“اتوار 24 نومبر کو ہمارا احتجاج ہر صورت ہو گا۔
پاکستان کو بنانا ریبلک بنا دیا گیا ہے۔ ملک میں جمہوریت، آئین اور قانون کا جنازہ نکل چکاہے- چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو ضلعی عدالتوں کی طرح بےاختیار بنا دیا گیا ہے۔ جہاں سے کسی کو انصاف نہیں ملے گا۔
پاکستانی قوم اپنی نسلوں کے مستقبل کے لئے 24 نومبر کو نکلے!!
مجھے پیغام ملا کہ احتجاج کو دس دن تک مؤخر کر دیا جائے تو مذاکرات شروع کئے جا سکتے ہیں۔ ہمارے مطالبات میں بےگناہ قید سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ فی الفور قابلِ عمل مطالبہ ہے۔ لیکن لاہور میں قید رہنماؤں کو ڈیڑھ سال سے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے رکھا ہوا ہے۔ ان کو رہا کرنا سنجیدہ مذاکرات کی طرف مناسب قدم ہوتا۔ ایک سال سے جیل میں ہوں اس دوران مجھے ساٹھ سے زیادہ مقدموں میں ملوث کر دیا گیا۔ کل ہائیکورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد مجھے رہا کرنے کی بجائے ایک اور بےہودہ مقدمے میں گرفتاری ڈالی دی گئی- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کرنے والی قوتیں سنجیدہ نہیں ہیں۔
احتجاج ہمارا بنیادی آئینی حق ہے- ہم نے احتجاج اور مذاکرات کے لیے اپنے تین مطالبات رکھے ہوئے ہیں- احتجاج اور مذاکرات جاری رہیں گے- ہم سیاسی لوگ ہیں بات چیت سے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں- اگر وہ بات چیت میں سنجیدہ ہیں تو ہمارے انڈر ٹرائل لوگوں کو رہا کیا جائے۔
ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی تو کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ چین اور ہندوستان کو اوور سیز چائنیز اور ہندوستانیوں نے اٹھایا۔ ملک صرف ترسیلات زر سے نہیں سرمایہ کاری سے ترقی کرتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانی مجھے پچاس سال سے جانتے ہیں، جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے تو وہ کیوں سرمایہ کاری کریں گے؟
آپ دیکھیں گے کہ اتوار کو سمندر پار پاکستانی ساری دُنیا میں پاکستان میں جاری فسطائیت اور جبر کےخلاف تاریخی احتجاج کریں گے۔ ان کو کوئی ڈنڈے نہیں مارے گا نہ ہی ان پر شیلنگ ہو گی۔ وہ آزاد جمہوری ملکوں میں رہتے ہیں۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو
“24 نومبر غلامی سے نجات کا دن ہے
ملک میں قانون کی حکمرانی ، آئین کی پاسداری اور انسانی حقوق معطل ہیں جس کی وجہ سے پوری قوم کا باہر نکل کر قربانی دینا نا گزیز ہو چکا ہے-
قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ بہادر شاہ ظفر کی طرح موت تک غلامی کا طوق پہننا ہے یا ٹیپو سلطان کی طرح مرتے دم تک آزادی کا سہرا پہننا ہے!!
