Ali Zafar said
میری دنیا میں تیری تصویر ہے بنی
تیری دنیا میں میری کبھی بھی نہ تھی کمی
And Jaun Elia said
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تیری داستاں کے تھے ہی نہیں
تمہاری آنکھیں دو چھوٹے آئینے ہیں جن میں پوری کائنات سما جاتی ہے اور ان کے درمیان میرا عکس یوں بیٹھا ہے جیسے میں تمہاری ہی روشنی سے پیدا ہوا ہوں اور جیسے میں اس سکون کے عکس کے سوا کچھ نہیں تھا
میں ان میں دیکھتا ہوں تو خود کو تمہاری گہرائی میں ڈوبا ہوا پاتا ہوں وہاں تمہاری آنکھوں کی پتلی میں میں کبھی مٹنے والا نہیں ہوں اور جیسے میں ایک ایسی دھڑکن سے تخلیق ہوا ہوں جو کبھی مدہم نہیں ہوتی اور ایک ایسی چمک سے جو کبھی ٹوٹتی نہیں
جب بھی میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو ایک مہربان اندھیرے میں نئے سرے سے جنم لیتا ہوں جو میرے چہرے کو گلے لگاتا ہے اور میرے نقوش کو تمہاری خواہش کے مطابق دوبارہ تراشتا ہے
تم ہی ہو جو اپنی پلکوں کے درمیان دھاگے کو تھامے ہوئے ہو پس اگر نظر لمبی ہو جائے تو جگہ کھو جاتی ہے اور اگر میں ذرا سی جھپکی بھی لے لوں تو تمہاری آنکھوں کے مدار میں معلق رہتا ہوں نہ گرتا ہوں اور نہ جھکتا ہوں جیسے میں تمہارا وہ چھوٹا سا سیارہ ہوں جو تب تک دور نہیں جاتا جب تک تم خود دور نہ چلی جاؤ
اور جیسے میں تمہاری آنکھوں میں ایک ایسی کتاب ہوں جس کے صفحات پلٹے نہیں جاتے اور نہ ہی دن اسے مٹا سکتے ہیں تمہاری ہر نظر میری روح کے دفتر میں ایک نیا مصرع لکھتی ہے تو میں بڑھتا ہوں اور اتنا بھر جاتا ہوں کہ تم پر وہ سب کچھ بہا دوں جو مجھ میں چھپا ہوا تھا
اور اگر تم مجھ سے ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل ہو جاؤ تو تمہاری تصویر میری آنکھ میں سجی رہتی ہے پس میں اور تم دو ایسے آئینے ہیں جو خاموشی سے باتیں کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ دوری محض ایک وہم ہے اور قربت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم مجھے ہر وقت اپنی آنکھوں میں دیکھو جیسے میں تمہیں اپنی آنکھوں میں دیکھتا ہوں ہمیشہ بغیر کسی انتہا کے
مجذوبؔ
مجھ سے اونچا ترا قد ہے، حد ہے
پھر بھی سینے میں حسد ہے؟ حد ہے
میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں
تیرا نقطہ بھی سند ہے، حد ہے
تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر
میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے
عشق میری ہی تمنا تو نہیں
تیری نیت بھی تو بد ہے، حد ہے
زندگی کو ہے ضرورت میری
اور ضرورت بھی اشد ہے، حد ہے
بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن
چاند بس ایک عدد ہے، حد ہے
اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ ترے ضبط کی حد ہے؟ حد ہے
روک سکتے ہو تو روکو جاذلؔ
یہ جو سانسوں کی رسد ہے، حد ہے
جیم جاذل
آنکھ میں پھیلے کاجل کی مجبوری سمجھا کر
اے دل! پہلے بات ہماری پوری سمجھا کر
دیکھ کے بھی دانستہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا پھر
دیکھنے والی آنکھوں کی بے نُوری سمجھا کر
لبوں پہ پُھول کِھلتے ہیں کسی کے نام سے پہلے
دِلوں کے دیپ جلتے ہیں چراغِ شام سے پہلے
یہ سارے رنگ مُردہ تھے تمہاری شکل بننے تک
یہ سارے حرف مہمل تھے تمہارے نام سے پہلے
ماہ پاروں کے طِلسمات میں تیرا افسُوں
شیوہ و شعبدہ و رسم و روایات میں تُو
حرف و تقریر میں تُو، رمز و کنایات میں تُو
خواب کی بزم تِری، دیدۂ بےخواب تِرا
صُبح کے نُور میں تُو، نیند بھری رات میں تُو
دِل کی دھڑکن کا تِرے قُرب کے لمحوں پہ مدار
ہم نے جِس طرح تجھے چھوڑا ہے...ہم جانتے ہیں
I have never regretted falling in love with you. But what I went through made me realise you were the wrong choice. You are like a lifelong illness that people get used to living with. And after a while they feel incomplete without that. They forget how to live without having it.
A patient came in today, who looked exactly like you. Same height, build and even the beard. Same age. Worked in forces.
He had cervical pain. While treating him, there was a reel of memories playing in my mind.
He wants to visit for one whole week.
دل تک جو زینے آئے تھے ٬ معدوم ہو چُکے
تُجھ کو کہاں اُتار دوں ؟ کیسے اتار دوں ؟
ماحول صاف ہو تو بدن صاف رہتے ہیں
لا میں تِرے مکان سے جالے اُتار دوں
شاہد ذکیؔ