#يو_ليوانې_قيصه_کوله_خو_چا_نه_اوريده👏
حکومتی کنٹرول میں ہے جمہوریت نہیں بادشاہت ہے، چیف آف آرمی سٹاف بادشاہ بنا ہوا ہے، سب کچھ احکامات وہ جاری کرتے ہیں۔
مشر
منظور احمد پشتین
کتنی افسوس کی بات ہے کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے، پھر انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم نے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔
تاریخ ہر چیز کو اپنے حافظے میں محفوظ رکھتی ہے، اور افغان وہ قوم ہیں جو اپنے خون کا حساب کبھی فراموش نہیں کرتی
اے پاکستان کے ملعون فوجیو!
کیا یہ معصوم بچے دہشت گرد تھے؟
ہم تمہارے اس ظلم اور جارحیت کا انتقام کبھی نہیں بھولیں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی افغانوں سے ٹکر لینے کی کوشش کی، وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا۔
پاکستان کی تباہی کا وقت بہت قریب ہے۔
ان شاء اللہ۔
I strongly condemn the arrest of PTM CC member @ZubairShahAgha1. His whereabouts remain unknown, and no FIR has been disclosed. This is a blatant violation of due process and fundamental rights. I demand his immediate release.
#ReleaseZubairShahAgha#EndEnforcedDisappearances
This video should have been recorded tomorrow, on the seventeenth year of my Father’s enforced disappearance. Instead, I am recording it today because for the last month and as recently as yesterday, I am being threatened with imprisonment. Seventeen years after they disappeared my father, I am still being forced to live in the shadow of the repression that stole him from us.
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی مرکزی کمیٹی کے رکن زبیر شاہ آغا کو کچھ دیر قبل کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس، جو ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی ظالمانہ سزا سنائے جانے کے خلاف منعقد کی گئی تھی، میں شرکت کے بعد واپسی پر اپنے دو دیگر ساتھیوں سمیت
In the Halimzai Nasapai area of Mohmand District, three unidentified individuals in plain clothes were present on a mountain. An ordinary Pashtun civilian, concerned for the safety of his area, asked them who they were. It was his right to ask. It is the right of every person who wants to protect their home, their land and their children.
But what was the response?
First the police arrived, then the FC (Frontier Corps) reached the area and instead of dialogue, bullets were fired, violence took place and an attempt was made to punish the entire village. They demanded that the person who dared to ask questions be handed over.
What kind of justice is this?
If officials come in plain clothes and do not identify themselves, how are ordinary people supposed to know who is a protector and who is a threat?
And if the public asks questions, is the answer to be bullets and violence?
This is not just the issue of one village; it is the issue of the entire Pashtun regions.
This is the same policy in which civilians are treated as suspects, while the state considers itself beyond accountability.
We state clearly:
In Pashtun areas, this “terror hidden behind the Pakistani army uniform” will no longer be tolerated.
#StopPashtunGenocide
آج 10 بجے علاقہ بدر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عام آبادی پر فائرنگ کے نتیجے میں محمد حسین گیگیاخیل کی 7 سالہ معصوم بیٹی "صنم وفات ہو گئی۔
پچھلے تین دنوں میں چالیس پشتون قاتل جب کے درجنوں زخمی ہے
ریاستی بدامنی نے پشتون قوم کا قاتلے عام شروع کی ہے۔
#StopDiscriminatingPashtuns
“اگر حملہ ناکام تھا، تو پھر 20 خاندان کیوں اُجڑ گئے؟
اگر سب قابو میں تھا، تو اتنے جنازے کیوں اٹھے؟
یہ صرف ایک چوکی نہیں تھی، یہ کسی ماں کا سہارا، کسی بچے کا باپ، کسی بہن کا بھائی تھا۔
بنوں کے پختون آج پھر اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں، مگر پاکستانی میڈیا کے لیے شاید یہ صرف ایک ‘بریکنگ نیوز’ ہے۔
کیا پختونوں کا خون اتنا سستا ہے کہ ہر سانحے کو صرف ‘ناکام حملہ’ کہہ کر ختم کر دیا جائے؟
جو لوگ شہید ہوئے، وہ بھی اسی پشتون سر زمین کے شہری تھے، اُن کے خواب، اُن کے بچے، اُن کے خاندان تھے۔
قوم سچ سننا چاہتی ہے، صرف سرخیاں نہیں۔
بنوں آج بھی رو رہا ہے، مگر ٹی وی اسکرینوں پر سب معمول دکھایا جا رہا ہے۔
پختون ہر بار لاشیں دیں، اور میڈیا ہر بار الفاظ بدل دے — یہ ظلم اب محسوس ہوتا ہے۔”
642 ورځې کېږی چې محترم علی وزیر د پنجابی استعماری په زندان کې شپې سبا کوی.
