" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
ٹرمپ کی 20 ماہ کی صدارت میں امریکہ نے 7 ملکوں پر حملہ کیا ۔ پڑوسی مسلمان ملک ایران پر دو دفعہ جنگ مسلط کی۔ اسی عرصے میں ٹرمپ کی پشت پناہی کے ساتھ اسرائیل نے 6 ممالک پر حملہ کیا۔ 25،000 فلسطینی، بشمول 8000 بچے شہید کئے ۔ بس کر دیو میاں صاحب۔ مسلمانوں کی شہادتوں کا مذاق نہ اڑائیں۔
He scored 3807 runs and took 362 wickets in Test cricket!
3709 runs and 182 ODI wickets and was Pakistan's 1992 World Cup winning captain 👏
Happy birthday Imran Khan!
Pakistan's finest cricketer and one of the game's all-round greats, he led the country to World Cup glory in 1992 🏆
The legendary Imran Khan turns 74 today
پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینے کے لئے عام لوگوں کے لئے سڑک بند کر دی تا کہ سہیل آفریدی کا قافلہ گذر جائے لیکن سہیل آفریدی نے سڑک بند کرنے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا اور پنجاب پولیس سے کہا کہ آپ سڑک کھول دیں پولیس نےانکے ساتھ بہت تمیز سے بات کی
پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے الزام سے بری قرار دینے کا کارنامہ بھی صرف پنجاب کی وزیراعلیٰ سرانجام دے سکتی ہے سندھ، پنجاب یا بلوچستان کا وزیراعلیٰ ایسی بات کردے تو اسکی زندگی عذاب ہو جائے
ناجائز نظام کی پیداوار فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ساتھ لگنے والے پاکستان کے تینوں دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مودی اور انڈیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اس کے بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اور اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی مزید سوال کھڑے کر دئیے ہیں !!
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران بھی نوازشریف سمیت یہ ٹولہ غائب رہا تھا اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان نہیں آیا۔اور ڈان لیکس کے زریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگا دیا تھا- یہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں - پاکستان، پاکستانی اور پاکستانی ادارے صرف ان کے لئے تبھی قابل احترام رہتے ہیں جب تک یہ ان کی ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ PMLN کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے-
ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے فیصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
یہ آخر کون سی جنگ ہے جہاں قلم اور کتاب اٹھانے والے معصوم بچے نشانہ بن رہے ہیں؟ کب تک ہمارے گھروں، سکولوں اور مستقبل کو بارود کے زور پر یونہی روندا جاتا رہے گا؟
باجوڑ (شاہی تنگی) میں ڈرون حملے میں دو معصوم طالب علموں کی شہادت انتہائی افسوسناک اور دل چیر دینے والا واقعہ ہے۔ حالتِ جنگ میں بھی بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں۔ مارٹر گولوں اور ڈرون حملوں سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کی صریح خلاف ورزی اور ناقابلِ قبول ہے۔
ان بچوں کا جرم کیا تھا؟؟؟؟؟
ریاست،/حکومت جواب دے؟؟؟؟
باجوڑ شاہی تنگی،تحصیل و تھانہ واڑہ ماموند، میں ڈرون حملے میں سکول جاتے دو بچے شہید ۔
شہید بچوں کے نام
1.حسن ولد اسرار عمر 10سال۔
2.معلوم ولد ممتاز عمر 12سال ۔
ابھی چند دن پہلے وزیرستان میں قبائلی مشر چیف آف احمد زئی وزیر بھی دھماکے میں شہید کردیئے گئے۔جبکہ اس سے پہلے مولانا محمد ادریس شہید کردئیے گئے۔
بچوں ،بڑوں، قبائلی مشران ،علماء کا خون کب تک اس بےدردی سے بہایا جائیگا،
خیبر پختون خوا کو امن کب دیا جائے گا؟؟؟؟۔
ضلع باجوڑ کے علاقے ماموند شاہی تنگی میں آج جمعرات کو ایک مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں سکول سے گھر جانے والے دو کم سن طلبہ شہید ہو گئے۔
ان بچوں کا قصور کیا تھا؟ کیا معصوم بچے دہشت گرد ہیں؟ اسکول کی وردی میں ملبوس ان کم سن بچوں پر لوہے کے یہ اڑتے ہوئے جلاد کس قانون کے تحت مسلط کیے گئے ہیں؟
غلط ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے قبائلی اضلاع کے عوام دہائیوں سے قربانیاں دے رہے ہیں اور بدامنی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ اب مزید معصوم بچوں کا خون بہنا بند ہونا چاہیے۔
ہم اس وحشیانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ باجوڑ کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس قتل عام کا حساب لیا جائے۔
بِأَيِّ ذَنۢبٍ قُتِلَتْ
*ترجمہ:*
"کس گناہ کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا؟"
