ارسطو جب پیدا ہوا تو اس کے ارد گرد غلاموں اور لونڈیوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ ارسطو کے والد بادشاہ کے دربار میں طبیب تھے۔ ان کے پاس بھی غلام موجود تھے۔ ارسطو جب بڑا ہوا تو اس نے غلاموں کی حالت کا جائزہ لیا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو زندگی گزارنے کے لیے دوسروں کے محتاج ہیں۔ یہاں سے ارسطو نے "فطری غلامی" کا تصور تشکیل دیا۔ دوسری طرف ارسطو جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے حق میں نہیں تھا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ جنگجو "فطری" طور پر غلام نہیں ہیں، یعنی ان کو غلام بنانا غلط ہے۔ ارسطو نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ ممکن ہے جس جنگ میں قیدی بنائے جائیں اس جنگ کی بنیاد ہی غلط ہو۔ اس ��یے اگر جنگ غلط بنیاد پر لڑی جا رہی ہے تو اس میں بنائے جانے والے غلاموں کی بنیاد صحیح نہیں ہو سکتی۔
ارسطو جب جوان ہوا تو اس نے اپنے گھر میں موجود کئی غلاموں کو آزاد کر دیا۔
غلامی بارے ارسطو کے خیالات بہت پیچیدہ اور دلچسپ ہیں۔ تاہم ضروری یہ ہے کہ انہیں سمجھا جائے۔ آج ارسطو کے غلامی کے نظریے پر شدید تنقید ہوتی ہے۔ اس بارے کوئی عذر لنگ تراشنے کی کوشش نہیں کرتا، یہ کہہ کر کہ اس وقت غلاموں پر معیشت کا انحصار ہوتا تھا۔ آج سب ہی جانتے ہیں کہ ارسطو اپنے عہد کے غالب رجحان کو مسمار نہ کر سکا۔ اگرچہ غلاموں کو آزاد کرنے کا اس کا اپنا عمل اس کے عہد کے چلن کے خلاف تھا۔ بڑے لوگ اپنے ��ہد کی روایات کے پابند نہیں ہوتے بلکہ انہیں توڑتے ہیں۔ وہ ان روایات کا حصہ بن کر خود لونڈیاں رکھنی شروع نہیں کر دیتے۔ وہ اپنے شعور اور اخلاق کی بلندی کی وجہ سے صاحب تکریم کہلاتے ہیں، نہ کہ خود غلاموں اور لونڈیوں کا انبار لگا دیتے ہیں۔
شاہد بھنڈر
پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم پرخاموشی سفاکیت ہے جہاں ملا حکومت دونوں اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں
ملا کی نفرت انگیز سوچ اور حکومتی بے حسی نے احمدیوں کے لیے اس ملک کو جہنم بنا دیا
طاقت کے نشے میں حکمران اور زہر اگلنے والے ملا دونوں ہی ��س انسانیت سوز سلوک کے ذمہ دار ہیں
A Pakistani Muslim journalist and an American Christian fighter pilot are defying boundaries with their love story, highlighted in The New York Times, and inspiring a global conversation about the power of interfaith relationships 🇺🇸❤️🇵🇰
Once they both covered President Biden at White House where they find LOVE
. #LoveStory #Interfaith #Pakistan #America #MediaBites
Big news regarding the US immigration
USCIS has announced that green card applicants should return to their home country before applying.
Here’s what you should know: https://t.co/9iHghbm53i
#GreenCard
جس کسی کی سوشلز کو مونیٹیزیشن کی دکان مندی کا شکار ہو انکے لیے اکسیر نسخہ 👇🏼
اور
مولوی حضرات کی عورت کے ساتھ جنسی اوبسیشن کو کم کرنے کے لیے بھی ایک مشورہ 👇🏼
جنید حفیظ کی ��ج پھر سماعت تھی۔ اُن کے بزرگ والد گھنٹوں کا سفر کر کے لاہور ہائی کورٹ پہنچے لیکن دونوں معزز جج صاحبان نے آج پھر مقدمے کی سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالتیں یا وکلاء تنظیمیں ان جج صاحبان کو کن قوانین کے تحت پابند کریں کہ وہ مقدمہ سُننے کی ہمت کریں۔ جنید حفیظ گزشتہ سترہ س��ل سے عدالتوں کے رحم و کرم پر ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش اور ادارے بے بس ۔۔۔ انصاف کہاں ملے گا؟ #JusticeForJunaidHafeez
@Mughal3_1_3 سائنس اس کے برعکس ہے۔ گاڑی کا ٹینک اگر فل ہو تو فیول واپرز کم بنتے ہیں اور یہ زیادہ محفوظ ہے۔ اگر گاڑی کی ٹینکی زیادہ خالی رہے تو ویپرز زیادہ بنتے ہیں اور کئی مرتبہ جب تیل کے لئے ٹینکی کا ڈھکن کھولتے ہیں اور نوزل لگاتے ہی فیول باہر کو آتا ہے۔
میرا ریسٹورانت رہائشی محلے میں ہے ساتھ والی گلی میں ایک جرمن بزرگ جوڑا رہتا ہے جو کھانا کھانے مہینے میں دو مرتبہ تو آتے ہونگے۔مرد مُلحد ہے خاتون چرچ جانے والی ہے۔خاتون کو سال ہو چکا شدید فالج سے زیر علاج ہے
دونوں اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔وہ انکل کل بھی مجھے ہمیشہ کی طرح تاکید کر کے گئے ہیں کہ آپکا جو بھی دعا کا طریقہ ہے میری بیوی کہہ رہی ہے میرے لیے دعا جاری رکھیں میں ہلکا ہلکا بہتر ہو رہی ہوں۔
خالص ملحد ہو تو دوسرے خداؤں کے وجود کا احترام کرتا ہے گالیاں نہیں دیتا۔دیسی ملحدین پہلے ملحد (عربی لفظ ) کا معنی سیکھیں
ہر وقت چراغ پا نا رہا کریں
@ShamaJunejo It’s hard to imagine addressing colleagues as ‘Baji’ or ‘sister’ in professional settings in the UK. In the United States, such terms are generally considered unprofessional, as is the case with expressions like ‘honey’ or ‘sweetheart’ in the workplace.
امریکی فوجی کو ایران سے زندہ نکالنا اہم واقعہ ہے۔ یہ ایران کی بڑی ناکامی ہے۔ اس سنسنی خیز ریسکیو پر یقینی طور پر ہالی ووڈ میں فلم بنائی جائے گی۔ اس سے پہلے آرگو جیسی فلم بن چکی ہے جسے آسکر ملا تھا۔ آرگو میں انقلاب ایران کے بعد تہران میں پھنسے امریکی سفارت کاروں کو نکالا گیا تھا۔ وہ بھی سچی کہانی تھی۔
امریکا کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ بہت زیادہ تعصب ہے۔ بہت زیادہ پروپیگنڈا ہے۔
میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور تاریخ پڑھاتا بھی ہوں اس لیے امریکی تاریخ کے ان گوشوں سے واقف ہوں جو عام امریکی کی نظر میں نہیں۔ پاکستان ��یں رہنے والوں سے یہ توقع کرنا ہی درست نہیں کہ وہ درست امریکی تاریخ سے واقف ہوں گے۔ وہ تو اپنے وطن اور اپنے مذہب کی درست تاریخ نہیں جانتے۔
امریکا بے شک دنیا کا عظیم ملک ہے اور آزادی کی روشن ترین مثالیں یہاں قائم ہوئی ہیں۔ امریکا قائم کرنے والے رہنماوں نے آئین میں شہری آزادی یقینی بنانے کی ہرممکن کوشش کی اور بعد میں آنے والے رہنماوں نے اس روایت کو قائم رکھا۔ اس کے باوجود امریکی تاریخ میں چند سیاہ باب ہیں۔
امریکا اظہار کی آزادی کا سب سے بڑا چیمپین ہے، یہ اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن ہر آزادی کی حد ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات حکومت حالات کے مطابق بعض ناخوشگوار فیصلے کرتی ہے۔ ٹرمپ دور میں امیگریشن حکام کے اقدامات یا امریکا دشمن پروپیگنڈا کرنے والوں کے گرین کارڈ منسوخ ہونا انہونی بات نہیں۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔
امریکا ڈھائی سو سال پہلے قائم ہوا۔ اس وقت اس کے آئین اور بل آف رائٹس میں ایسی شہری آزادیاں دی گئیں جن کی مثال نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی پہلے نوے سال تک اس ملک میں غلامی جائز تھی۔
دوسری جنگ عظیم میں اسی عظیم ملک نے جاپانی پس منظر والے تمام امریکی شہریوں کو کیمپوں میں بند کردیا تھا۔
اسی عظیم قوم میں 1950 کی دہائی میں میکارتھی ازم کی لہر چلی اور بائیں بازو کا رجحان رکھنے والوں کو ان امریکن قرار دیا گیا۔ انھیں بلیک لسٹ کرکے ان کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ اس کی زد میں س��کاری ملازمین اور ہالی ووڈ کے فنکار بھی آئے۔
اچھی بات یہ ہے کہ امریکا اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ امریکا میں غلامی ختم کرنے کے لیے خانہ جنگی ہوئی۔ جاپانیوں سے بعد میں معذرت کی گئی اور ہرجانہ ادا کیا گیا۔ میکارتھی ازم بھی آخر ناکام ہوا۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ امیگریشن حکام درست کررہے ہیں یا غلط کررہے ہیں۔ وہ جو کچھ کررہے ہیں، اپنے ملک کے مفاد میں کررہے ہیں۔ کسی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو عدالتیں مکمل آزاد ہیں جو صدر ٹرمپ کے خلاف کئی فیصلے دے چکی ہیں۔ غیر قانونی مقیم افراد کی بیدخلی صرف موجودہ حکومت نے نہیں کی۔ ٹرمپ سے زیادہ لوگ تو صدر اوباما نے نکالے تھے۔
جہاں تک امریکا کے خلاف زیر آلود بیانات دینے والے ایرانیوں کے گرین کارڈ منسوخ ہونے کا معاملہ ہے، یہاں اعتراض نہیں بنتا۔ آپ کو امریکا پسند نہیں تو اپنے وطن جائیں۔ جو کہنا ہے، وہاں جاکر کہیں۔ امریکا میں تمام سہولتیں لے کر، ایران سے بیس گنا پیسے کماکر، امریکی آزادیوں کا فائدہ اٹھاکر امریکا کو برابھلا کہنا احسان فراموشی ہے۔ ��پ کا مہمان آپ کی روٹی کھائے، آپ کے گھر سوئے اور آپ کو صبح شام شیطان کہے تو کب تک برداشت کریں گے۔
@AzazSyed وفاقی عدالت کو یہ بھی جاننا ضروری تھا کہ کیا وہ "اہل کتاب" اپنی شریعت کے مطابق ایسا کر سکتی ہیں ؟
ویسے بھی اہل کتاب اسلامی اصطلاح ہے او�� یہودی یا مسیحی لٹریچر میں اس کا اسلامی تناظر کے ساتھ ذکر موجود نہیں ۔
@ArmedWithWords It is something that can happen when you lose some loved one. It’s trauma and grief. You may like to consult some mental health professional- a psychologist or psychiatrist. With professional help you can get through this.
@Doctor_Stigma وہ عام لوگوں کیلئے ہضم کرنا مشکل ہو جائے گا ورنہ میں پہلے ایک دو بار لکھ چکا ہوں کہ سچ مختلف حقائق کا مجموعہ ہوتا ہے سچ تک پہنچنا بہت مشکل ہے کوشش کریں کہ جتنے حقائق تک رسائی پا سکیں وہ کریں عرف عام میں سچ اور حقائق کو لوگ ایک ہی سمجھ رہے ہوتے ہیں لہذا ویسے ہی لکھ دیتے ہیں
@soulat_pasha کم خود اعتمادی اور عدم تحفظ کا شکار افراد/قومیں اکثر باتوں کو حد سے زیادہ ذاتی اور جذباتی انداز میں لیتی ہیں، اور پھر اسی شدت سے ردِعمل بھی دیتی ہیں۔مستزاد یہ کہ جھوٹی انا ایسی کیفیت سے نکلنے نہیں دیتی۔موجودہ دور میں بہت سے مسلم معاشرے اسی نفسیاتی کیفیت کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
میں نے یہ تحریر 15 جون 2025 کو فیس بک پرلکھی:
ایران اور اسرائیل تقریبا ایک جیسے ملک ہیں۔ دونوں کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے۔ ہزاروں سال پرانی تہذیب ہے۔ دونوں کے ہزاروں سال پرانے رشتے ہیں۔ دونوں پر اہل مذہب کا تسلط ہے۔ دونوں دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ دونوں کے عوام اپنی حکومتوں کی وجہ سے مشکل میں ہیں۔ دونوں کو ترقی یافتہ مسیحی اور غیر مسیحی ملکوں کے تعصب کا سامنا ہے۔
