لاہور میں تحریک انصاف کے ورکر اشتیاق کی میت کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا، وہ صرف ایک سیاسی کارکن کی تذلیل نہیں بلکہ انسانیت اور ہماری دینی و روایتی اقدار کا جنازہ ہے۔ ایس پی اقبال ٹاؤن کی سربراہی میں بھاری پولیس نفری کا ایک جنازے کو گھیراؤ میں لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت کس قدر خوفزدہ اور حواس باختہ ہو چکی ہے۔
جنازہ اور تعزیت وہ لمحات ہوتے ہیں جہاں سیاسی اختلافات، دشمنیاں اور تعصبات ختم ہوجاتے ہیں اور کٹھور سے کٹھور دل بھی پگھل جاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ طاقت کے نشے میں دھت پنجاب حکومت نے سیاسی انتقام کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
اخلاقیات کی پامالی: میت کو محض دس منٹ کے لیے گھر کے باہر لانے کی اجازت دینا اور قریبی رشتہ داروں کو آخری دیدار تک سے محروم کرنا جبر کی بدترین مثال ہے۔
خوف کا ماحول: پولیس کی کڑی نگرانی میں جلدی جلدی تدفین کروانا اور ویڈیو یا تصویر بنانے والوں کو ہراساں کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو اپنے ہی رویے کے بے نقاب ہونے کا ڈر ہے۔
جو حکومتیں جنازوں، صفِ ماتم اور دکھی خاندانوں سے خوفزدہ ہو جائیں، وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر اپنی شکست تسلیم کر چکی ہوتی ہیں۔ اقتدار عارضی ہے، لیکن سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا جانے والا یہ بے حس رویہ تاریخ کے سیاہ اور شرمناک ابواب میں لکھا جائے گا..
شیر کا جگرہ رکھنے والا چٹانوں سے ٹکرانے والا ہمارا مرشد کبھی ہار نہیں مانے گا لیکن اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اس کے بازو بنے اس کے خلاف جاری ناانصافیوں کے خاتمے کے لیے عملاً کچھ کرنے کی ضرورت ہے💔🥲
کافی دیر تک ذہن اسی خیال میں الجھا رہا کہ کالے شیشوں والی گاڑی کے اندر کیا منظر ہوگا اندر خان صاحب کس حال میں ہوگے؟ شائد ٹروزار اور ٹی شرٹ میں ہاتھ میں تسبیح سر جھکائے کسی ورد میں مگن ایسے ایسے بے نیازی کے ساتھ جیسے ارد گرد سختیوں کا ان پر کوئی اثر ہی نہ ہوں۔!!
آہ خان صاحب اہ۔💔
@alizaihere انشاء اللہ تعالی علی بھائی لازمی جنت میں ملیں گے جہاں موت نہیں انی اللہ تعالی اپ کے بھائی کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے