کو بیرونِ ملک بھیجنے کا سوچتے ہی نہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس پر لاکھوں روپے خرچ ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر سال ہزاروں پاکستانی طلبہ **Fully Funded Scholarships** پر دنیا کے مختلف ممالک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، جہاں **Tuition Fee، Monthly Stipend، Accommodation** اور کئی دیگر سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
اگر تیاری وقت پر شروع کی جائے تو ایسے مواقع حاصل کرنا بالکل ممکن ہے۔
**صرف FSC کے Result کا انتظار نہ کریں، بلکہ آنے والے ایک سال کی Planning آج ہی سے شروع کریں۔ یہی چند مہینے آپ کے مستقبل کا رخ بدل سکتے ہیں۔**
**اسد (ناروے)**
*یہ پوسٹ صرف معلومات اور آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بھی Scholarship میں Apply کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے یا University کی Official Website سے تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کریں۔*
ٹھوکر سے رکشہ پر ڈیفینس جانے کا اتفاق ہوا، رکشہ والے نے گاڑی کے شیشہ پر “یہ سب میری ماں کی دعا ہے” کا اسٹیکر آویزاں کررکھا تھا۔ دیکھ کر ہنسی آئی، پھر اس سے پوچھا کہ رکشہ چلانے کو اپنی
والدہ کی دعا قرار دے رہے ہو، کیا یہ اتنی بڑی فضیلت ہے؟
رکشہ والا مسکرا کربتانے لگا کہ صاحب میرا تعلق مظفر گڑھ سے ہے، والدکا حادثے میں انتقال ہوگیا تو سگے تایا نے مکان جائیداد پر قبضہ کرکے والدہ اور ہم چھے بہن بھائیوں کو گھر سےنکال دیا۔ماں ہمیں اپنے بھائی کے پاس لے کر لاہور آگئی، چنددن بعد بیگم کے کہنے پر ماموں نے بھی معذرت کرلی تو ساتھ والے محلے میں بیٹھک کرائے پر لے کر والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا اور رات گئے تک سلائی مشین پر محلے والوں کےوالوں کے کپڑے سینا شروع کردئے، تعلیم کا تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے، اسی لئے چھوٹی عمر سے سبزی منڈی جانا شروع کردیا، سبزی اور پھلوں کی لوڈنگ انلوڈنگ کرواتے اور ٹوکری پر پھل فروٹ بیچتے نوجوان ہوئے، پھر کنڈیکٹری شروع کردی، اس فیلڈ میں استادوں اور ڈرائیوروں کی مار کھاتے کھاتےجوان ہوئے اور پھر کسی کا رکشہ چلانا شروع کیا، پیسے اکٹھے کئے،کمیٹی ڈالی، پھر قسطوں پر اپنا رکشہ لیا، اس کی قسطیں ختم ہوئیں تو دو رکشے قسطوں پر لئے اور بھائیوں کو بھی سبزی منڈی سے ہٹاکر ساتھ لگالیا۔
تینوں بھائی مل کر کماتے رہے، والدہ سے سلائی مشین چھڑوائی، چھوٹے بھائی کو پڑھاتے رہے، کہ جو ہم نہیں بن پائے ، اسے بنادیں، بھائی نے ایم بی اے کیا، اسے بینک میں نوکری مل گئی، اس نے جس ماہ بینک سے گاڑی لیز کروائی، اسی ماہ اپنی کولیگ سے شادی کی اور ہمیں چھوڑ کر چلا گیا، اب کبھی کبھار آتا ہے۔
ہم تین بھائی رکشہ چلاتے ہیں، دوبہنوں کی شادیاں کردی ہیں۔ میرے تین رکشے مزید ہیں، جو کرائے پر دے رکھے ہیں، بھٹہ چوک میں گزشتہ برس اپنا چھوٹا سا گھر بنایا ہے، والدہ نے اپنی پسند سے میری شادی کردی ہے۔
ہم سب اکٹھے رہتے ہیں،اب ہم تینوں بھائیوں نے ایک پلاٹ تاڑ رکھا ہے، اسے خرید کر اس پر ایک اور گھر بناکر اگلے دوسالوں تک دوسرے بھائی کی شادی کرنے کا سوچ رکھا ہے۔
چونکہ والدہ ساتھ رہتی ہیں اور ان کی دعائیں ساتھ ہیں تو امید ہے کہ اگلے دوسال میں چھوٹے بھائی کا گھر اور اس کی شادی دونوں ہوجائینگی۔
یہ سب ماں کی دعا نہ سمجھوں تو کیا ہے؟
باقی کا سفر خاموشی میں کٹا اور میں سوچتا رہا کہ مجھے اپنی والدہ کی دعا کے باعث جتنا زیادہ اللہ پاک نے بنا محنت کے دے دیا، اس سے کہیں کم کسی کو ان تھک محنت کے بعد حاصل ہوا۔
اپنے ناشکرے پن پر ہزار بار توبہ استغفار کیا۔
سب سے بھی گزارش ہے کہ کسی کی حیثیت کا مذاق مت اڑائیں، کیا پتا ، اس نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے بھی اپنی ہڈیاں گلادی ہوں...!!!
Copied
🇨🇳 Chinese AI video about potential future wars.
Pay attention to the patch with the flag at 1:30; the Chinese AI model depicted the enemy very clearly.