وہ لمحہ، وہ فراق
جب تم گئے۔۔
اس رنگِ خزاں پوش پیرہن میں
نرگس کی سی آنکھوں میں
اک عجیب سا سکوت
اک حرفِ وداع چھپا ہوا تھا
تم جانتی تھیں۔۔۔
یہ رستہ واپسی کا نہیں
یہ بچھڑنے کی آخری ساعت ہے
اور میں،
دل میں طوفان لیے
لب پہ صدا کا چراغ لیے
پتھر بنا کھڑا رہا
چاہا تھا
کچھ کہہ دوں، کچھ روک لوں
زمانے کو تھام لوں پل بھر کے لیے
مگر خامشی کی زنجیروں نے
مجھے اسیر کر رکھا تھا
تم بڑھتی گئیں
قدم ہلکے، پر دل شاید بھاری
اک لمحے کو وقت ٹھہرا
یوں لگا، تم پلٹو گی
خواب کی مانند،
کسی شکستہ دُعَا کی طرح
مگر کچھ نہ ہوا
اب۔۔
برسوں کی گرد گزر چکی
ہم وقت کے دوسرے کناروں پر
زندگی کے بیابان میں
خود کو ڈھونڈتے ہیں
مگر
روحیں آج بھی اسی لمحے میں قید
تم، واپسی کو بےتاب
میں، صدا کو زبان دینے کو
اک خواب… جو بس خواب ہی رہا
ع-س (فقیر 🍂)