آج میرے باجوڑ میں سکول جاتے بچوں پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں ایک معصوم بچہ شہید ہوگیا اور ایک شدید زخمی ہے۔ یہ وہی علاقہ شاہی تنگی ہے جسے چند دن پہلے خالی کرا کے آپریشن کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود مسلسل عام لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
باجوڑ میں جاری اس گندے کھیل میں آج تک کوئ علاقہ مکمل طور پر کلئیر کرایا گیا۔ ہم نے ہر قسم کا احتجاج کیا، ہائی لیول میٹنگ ، سکیورٹی کمیٹی کے میٹنگز ا میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، مگر آج بھی ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ ہمیں مارنے والا کون ہے اور انکے مقاصد کیا ہیں ۔
ہم طالبان اور فوج کے پاس قران لیکر گئے اس قران کے واسطے ہمیں جینے دیا جائے۔
مارٹر گولوں سے ہمیں نشانہ بنایا گیا، ہیلی کاپٹروں سے عام عوام کو مارا گیا، اور اب ڈرون حملوں کے ذریعے مسلسل بے گناہ لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔
ہم انتہائی بے بسی کے عالم میں ریاستی دہشتگردی کا یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
ریاست کو بچے بھی دھشت گرد نظر آتے ہیں ۔ بند کمروں میں بیٹھ کر ڈرون اڑنا اور بم پھینکنا عام آدمی بھی کر سکتا ہیں اتنے بڑے فوج کی کیا ضرورت ہیں۔
اس معصوم سکول جاتے بچہ کے گھر والے آخر اس ملک کے نظامِ انصاف پر کیسے یقین رکھیں؟ وہ اس ملک سے محبت کا کیسے سوچیں، جس کے قابضین مسلسل بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں؟
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید کردیئے گئے،
ان للہ وانا الیہ راجعون۔۔
شیخ کی شہادت کی خبر نے دل انتہائی رنجیدہ کردیا ہے،
یہ بدترین دہشتگردی ہے،منبر و محراب ،مسجد و مدرسہ اور مرکز اسلام پر حملہ ہے،وہ ایک عظیم خادم قرآن و سنت تھے،قرآن وسنت کا ایک عظیم چراغ بجھا دیاگیا،اس سانحہ عظیم پر تعزیت کیلئے الفاظ نہیں، یہ امت کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔
کیا صوبائی، وفاقی حکومتیں ،سیکیورٹی ادارے،انٹلی جنس ایجنسیاں بتا سکتی ہیں کہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کب ختم ہوگی؟؟؟؟علماء، قبائلی مشران سے لیکر چھوٹے بچوں تک کوئی بھی دہشتگردوں سے محفوظ نہیں۔
اللہ تعالٰی شیخ ادریس شہید کی شہادت قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
As Chairman of Peshawar Zalmi, my heart is full of pride and gratitude tonight. Seeing our team crowned champions of Pakistan Super League Season 11 feels incredibly special — a season defined not just by results, but by purpose, belief, and the quiet determination to keep showing up and delivering.
This title belongs first and foremost to the players. From the very beginning, they embraced the mission with clarity and heart. Their discipline, consistency, and collective spirit turned belief into reality. They truly earned every bit of this success.
I want to especially recognise our captain, Babar Azam (@babarazam258). Leading from the front as the tournament’s highest run-scorer while carrying the weight of expectation with such composure, class, and dignity is something very special. He has been an outstanding leader and an even better ambassador for the game.
None of this would have been possible without the tireless dedication of our coaching staff and support team. Their thoughtful planning, attention to detail, and unwavering commitment behind the scenes created the perfect environment for the players to flourish. I’m deeply thankful for their professionalism and care.
I also extend warm appreciation to our team management for their strong leadership and steady guidance throughout what was a demanding season.
A heartfelt thank you to Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) and Salman Naseer (@salnaseer), along with the entire PSL organisation. Under difficult circumstances, they worked hard to deliver a tournament that brought joy to millions of fans and maintained the prestige of Pakistan’s biggest cricket league.
To our sponsors and partners — your continued faith and support have been invaluable. This victory is yours too.
And to our incredible Zalmi fans… from day one, your passion and belief have lifted us. You stood with us through every moment, and this trophy is as much yours as it is the team’s. Thank you for being the heartbeat of this franchise.
We set our standards high. We stayed true to them. And now, together, we stand as champions.
Yellow Storm 🏆