اگر کوئی فرق ہے تو یہ کہ ہزاروں سال کی جلاوطنی، ظلم اور ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں نے سروائیو کرنے کے بہتر ڈھنگ سیکھ لیے ہیں۔ انھوں نے سائنس و ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی سے اپنے لیے مقام بنالیا ہے۔ کاروباری حلقوں میں لوہا منوایا ہے۔ ایجادات کی ہیں اور نوبیل انعام حاصل کیے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کو عالمی سطح پر قبول اور نافذ کرنے کے لیے کاوشیں کی ہیں۔ دنیا بھر میں دوست بنائے ہیں۔
اسرائیل اور یہودیوں کا صرف ایک مطالبہ ہےکہ ان کے بچوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ انھیں صرف اپنی بقا کی خواہش ہے۔ ہزاروں سال تک دوسروں کے ملکوں میں بھٹکنے اور ظلم سہنے کے بعد انھیں اپنا وطن واپس ملا ہے۔ اب وہ اسے نہیں کھوسکتے۔ اس کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں۔
غزہ اور مغربی کنارے میں جو ہوتا ہے، اس کی کوئی امن پسند شخص حمایت نہیں کرسکتا۔ اسرائیلی حد سے آگے گزر جاتے ہیں۔ لیکن صرف مذمت کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سوچنا چاہیے کہ ہٹلر کا ظلم سہنے والے دوسروں کو کیوں مٹانا چاہتے ہیں؟ کیا یہ اتنے ہی ظالم لوگ ہیں؟
مسلمانوں کو صرف ایک طرف کا بیانیہ سننے کو ملتا ہے۔ دوسری طرف کا موقف یہ ہے کہ فلسطینی بھی ظالم ہیں۔ ان کے پرائمری اسکولوں تک میں یہودیوں کو قتل کرنے کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ ان کا بچہ بچہ جان لینے اور جان دینے کی آرزو رکھتا ہے۔ اگرچہ مجھے پوری طرح یقین نہیں لیکن اسرائیلی فوجیوں نے مجھے بتایا کہ وہ جس فلسطینی گھر یا کیمپ یا اسپتال پر چھاپا مارتے ہیں، وہاں ہٹلر کی تصویر، اس کی کتاب، اس کا نشان برآمد ہوتا ہے۔ وہ فلسطینیوں کا آئیڈیل ہے۔
اسرائیل مسلمانوں کے لیے ناجائز ریاست ہے۔ لیکن کس فارمولے کے تحت؟ قدیم امریکیوں سے پوچھیں، ان کے لیے موجودہ امریکی ریاست ناجائز ہوگی۔ عثمانی ترکوں سے پوچھیں، ان کے لیے سعودی عرب ناجائز ریاست ہوگا۔ ناراض بلوچوں سے پوچھیں، ان کے لیے پاکستان ناجائز ریاست ہوگا۔ انقلاب کے بعد وطن چھوڑنے والے ہزاروں ایرانی امریکا میں موجود ہیں۔ یہیں فئیرفیکس میں ان کی بڑی آبادی مقیم ہے۔ ان کے لیے ایرانی ملا رجیم ناجائز ہے۔
مسئلے کا صرف ایک حل ہے، جس کے بعد موجودہ جنگ بھی ختم ہوجائے گی، غزہ کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا، پورے خطے میں امن ہوجائے گا۔ لیکن وہ حل کوئی مانے گا نہیں۔ حل یہ ہے کہ ترکی، اردن اور مصر کی طرح تمام مسلمان ملک، ایران اور پاکستان سمیت تمام مسلمان ملک اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ اس کے وجود کو مٹانے کی باتیں چھوڑ دیں۔ اس کے لیے خطرہ بننے کا ارادہ ترک کردیں۔
بہت سے امریکی اور یورپی مسیحی اسرائیل کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن وہ اسے ختم بھی نہیں ہونے دیں گے۔ ایران کے ساتھ سارے مسلمان ملک کھڑے ہوجائیں تب بھی اسرائیل کو نہیں مٹاسکتے۔ لاحاصل مشق کرنے سے اپنا ہی نقصان ہوگا۔
ایران کو بھی نہیں مٹایا جاسکتا۔ لیکن عربوں، اسرائیل اور امریکا کو پراکسی وارز کے ذریعے پریشان کرنے والے ملا رجیم کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل اگر فوجی جرنیلوں کے بجائے نگہبان کونسل کو اڑا دیتا تو ایسا ہوجاتا۔ یہ اب بھی ناممکن نہیں۔ ایران میں بہت سے لوگ مجتہدین کے حامی ہیں لیکن بہت سے خلاف بھی ہیں۔ خلاف نہ ہوتے تو اسرائیل کی مدد کرتے؟ ان کی مدد نہ ہوتی تو اسرائیل اتنے ٹھیک ٹھیک نشانے لگا پاتا؟
اسرائیل کی بھی حکومت بدلنی چاہیے۔ نیتن یاہو شدت پسند وزیراعظم ہیں۔ ان کی حکومت کمزور بھی ہے۔ لیکن جب تک اسرائیل کی بقا کو خطرہ رہے گا، ایران جیسے ملکوں کی دھمکیاں ملتی رہیں گی، نیتن یاہو کو سیاسی حمایت فراہم رہے گی، وہ برسراقتدار رہیں گے۔ اگر چلے گئے تو ک��ئی اور شدت پسند وزیراعظم آجائے گا۔
یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امن اور فلسطینیوں کا تحفظ اسرائیل کو خطرات کے خاتمے سے مشروط ہے۔