“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
جب تک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر، عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا نا کیا جائے،
جب تک تمام لاپتہ افراد کو بازیاب نا کیا جائے،
جب تک آئین اور قانون بحال نا کیے جائے،
جب تک چبھیسوی اور ستائیسوی ترامیم کو ختم نا کیا جائے،
جب تک خیبر پختونخوا سے لے کر بلوچستان تک شہریوں پر جنگ مسلط کرنا بند نا کیا جائے،
جب تک بلوچ طلبہ ملک کے ہر کونے میں محفوظ نا ہو،
جب تک پشتونوں کے خون پر کاروبار بند نا کیا جائے،
جب تک عوام کے منڈیٹ کو عزت نا دی جائے،
جب تک اپنے ہی شہریوں پر کیے گئے ریاستی جرائم اور بدمعاشی کا احتساب نا ہو,
تب تک
مزاحمت مزاحمت مزاحمت ✌️
Hey Elon @elonmusk !
Millions of Pakistanis are marching for restoration of democracy, protection of constitution and upholding of human rights, in their country this Sunday, November 24th.
The world needs to see and hear their remarkable story!
The illegitimate, authoritarian regime has not only shut down @X since February 2024, abducted and tortured social media activists as well as their family members, but is now planning on shutting down the internet altogether.
𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐍𝐞𝐞𝐝𝐬 𝐒𝐭𝐚𝐫𝐥𝐢𝐧𝐤!
#PakistanUnderFascism
#UndeclaredMartialLaw
#وہ_کون_ہے
رجیم چینج آپریشن کے بعد ایک افغان شہری کو عمران خان کو رستے سے ہٹانے کا ٹاسک دیا گیا۔ پختونخواہ پولیس اور سی ٹی ڈی نے کاروائی کرکے گرفتار کیا۔ موصوف کے پاس سرحد کے دونوں اطراف جو اہم ذمہ داریاں تھیں اور عوام میں جو ان کا پروفائل تھا وہ تو تشویش ناک تھا ہی، ان کی گرفتاری کا مقام اور ان کو چھڑوانے کے لیے جس سطح پر کوششیں کی گئیں وہ تفصیلات اور بھی ہولناک تھیں۔
عمران خان پورے پاکستان میں جلسے کر رہے تھے، اسی سلسلے کا ایک جلسہ صوابی میں بھی تھا، اطلاع موصول ہوئی کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ بروقت اطلاع ملنے پر پلان ناکام ہوا۔ جس شخص کو یہ ٹاسک سونپا گیا تھا، موصوف ڈبل ایجنٹ تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ کچھ ہی عرصہ بعد ایک پڑوسی ملک میں ایک ایسے حملے میں ان کی ہلاکت ہوگئی جس کی ذمہ داری دونوں جانب سے قبول کی گئی۔
پھر وہ دن بھی سب کو یاد ہی ہوگا کہ جب خان صاحب کے ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ ہوئی تھی۔ معلوم ہوا ہیلی کاپٹر میں غلط فیول ڈلوایا گیا تھا۔ بتایا گیا تحقیقات میں کچھ نہیں نکلنا کیونکہ فیول ڈلوانا جن کی ذمہ داری ہے رپورٹ بھی انہی نے مرتب کرنی تھی۔
پنجاب میں ایک جلسے سے واپسی پر اس بات پر اصرار کیا گیا کہ خان صاحب ایک مخصوص گاڑی میں سفر کریں۔ اور سفر کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ دلچسپ بات کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں بھی کچھ خاص نہیں نکلا۔
وزیر آباد حملے کے محرکات اور اس سے پہلے کے واقعات تو سب کے سامنے ہی ہیں، کیسے توہین مذہب کا بیانیہ بنایا گیا، جسے ٹاؤٹ صحافیوں کے علاوہ نیشنل ٹی وی پر بھی چلایا گیا اور پھر ایک “مذہبی جنونی” نے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ پھر کیسے ملزم کے بیانات پولیس ریکارڈ کرکے میڈیا سے چلواتی رہی، کہاں سے اس کا مقدمہ لڑا جارہا ہے اور کیسے اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی عمران خان کی ایف آئ آر تک نہ درج ہوسکی۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد بنی گالہ کے باہر لگے کارکنان کے کیمپ زمان پارک منتقل ہوگئے۔ بنی گالہ میں بھی متعدد بار مشکوک لوگوں کی جانب سے کیمپس میں تعلقات بنانے اور انٹر ہونے کی کوششیں ہوتی رہی تھیں۔ زمان پارک سے چار دفعہ مشکوک افراد پکڑے گئے، جنوبی پنجاب کے کیمپ سے ایک بندہ پکڑا گیا کارکن اس کو سائیڈ پر لے جا کر پوچھ تاچھ کر ہی رہے تھے کہ پولیس اس کو آکر لے گئی، بعد میں کوئی جواب نہیں کہ کون تھا، کہاں سے آیا تھا، کس نے بھیجا تھا۔ جب خطرہ ہی تحفظ دینے والوں سے ہو تو بندہ شکایت کہاں لے کر جائے؟
زمان پارک کی رہائش گاہ پر خودکش حملے کی اطلاعات تھیں۔ ہم نے بلٹ پروف گیٹ اور چاردیواری کے ساتھ ریت کی بوریاں رکھوانے کا انتظام کیا تو مزدوروں کو کام کرنے سے منع کردیا گیا۔ ریاست مذاق اور بیانیے بناتی رہی کارکن اپنے لیڈر کی حفاظت کے لیے خود بوریاں لگاتے رہے۔
۱۴ مارچ کو پولیس زمان پارک پہنچی، ۱۸ مارچ کو عمران خان نے عدالت پیش ہونا ہی تھا، اس سے پہلے بھی پیش ہوتے رہے تھے۔ پھر بھی ایسا آپریشن شروع ہوا جیسے کسی دہشت گرد کو گرفتار کرنے آئے تھے۔ عوام نے تو واٹر کینن اور شیلز دیکھے، چھتیس خول گولیوں کے میں نے خان صاحب کے گھر کے باہر سے اٹھا کر دیے۔ آئی جی پلاسٹک کی بوتلوں کے پٹرول بم پر پریس کانفرنس کرتے رہے ان کی فورس سابقہ وزیر اعظم کے گھر پر فائرنگ کرتی رہی۔
ایک طرف یہ رویہ تھا ریاست کا دوسری جانب بیانیہ بنایا جارہا تھا کہ زمان پارک میں دہشتگرد موجود ہیں۔ ہمیں خدشہ ہوا کہ یہ کسی فالس فلیگ آپریشن کا ارادہ رکھتے ہیں سو کیمپس میں سیکیوریٹی بڑھا دی گئی۔ اسی دوران کارکنان نے کیمپ سے ایک ادارے کا اہلکار پکڑا، انہی اہلکاروں کے ذریعے کیمپوں میں اسلحہ رکھوانے کا پلان تھا، اس اہلکار کو پرویز خٹک صاحب کارکنان سے چھڑا کر لے گئے۔۔ ۱۸ مارچ کا ڈیتھ ٹریپ بھی لمحہ بہ لمحہ کیمروں میں محفوظ ہے۔
مارچ کے آخری ہفتے میں عمران خان کو قتل کرنے کے ایک اور منصوبے کی اطلاع ملی۔ مبینہ طور پر یہ والا منصوبہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ دی رپورٹرز پروگرام میں اس منصوبے کا تذکرہ ہوا اور سو منصوبہ لیک ہونے کے سبب کٹائی میں پڑ گیا۔ لاہور کے چند افسران کی جانب سے قیادت کو متنبع کیا گیا کہ اس معاملے پر زیادہ بات نہ کریں۔ چونکہ یہ منصوبہ سیاسی پارٹی کا تھا، اداروں نے تصدیق کی کہ اطلاع مصدقہ تھی لیکن تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ نہیں کیا۔
عمران خان کی عدالتی پیشیوں اور ریلیوں کے دوران جیسا رویہ ریاستی اداروں کی جانب سے رکھا گیا، جیسے ان کی سیکیوریٹی واپس لی گئی اور ہماری ذاتی سیکیوریٹی کے نظام کو بھی بار بار مفلوج کیا گیا۔ جیسے ہمارے سیکیوریٹی پر معمور لوگوں کو بار بار اٹھایا جاتا رہا۔ یہ سب واقعات ایک ہی کہانی سناتے ہیں۔ اگست ۲۰۲۳ سے عمران خان ریاستی تحویل میں ہیں اور اب جب کہ بشری بی بی کے ٹیسٹس میں اتنی تاخیر کے باوجود یہ واضح ہے کہ ان کے کھانے میں کوئی ایسی شے ملائی گئی ہے جس سے ان کی صحت پر برا اثر پڑا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ اثرات آنے والے دنوں میں ان کی زندگی کے لیے مضر ثابت ہوں، عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں رہ جانی چاہئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے روازنہ کچھ ٹاؤٹس کے ذریعے لپیٹ لپاٹ کر دھمکیاں دی جاتی ہیں تو کیسے ہی انہی اور انہی جیسے دیگر ٹاؤٹس کی جانب سے ان کے اور بشری بی بی کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے بھی بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ مقصد ایک ہے عوام کو کنفیوژن میں رکھ کر اپنا مقصد پورا کرنا۔