د خپل وطن او امن په خاطر د محترم علی وزیر او د دوی غیرتی کورنې مبارزه او قربانې د هیچه څخه پټه نه دا،د دوی ټولې کورنې ټول عمر د دې ځپلی قام او وطن په خاطر قربانې او مبارزه کړی.
#FreeAliWazir
آج میری رہائشگاہ پر سندھ کے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے اپنی تشریف آوری سے عزت بخشی، جن میں پیر صاحب پگاڑا کے صاحبزادے سید محمد راشد علی شاہ، معظم عباسی، حسنین مرزا، میر مظفر بروہی، سید معشوق شاہ، عباس جعفری، سنجے گنگوانی اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل شامل تھے، جہاں ملک و قوم کی مجموعی سیاسی صورتحال، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی اور مفید تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیلوفر ابراهیمی، نماینده پیشین مجلس در واکنش به بحثهای اخیر در مورد مرز دیورند، با نشر پیامی در صفحه اکس گفته است که این خط بهعنوان مرز رسمی تثبیت شده و «غیرقابل انکار» است.
بانو ابراهیمی نوشته است: «در واقعیت تاریخی و در چارچوب حقوق بینالملل، این خط بهعنوان مرز رسمی تثبیت شده و تمام؛ قابل انکار نیست.»
این اظهارات در حالی مطرح میشود که سخنان اخیر محمد محقق، رهبر حزب وحدت اسلامی مردم افغانستان، درباره مرز دیورند با واکنشهای گستردهای روبهرو شده است.
او در ادامه تأکید کرد که موضوع دیورند باید از احساسات و رقابتهای قومی جدا شود و هشدار داد: «تا زمانی که اختلافات میاناقوامی را حل نکنیم و روایت مشترکی از تاریخ نداشته باشیم، هر بحثی در حد شعار باقی خواهد ماند.»
ابراهیمی همچنین ریشه اصلی مشکلها را نه خود مرز، بلکه «فرار از واقعیت و اتهامزنی به دیگران» دانست و تصریح نمود که این رویکرد مانع شکلگیری یک اجماع ملی صادقانه درباره مسائل بنیادی کشور شده است.
وی در بخش دیگری از سخنانش با انتقاد از برگزاری کنفرانسها در پیش از چهار سال گذشته اظهار داشت که این نشستها در بسیاری موارد، بهجای پرداختن به حل ریشهای مشکلات، بیشتر به مصرف بودجه محدود ماندهاند.
او در پایان تأکید کرد: «زمان آن رسیده است که بهجای تکرار این چرخه، گفتوگوی صادقانه و مسئولانه را در اولویت قرار دهیم؛ بدون این گام اساسی، هیچ طرحی برای نجات یا آینده بهتر افغانستان به نتیجه نخواهد رسید.»
#آماج_نیوز
کیا Pashtun Tahafuz Movement کامیاب ہے یا نہیں؟
پی ٹی ایم نے پشتون علاقوں کے مسائل کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور لوگوں کی آواز کو دنیا تک پہنچایا، جو اس کی بڑی کامیابی ہے۔ تاہم، اس کے تمام مطالبات ابھی تک مکمل طور پر پورے نہیں ہوئے، اس لیے اسے جزوی کامیابی کہا جا سکتا ہے اور اس کی جدوجہد اب بھی جاری ہے۔
#PTM #PashtunTahafuzMovement #Pashtun #KPK #FATA
ان بیچاروں کو کیا پتہ تھا کہ ہم پاکستان کی ناپاک فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہیں..
آج پاکستان کابل میں اسرائیل کا وہی مظالم دہرا رہا ہے، جب اس نے غزہ میں ایک ہسپتال پر بمباری کر کے 500 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
کابل میں نشے کے عادی افراد کے اس ہسپتال کو پاکستانی حکومت نے بمباری سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بدقسمتی سے 400 تک شہید ہوئے۔
#Afghanistan #Kabul #StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide