وزیرستان کا کرومائیٹ کرفیو کے دوران کیسے لوٹ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ پشتون وطن کو دھشتگردی کے نام پر ، سیکیورٹی کے نام پر جرنیل کیسے مل بانٹ کر کھا رہے ہیں۔ ایک جرنیل نے تیراہ کی بھنگ اور لکڑیاں پکڑی ہیں، دوسرے نے وزیرستان کا چلغوزہ اور تیسرے نے وزیرستان کے معدنیات پکڑے ہوئے ہیں۔ خود بیچ رہے ہیں، دنیا بھر کے ارب پتیوں سے انکی کمپنیوں سے ڈیل کر رکھے ہیں۔ اور ھمارے مفتی و امیر سانپ شریعیت کے لولی پاپ پر کھیل رہے ہیں۔!
شمالی وزیرستان سے بنوں تک مکمل کرفیو تھاآج ،
اور انہی حالات میں یہ ٹرک شمالی وزیرستان کے وسائل سے بھر کر بنوں پہنچائے جاتے ہے، جہاں سے انہیں پنجاب منتقل کیا جائے گا۔
ہمارے زمین پر کاروباری جنگ سے لوگ دربدر ہے ،
یہ محض چند ٹرکوں کی نقل و حرکت نہیں ,یہ ایک بڑے سوال کی تصویر ہے ,ہماری سرزمین کے وسائل پر سب سے پہلا حق کس کا ہے؟
قدرت نے ہماری زمین کو وسائل سے نوازا، مگر افسوس کہ یہاں کے لوگوں کو اکثر انہی وسائل کے ثمرات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جب ہماری اپنی ضروریات پوری نہ ہوں، ہمارے نوجوان مسائل کا شکار ہوں، اور ہماری بستیوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہو، تو پھر یہ سوال اٹھانا ہمارا حق ہے کہ ہماری زمین سے نکلنے والی دولت آخر کہاں جا رہی ہے؟
اگر وسائل ہماری سرزمین کے ہیں، تو ان کے فوائد میں ہمارے لوگوں کا جائز حصہ بھی ہونا چاہیے۔
ترقی اور وسائل کی تقسیم انصاف، شفافیت اور مقامی لوگوں کے حق کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔
ہم کسی کے حق پر ڈاکا نہیں چاہتے، ہم صرف اپنے حق، اپنے وسائل اور اپنی سرزمین کے ساتھ انصاف چاہتے ہیں۔
#PashtunLivesMatter
یہ فوج جو BLA کے خلاف کامیابیں سمیٹ رہی ہے پھر حسن ایوب اور حوالدار MF جیسے لوگ اس کامیابی کے ٹویٹ کرتے ہیں اور ساتھ اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے گانا بھی لگاتے ہیں
یہ کامیابیاں کھاریاں اور لالہ موسیٰ کے درمیان میاں جی کے ہوٹل کے پیچھے شادے کنجر کے ڈیرے پر فلمائی جا رہی ہیں
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور JUI سے اگرچہ میرا کوئی تعلق نہیں، مگر جو بات انہوں نے کی ہے،
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔
فوج کے جوانوں کو میں شہید سمجھتا ہوں، لیکن طالبان کیا اسی فوج نے نہیں بنائے؟ تحریکِ لبیک، جن کو یہ آج دہشت گرد کہتے ہیں، کس نے بنائی؟ کیا ایک فوجی فیض آباد میں سرِعام پیسے نہیں بانٹ رہا تھا؟ کیا یہی فوج امریکا کے لیے جنگیں نہیں لڑتی رہی؟
جرنیلوں نے ان سپاہیوں کا استعمال پریشر الیکشنز میں دھاندلی، چلتی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے کیا۔
اس فوج کو فوج رہنے دیں، کرائے کی فوج نہ بنائیں۔
پاکستانی فوج کی فاٹا اور سوات میں ماورائے عدالت قتل کی ویڈیو دیکھئے
پھر بھی کہتے ہے کہ پی ٹی ایم کا لہجہ سخت ہے لیکن کسی نے یہ نہی کہا کہ پاک فوج کے اعمال نیتن یاہو والے ہیں
#StopStateTerroism#StopPashtunGenocide
ویڈیو کو ذرا غور سے دیکھیں اور سنیں۔ یہ ویڈیو تیراہ کے قریب علاقے زخہ خیل قوم کی ایک دعوت کی ہے، جو مبینہ طور پر “گڈ طالبان” نے منعقد کی ہے۔ اس پروگرام میں مقامی ونگ کے ایک کرنل کو بھی دعوت دی گئی، جو اپنے ادارے کے مؤقف اور خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، جیسا کہ ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے۔
کرنل صاحب کے مطابق فوج اور دیگر لوگ زخہ خیل میں “گڈ طالبان” سے اس لیے خوش ہیں کیونکہ ان کے بقول علاقے میں جس انداز سے امن قائم کیا گیا ہے، وہ دنیا کی کسی بھی تنظیم نے نہیں کیا۔۔ اور بھی بہت کچھ سن سکتے ہے 👇🏻
کچھ تصاویر پختون سوشل میڈیا پر وائرل ہیں ۔ یہ مولانا طیب پنجپیری کی بیٹی کی شادی کی تقاریب سے لیک ہوئی تصویریں ہیں ۔ موصوف پختونخوا کے ایک تکفیری، متشدد، جہادی، سخت گیر اور انتشاری مولوی ہیں جو جمہوریت کو کفر کہتے ہیں ۔ تحریک طالبان پاکستان کے اکثر و بیشتر کمانڈر بشمول مولوی فضل اللہ کے موصوف کے مدرسے اور جماعت سے وابستہ رہے ہیں ۔ انکی مذھبی سخت گیری اور شدت پسندی پختونخوا میں ضرب المثل ہے لیکن خود انکے خاندان کی یہ تصویریں کسی فلمی خاندان کی زیادہ لگتی ہیں ۔ بات صرف ان تصاویر کی نہیں ہے، موصوف کا خود کا فیملی کلچر ویسے ہی کافی لبرل اور کھلا ڈلا ہے ۔ انکا ایک ہی بیٹا تھا جسکا حلیہ فلمی ہیروز جیسا تھا اور جسے مہنگی ہیوی بائیکس کا کافی شوق تھا ۔ وہ بائیک پر شپاٹر لڑکوں کی طرح ون ویلنگ اور ریس کیلئے مشہور تھا ۔ ایک دن بائیک پر اسی طرح کی کرتب بازی کے دوران ایکسیڈنٹ ہوا اور انکی موت ہوگئی ۔ دوسروں کے بچوں کو جغاد اور مذھبی شدت پسندی کی طرف راغب کرنے والے ان مذھب فروش مولویوں کا اپنا خاندان لہو و لعب سے بھی جی بہلاتا ہے اور ایک عیاشی کی زندگی بھی جیتا ہے ۔
انکے برین واش کئے ہوئے بیروزگار "چنڑے" اب لگے ہوئے ہیں ان تصاویر کو فیک اور اے آئی کہہ رہے ہیں لیکن یہ کہیں سے بھی اے آئی کی بنی تصویریں نہیں لگتی ۔ یہی بےروزگار چنڑے ان مولویوں کی طاقت اور کاروبار ہوتے ۔ ان ہی کے سر پر لئے چندوں سے یہ عیاشی کرتے ہیں، انہی سے اپنا دفاع کرواتے ہیں اور انہی کو ضرورت پڑنے پر اپنی لڑائی میں جھونک دیتے ہیں ۔