(میں اپنے دوستوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں ان کے بیانیوں اور ان کی تشریحات میں الجھنے اور اپنے آج کی فکر میں رہنے کے بجائے براڈر پکچر پر نظر رکھیں۔ عوام کا مفاد، وطن کے ساتھ وفاداری اگر کسی کی سیاست کی ترجیح نہیں بھی ہے تو یاد رکھیں ان فیملی انٹرپرائزز میں آپ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم اور آپ آج جو ہیں اور کل اگر کسی مقام تک پہنچ سکتے ہیں تو اس کا دارومدار صرف عمران خان کے نظریے پر ہے۔ خان صاحب کے ناحق قید، ان کی زندگی کو لاحق خطرات کا ذکر کریں۔ ان کے تحفظ کا سوال اٹھائیں۔ عمران خان اور بشری بی بی ریاستی تحویل میں ہیں، بنی گالہ سے لے کر اڈیالہ تک کا کنٹرول آئی ایس آئی کے پاس ہے۔ میں صاف اور واضح الفاظ میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں جنگل کا بادشاہ عمران خان کو ختم کرنے کا اعادہ کرچکا ہے۔ عوامی ریکشن کے پیش نظر یہ منصوبہ سلو پوائزننگ کے ذریعے بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے، جس سے ان کی طبیعت بتدریج بگڑنا شروع ہوگی۔ تاثر یہ دیا جائیگا کہ عمران خان ڈپریشن کا شکار تھے اور اس سبب (خدانخواستہ) حرکتِ قلب بند ہونے سے ہلاک ہوئے یا خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بہرطور اس منصوبے پر عملدرآمد متعدد مرتبہ کرنے کی کوشش کی جاچکی ہے اور کسی کو اس معاملے میں کوئی گمان نہیں رہنا چاہئے یہ کوشش جاری رہے گی۔ وللہ خیر الماکرین۔
#ReleaseImranKhan
جیسے سقراط جان گیا تھا کہ زہر کا پیالہ اُسے مارنے والا نہیں ہے، یہ جو کہتے ہیں عمران خان جیل میں مزید خطرناک ہوگیا ہے درست کہتے ہیں۔ بہت خطرناک ہوتا ہے وہ آدمی جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوجائے۔ جو جان جائے کہ اُس نے اپنی زندگی اُس کام میں لگا دی کہ جس کے لیے اُسے تخلیق کیا گیا تھا، جو اپنی پراگریس سے مطمئن ہوجائے۔ جسے اپنے خالق کے سامنے پیش ہونے میں کوئی عُذر نہ رہے۔ میں سوچتا ہوں کہ وہ جو اپنے رب سے سننا چاہتا تھا کہ “you tried your best” تو کیا ہم ساری قوم اور دنیا کا ہر مظلوم اس بات پر گواہ نہیں کہ اُس نے کوئی کثر نہیں چھوڑی؟ شوکت خانم سے لے کر نمل تک اور احساس سے لے کر ایک پوری قوم کو گویا کرنے تک؟ افغانستان سے لے کر کشمیر اور فلسطین پر ہوتے جبر سے لے کر اسلاموفوبیہ تک؟ اُمت مسلمہ کی آواز بننے سے لے کر آزادی کی اس جنگ تک۔۔ ?Didn’t he try his best اُس کے ہاتھ میں تو نیت اور کوشش تھی وہ اُس نے کرلی، دل و جان سے۔ وہ کامیاب بھی ہوگیا۔ اُس نے وہ کر دکھایا جو تاریخ میں کسی کو کرنا نصیب نہیں ہوا تھا۔ اُس نے اس قوم کو شعور دے دیا جس کی غفلت کی نیند پر کئی سوں کے خوابوں کے محل کھڑے تھے۔پر میں سوچتا ہوں اس سے آگے کیا وہ واقعی ہماری تقدیر کی قید سے آزاد ہوگیا ہے؟ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں عمران خان جیل میں خوش باش تھا۔ بشری بی بی کو اکلوتی تشویش یہ تھی کہ پیشیوں کے چکر میں ان کا اعتکاف نہ چھوٹ جائے۔ جب یہ کہتے ہیں کہ وہ سو سال بھی جیل میں رہنے کو تیار ہیں تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔ یہ جو چوبیس کروڑ کا ملک اپنے پنجوں پر چل رہا ہے اس خوف میں کہ کسی کی دُم پر پاؤں نہ پڑ جائے۔ یہ جو اپنے سانس لینے کے حق کے لیے دستِ سوال دراز کرتے ہوئے بھی “جل تو جلال تو” کا ورد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ جو چہروں پر تفکر ہے۔ انداز میں بے بسی ہے۔ آنکھوں میں غصہ ہے۔ لہجوں میں حالات کی تلخی۔ یہ جو سجدوں میں اُسی کا تذکرہ ہے۔ یہ جو بے دلی آسیب کیطرح ہمارے شہروں میں منڈیروں سے لٹک رہی ہے۔ سڑک کنارے فٹ پاتھوں پر بے کسی کے مزاروں پر آنکھیں بجھتے دیوں سی ہوگئی ہیں۔ یہ جو اپنی ہی گلیاں اژدھے سی پھنک پھیلائے اپنے باسیوں کو نگلنے بیٹھی ہیں۔ لا قانونیت، مہنگائی، بے وقعتی، بے سروسامانی۔ یہ قوم تو اس شخص کے بغیر کسی قہرزدہ بستی کے باشندوں سی لگنے لگی ہے۔ وہ جو کچھ روز پہلے ایک شعر گردش کر رہا تھا۔۔ غریب شہر تیرا خیرخواہ قید میں ہے۔ یہ جو ہمیں اللہ کے بعد ایک اس بات کا آسرہ ہے کہ کوئی ہے جو ہمارا خیر خواہ ہے۔۔ کیا وہ واقعی یہ سوچتا ہے کہ اُس کی ہماری طرف حُجت تمام ہوگئی ہے؟ کہ بس اُس کی ضرورت یہیں تک تھی اور اِس سے آگے ہم اپنے والی آپ ہیں؟ چاہیں تو اُس کا پڑھایا سبق آنکھوں میں بسائیں عمل میں لائیں۔ چاہیں تو تاراج ہوجائیں۔ جئیں یا مریں۔ میں سوچتا ہوں، اپنے اردگرد دیکھتا ہوں، یہ جو چند “اپنے” ابھی سے بیٹھ کر وراثت کی تقسیم میں لگ گئے ہیں۔ یہ جو ایک ہی فکر ہے کہ کوئی اُس سے زیادہ نہ سمیٹ لے جائے۔ یہ جو لاکھوں کی جہد سے آنکھیں پھیر کر مقصد کے بجائے محض من مرضی کے صلے کی نیت سے قربانیاں ازبر کرائی جارہی ہیں۔ یہ جو اُس کو بھول کر ہر معاملے کی فکر طاری ہے۔ یہ جانتے بھی ہیں کہ جو وہ کہہ رہا ہے اُس کے معنی کیا ہیں؟ کسی کے ہاتھ ککھ نہ رہیگا۔ نہ طاقت والوں کے ہاتھ۔ نا طاقت کے متلاشیوں کے ہاتھ۔۔ وہ جو طاقت کا سرچشمہ ہیں کسی کی نسبت سے ہمارے، تمہارے ہیں۔ اور جس سے اُن کو نسبت ہے وہ سوچتا ہے اُس نے اپنی حُجت پوری کردی ہے۔ اس سے آگے اپنا انجام جانتے ہو؟ کون ہو تم؟ اپنی خوش قسمتی کو محض بدنصیبی میں بدلنے جتنے اہل ہو۔ کس گمان میں جیتے ہو؟ عمران خان جیل میں مطمئن ہوگا، اُس کا اطمینان صرف ہماری غیرت کے لیے تازیانہ بھی ہوتا تو بہت تھا مگر وہ جو اپنے انجام کی قید سے آزاد ہوگیا ہے، یوں جو ہماری تقدیر کی فکر سے بے اعتنا ہوگیا ہے، اُس کا اطمینان ہماری موت کا پروانہ بن جانا ہے۔
Retweet if you would like an open trial of Wheeler Dealer Mohsin Naqvi & his crony IG Punjab for Murder, Torture, Kidnappings, Ransacking & Interference in Electoral Process.
They ran character assassination campaigns of ppl based on fake cases but will themselves be sentenced for their own real crimes.
three-member bench, CJP, Justice Muhammad Ali Mazhar & Justice Musarrat Hilali should reflect how their Jan 14, 2024 decision has impacted the country at large & added to the instability.
The will of the people, clear as it is, is unable to speedily be implemented as a mandated govt
🫴People voted for single largest party PTI
🫴PMLN no longer has monopoly over central punjab, constant decline in its stronghold
🫴 Hotis of Mardan, Khattacks of Nowshera, Blours of Peshawar, Legharis & Khosas of south Punjab + big names of central Punbab gone with the wind
🫴MQM with its 17 inexplicable seats, will be kept to maintain leverage over any govt that forms
🫴PPP is yet again kingmaker - will it opt for short term power grab or longer term political capital? Will BBZ prevail of his father?
Through it all, one thing has been constant, ECP sold its soul a long time ago.
We never really got to see the actual scorecard. So here is NA seats based on signed and stamped Form-45’s.
PTI-Ind: 180 🥇
PPP: 47 🥈
PMLN: 14🥉
MQM: 7
Independents: 7
JUI-F: 2
BNP: 2
PML-Q: 1
PMLN-Z: 1
BAP: 1
Haq do Tehreek Balochistan:1
PNAP: 1
MWM:1
IPP:0