سعودی عرب سے میرے مثالی تعلقات ہیں۔ جب وزیر آباد میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو مجھے سب سے پہلی کال سفارت خانے کے ذریعے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی آئی۔ ہمارے دور میں شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا تاریخی دورہ بھی کیا- ہماری حکومت کے خاتمے سے دو ہفتے پہلے OIC وزرائے خارجہ کی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی جو سعودی عرب کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی- سعودی عرب ہر مشکل مرحلے میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے-
بشریٰ بی بی کے بیان کو توڑ مروڑ کر قوم کی توجہ بٹانے کی ناکام کوشش نہ کی جائے ۔ انھوں نے سعودی عرب کا نام نہیں لیا- ہماری حکومت کے خلاف تمام سازشوں میں جنرل باجوہ کا ہاتھ تھا- میں نے اس وقت بھی چیف جسٹس اور جنرل طارق خان کے ذریعے سازش کی تحقیقات کروانے کی کوشش کی مگر جنرل باجوہ نے ایسا نہیں ہونے دیا اگر تب شفاف تحقیقات ہو جاتیں تو سچ کھل کر سامنے آ جاتا۔
بشریٰ بی بی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، بطورِ اہلیہ انہوں نے احتجاجی کال کے حوالے سے قوم تک میرا پیغام پہنچایا- نواز شریف کے لیے مشرف دور میں کلثوم نواز بھی نکلی تھیں مگر اس نے ڈکٹیٹر ہوتے ہوئے بھی خاتون کو جیل میں نہیں ڈالا تھا مگر بشریٰ بی بی کو 9 ماہ جھوٹے مقدمات میں قید میں ڈالا گیا-
قوم اپنی توجہ 24 نومبر کے احتجاج پر رکھے-
انشاللہ فتح آپ کی ہو گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
میرے پاکستانیو!! میں نے جتنا ہو سکا ملک و قوم کی خاطر ہر قربانی دی، اور انشاء اللہ خون کے آخری قطرے تک آپ کی حقیقی آزادی کے لیے لڑتا رہوں گا۔ لیکن یہ جنگ صرف عمران خان کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔ اگر ہم آج اس ظلم و ستم کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو ہماری آئیندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی- جمہور کی طاقت سے ظلم کے نظام کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے، انشاء اللہ۔ آج میں احتجاج کی فائنل کال دے رہا ہوں۔ 24 نومبر کو آپ سب نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے 10 سال کیلئے غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ ملک میں بوگس پارلیمنٹ، بوگس وزیراعظم، بوگس صدر اور بوگس جمہوریت ہے۔ اس وقت جنرل مشرف سے زیادہ خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ قانون کی بالادستی جمہوریت ازادی اور ملک کے مستقبل کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اپنے سہولت کاروں کی مدد سے مینڈیٹ چوری کر کے ملک پر قابض مافیا کے زیر انتظام جاری فسطائیت کے نظام، آئین و قانون اور عدلیہ پر مسلسل حملوں، ہمارے بے گناہ لوگوں کو زندان میں میں ڈالنے والی جعلی حکومت کو بتانا ہو گا کہ قوم کو یہ سب نامنظور ہے۔
24 نومبر کے احتجاج کی قیادت تحریک انصاف لیڈرشپ کرے گی۔ میں نے پارٹی رہنماؤں کو جامع احتجاجی پلان دے دیا ہے۔ میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، احتجاج کو لیڈ کرنے اور ختم کرنے کا اختیار اس کمیٹی کے پاس ہوگا۔ مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری کمیٹی ان سے مذاکرات کرے گی-
میں اپنی پارٹی قیادت کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
جہاں یہ احتجاج پارٹی لیڈرز، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ناظمین، اور صوبائی و مقامی تنظیموں کا امتحان ہے، وہیں یہ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کا بھی امتحان ہے۔ میں ہر طبقے بشمول اپنے کاروباری طبقے، سول سوسائٹی، قانونی برادری، کسانوں، ریڑھی بانوں، تنخواہ دار طبقے سے کہتا ہوں کہ اسلام آباد پہنچیں۔ میرے نوجوان اور طلباء، جن کا مستقبل بالخصوص داؤ پر ہے، ان کو یہ ہدایت دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ اپنے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی میرا یہ پیغام ہے کہ قوم کے مستقبل کی خاطر دنیا بھر میں احتجاج کا حصہ بنیں اور پارٹی کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں-
مجھے اپنی قوم پر مکمل بھروسہ ہے اور میں یہ پیشنگوئی کر رہا ہوں کہ 24 نومبر کو پورا پاکستان اسلام آباد پہنچے گا اور عوام کا سمندر ہر رکاوٹ اور کنٹینر کو بہا لے جائے گا۔ اس دن یک زبان ہو کر پوری قوم کے یہی مطالبات ہوں گے:
- چھبیسویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دے کر آئین کو اپنی پرانی حالت میں بحال کیا جائے
- چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی
- بغیر ٹرائل گرفتار سیاسی قیدیوں کی رہائی
میرے پاکستانیو، اب کی بار ہم نے اپنے مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں لوٹنا”
Congratulations on behalf of myself & PTI to @realDonaldTrump for winning the US Presidential Elections. The will of the American people held against all odds.
President Elect Trump will be good for Pak-US relations based on mutual respect for democracy & human rights. We hope he will push for peace, human rights and democracy globally.