Vice President @IDFKPOfficial | MBBS, MS Healthcare Management | MS THQ Karak | Member of team Imran Khan Reforming KP’s Healthcare System #InsafDoctorsForum
چیئرمین بورڈ آف گورنرز ایوب ٹیچینگ ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل کا انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام عمران خان کی صحتیابی کیلئے ختم القرآن اور رہائی کے حوالے سے منعقدہ رمضان افطار ڈنر سے خطاب
پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے نگران دورِ حکومت کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مجھے شدید دباؤ ڈالا گیا کہ میں کرپٹ اور سفارشی افراد کو بورڈ آف گورنرز کے ممبر کے طور پر تعینات کروں، لیکن میں نے اصول اور ایمانداری کے ساتھ ایسا نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے نگران حکومت کے دباؤ کے سامنے اپنا استعفیٰ دے دیا۔
انہوں نے پھر ایم ٹی آئی سسٹم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ سسٹم ڈاکٹرز کے لیے عزت، تیز پروموشن، اور شفافیت فراہم کرتا ہے۔ پہلے پرانا سسٹم ڈاکٹرز کے لیے کس قدر ذلت آمیز تھا! ڈاکٹرز بیچارے سیکرٹریٹ میں ذلیل ہوتے تھے، کبھی ایک سیکشن افیسر کے پاس، کبھی دوسرے کے پاس۔ پھر سیکرٹریز کی لمبی لسٹ، اور اس کے بعد ہی کہیں پروموشن یا ایکس پاکستان لیو ملتی تھی۔ آج بھی دیکھ لیں، میڈیکل افیسرز کی پروموشنز سالوں تک لٹکتی رہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم ٹی آئی سے پہلے، صرف ایک آسامی کی تخلیق کے لیے مجھے محکمہ صحت سے لے کر محکمہ خزانہ اور پھر چیف منسٹر تک جانا پڑتا تھا۔ لیکن جب میں چیئرمین بنا، ایک بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ میں فوراً دس سپیشلسٹ اسامیوں کی تخلیق کا فیصلہ کیا اور وہ فوراً منظور ہو گیا: 5 اسسٹنٹ پروفیسرز اور 5 سینئر رجسٹرار۔
آخر میں پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے کہا: ”ہمیں ہمیشہ بورڈ آف گورنرز کے لیے اچھے اور شفاف لوگوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ جب یہ معیار برقرار رہے گا، آپ خود دیکھیں گے کہ یہ سسٹم کس طرح کامیابی کے نئے معیار قائم کرتا ہے اور ڈاکٹرز کے لیے حقیقی ترقی اور انصاف فراہم کرتا ہے۔“
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل
#InsafDoctorsForumKP #IDFKPUpdates #InsafDoctorsForumAbbotabad
مرکزی صدر انصاف ڈاکٹرز فورم ڈاکٹر مُدیر خان وزیر ( @DrMudirKhanIDF ) کا عمران خان کی صحتیابی کیلئے ختم القرآن اور رہائی کے حوالے سے منعقدہ رمضان افطار ڈنر سے خطاب
میں انصاف ڈاکٹرز فورم ( @InsafDrsForum ) کی طرف سے، تمام ہیلتھ کمیونٹی کی طرف سے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان، سینیٹر خُرم زیشان ( @khurramzeeshan ) رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت علی خان، بورڈ آف گورنرز کے چیئرمینز، فیکلٹی ممبران، ڈی ایچ اوز، ایم ایس صاحبان اور دیگر ہیلتھ کمیونٹی کے تمام ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکالا اور افطار ڈنر میں شرکت کر کے ہمیں عزت سے نوازا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ افطار ڈنر منعقد کیا۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
یہ افطار ڈنر ایک خاص مقصد کے لیے تھا، اُس انسان، اُس لیڈر کی صحت کے لیے ایک یاد دہانی ہے جس کی حمایت اور رہنمائی کے باعث میں اس سٹیج پر کھڑا ہوں، اور میرے ساتھ انصاف ڈاکٹرز فورم کے ممبران نے یہ جدوجہد شروع کی ہے۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
آج مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں تمام بورڈ آف گورنرز کے چیئرمینز انتہائی کمپیٹنٹ، قابل اور مخلص ڈاکٹرز ہیں۔ اس لیڈر نے ہمیں سرکاری بابوں سے آزادی دلائی اور بڑے ہسپتالوں کو خودمختار کیا۔ پہلے ہمارے پروفیسرز صاحبان سیکشن افسران اور سیکرٹریز کے دفتر کے سامنے گھنٹوں انتظار کرتے تھے۔ یہ خودمختاری ہمیں اُس لیڈر نے دلوائی جو آج آڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ناحق قید ہے۔ وہ لیڈر جس نے صوبے کی تمام عوام کو بغیر کسی تفریق کے مفت علاج کی سہولت دی، صحت انصاف کارڈ دیا، وہ آج جیل میں ناحق قید ہے۔ اور خود اپنے علاج و معالجہ کی سہولیات سے محروم ہے۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
انصاف ڈاکٹرز فورم جب سے وجود میں آئی ہے تب سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم مریضوں کو علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات دینے کے لیے جدوجہد کریں اور ڈاکٹرز و ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کریں۔ آج وہ لیڈر جس نے ہماری یہ ٹیم بنائی ہے، جس نے ہمیں اکٹھا کیا ہے کہ آپ نے مریضوں کے حقوق اور بہترین علاج و معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کے لیے آواز اُٹھانی ہے، آج وہ خود مریض ہے اور اس کو اپنی مرضی کا علاج فاشسٹ حکومت کے ظلم کے باعث میسر نہیں۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
میں تمام ہیلتھ کمیونٹی کی جانب سے تمام اداروں سے اور وفاقی حکومت سے یہ ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ عمران خان کو فوری طور پر ان کی فیملی کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں اور انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
عمران خان وہ لیڈر ہے جس نے پوری دنیا میں اسلام کے لیے آواز اُٹھائی، 15 مارچ کے دن کو اقوامِ متحدہ سے اسلاموفوبیا کے حوالے سے منسوب کرایا۔ عمران خان پاکستان کی پہچان ہے۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
ہم اپنی ہیلتھ کمیونٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ متحد، منظم اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ آگے بڑھیں۔ نفرت، انتشار یا پروپیگنڈے سے کبھی بھی ہمارے مقصد کو نہیں روکا جا سکتا۔ ہمارا عزم مضبوط ہے، ہمارا حوصلہ بلند ہے، اور ہمارا ایمان ہمیں آگے بڑھاتا رہے گا۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
آئیے ہم سب مل کر یہ یقین دہانی کرائیں کہ ہمارے لیڈر عمران خان کی صحت اور حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ انصاف، شفافیت اور انسانی ہمدردی کے اصول پورے صوبے اور ملک میں قائم رہیں۔ ڈاکٹر مُدیر خان وزیر
اللّٰہ ہمیں کامیاب کرے اور پاکستان کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل
#IDFKPUpdates #InsafDoctorsForum #InsafDoctorsForumKhyberPakhtunkhwa
سینیٹر ایڈوکیٹ خُرم زیشان ( @khurramzeeshan ) کا عمران خان کی صحتیابی کیلئے ختم القرآن اور رہائی کے حوالے سے منعقدہ انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام رمضان افطار ڈنر سے خطاب
تقریب میں صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان، رُکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت علی خان، مرکزی صدر انصاف ڈاکٹرز فورم ڈاکٹر مُدیر خان وزیر، صوبائی صدر انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا ڈاکٹر نبی جان آفریدی، مختلف ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز کے ممبران، ایگزیکٹو افیسرز، ہسپتالوں کے فیکلٹی ممبران، صوبہ بھر کے سینئر ڈاکٹرز اور ہیلتھ کمیونٹی کی بڑی تعداد شریک ہوئے۔
انصاف ڈاکٹرز فورم کو ایک انتہائی پروقار افطار منعقد کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں انصاف ڈاکٹرز فورم کے تمام مطالبات کو آگے بڑھاتے ہوئے، انصاف ڈاکٹرز فورم کی آواز بنتے ہوئے معزز صوبائی وزیرِ صحت سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ تمام تر مطالبات کابینہ کے سامنے پیش کیے جائیں اور یہ مطالبات منظور کیے جائیں۔ سینیٹر خُرم زیشان
مزاحمت زندگی ہے۔ ظلم کے خلاف، جبر کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ سینیٹر خُرم زیشان
عمران خان نے ہمیں راستہ بہت پہلے کلیئرلی بتا دیا تھا کہ فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔ جب تک پاکستانی قوم کھڑی نہیں ہوگی، انصاف آپ کو نہیں ملے گا۔ سینیٹر خُرم زیشان
عمران خان نے کبھی قوم کا سر جھکنے نہیں دیا، ہم عمران خان کا سر جھکنے نہیں دیں گے۔ وہ میڈیکل ریلیف لے سکتا تھا لیکن اُس نے میڈیکل ریلیف لینے سے انکار کر دیا۔ عمران خان جیل میں رہ کر بھی آزاد ہے لیکن مجھے اور آپ کو اپنی ذہنی غلامی سے خود کو آزاد کرنا ہے۔ سینیٹر خُرم زیشان
خدا کے بعد پاکستان کی یکجہتی، پاکستان کی سلامتی، پاکستان کی استحکام، پاکستان کی خوشحالی کی واحد اُمید عمران خان ہے۔ عمران خان کو فوری طور پر، غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ سینیٹر خُرم زیشان
یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اس بحران میں عرب ممالک میں اور دیگر ممالک کے دورے کرتے پھریں کہ ہم ریجن میں سیکیورٹی چاہتے ہیں۔ اگر آپ اتنے مخلص ہو تو پہلے اپنے ملک میں استحکام لے کر آؤ۔ سیاسی استحکام کے بغیر کوئی استحکام نہیں لایا جا سکتا اور سیاسی استحکام عمران خان کے بغیر کوئی نہیں لا سکتا۔ آپ کے بس کا کھیل نہیں۔ آپ نے چار سال اُلٹا لٹک کر دیکھ لیا لیکن آپ نہیں کر سکے۔ اس کا حل صرف عمران خان کو رہا کیا جائے۔ سینیٹر خُرم زیشان
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل
#IDFKPUpdates #InsafDoctorsForumKhyberPakhtunkhwa
پنجاب کی تقریباً 13 کروڑ آبادی کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں صرف 411 وینٹی لیٹرز موجود ہونے کی رپورٹ ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
یہ اعداد و شمار خود اس نظامِ صحت کی سنگین حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اس کے برعکس خیبرپختونخوا، جس کی موجودہ آبادی تقریباً 4.5 کروڑ ہے، یہاں صرف 10 MTI اداروں میں تقریباً 400 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ نان MTI ہسپتالوں میں مزید 295 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں یعنی مجموعی طور پر تقریباً 700 کے قریب۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ بیشرم ٹاؤٹس، مفاد پرست بلیک میلرز اور نام نہاد جعلی تنظیم والے ان واضح اعداد و شمار کے باوجود پنجاب کے نظامِ صحت کو مثالی قرار دیتے پھر رہے ہیں۔ حقیقت سے آنکھیں چرا کر جھوٹ، من گھڑت کہانیاں اور جھوٹا بےبنیاد پروپیگنڈا پھیلانا ہی ان کا واحد ہتھیار ہے۔
یہ خود ساختہ تنظیمیں اور جعلی تنظیم والے دراصل کسی عوامی مفاد کے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ ان کا کام دلیل دینا نہیں بلکہ شور مچانا ہے۔ خیبرپختونخوا کے ہیلتھ سسٹم کو ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش اور پنجاب کو جنت بنا کر پیش کرنا کھلی منافقت اور بددیانتی ہے۔
جو لوگ اعداد و شمار کے سامنے بھی سچ ماننے کو تیار نہیں، وہ اصلاح نہیں چاہتے وہ صرف اپنا مفاد چاہتے ہیں۔ کردار کشی، پگڑی اچھالنا اور اداروں کو بدنام کرنا ان کا وطیرہ ہے ۔
صحت کا شعبہ سنجیدگی مانگتا ہے، مگر یہ عناصر اسے بھی اپنی مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں عوام سب دیکھ رہے ہیں شور سے نہیں، کارکردگی سے فیصلہ ہوگا۔
🔹 پنجاب:
آبادی تقریباً 13 کروڑ
وینٹی لیٹرز: 411
یعنی تقریباً:
ایک وینٹی لیٹر = 3,16,000 افراد کے لیے
🔹 خیبرپختونخوا:
آبادی تقریباً 4.5 کروڑ
وینٹی لیٹرز: تقریباً 700 (MTI + Non-MTI)
یعنی تقریباً:
ایک وینٹی لیٹر = 64,000 افراد کے لیے
یہ فرق محض عددی نہیں بلکہ ترجیحات کا فرق ہے۔ پنجاب میں ایک وینٹی لیٹر تقریباً تین لاکھ سے زائد افراد کے لیے ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں یہی تناسب تقریباً پینسٹھ ہزار افراد فی وینٹی لیٹر بنتا ہے جو واضح طور پر بہتر دستیابی کو ظاہر کرتا ہے
خیبرپختونخوا میں یہ بہتری کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح نظریے اور سمت کا ثمر ہے۔ یہ سب اُس وژن کا تسلسل ہے جو عمران خان نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے دیا تا کہ عوام کو باعزت، معیاری اور قابلِ رسائی علاج فراہم کیا جائے۔
اسی وژن کو عملی جامہ پہنانے میں انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کی مسلسل جدوجہد، پیشہ ورانہ رہنمائی اور پالیسی سطح پر مؤثر کردار کلیدی رہا ہے۔ میدانِ عمل میں ڈاکٹرز، ہیلتھ پروفیشنلز اور انتظامی ٹیموں نے نہ صرف اصلاحات کیے بلکہ ہر چیلنج میں نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کھڑے رہے۔
یہاں چند بنیادی حقائق قابلِ غور ہیں:
▪️ خیبرپختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے دو دہائیوں تک دہشتگردی اور جنگ کا براہِ راست سامنا کیا۔ انفراسٹرکچر تباہ ہوا، صحت کے مراکز نشانہ بنے، اور نظام کو تقریباً ازسرِ نو کھڑا کرنا پڑا۔
▪️ موجودہ 4.5 کروڑ آبادی میں 2019 کے بعد ضم ہونے والے سابقہ فاٹا اضلاع بھی شامل ہیں، جو تقریباً 70 سال تک وفاق کے زیرِ انتظام رہے اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے شدید پسماندگی کا شکار تھے۔
▪️ اہم بات یہ ہے کہ فاٹا کا انضمام عملی طور پر انتظامی سطح پر تو ہو گیا، مگر مالی انضمام مکمل طور پر تاحال زیرِ التوا ہے۔ یعنی صوبے پر آبادی اور انتظامی ذمہ داریوں کا بوجھ تو منتقل ہو گیا، مگر وسائل اور مالی معاونت مکمل طور پر منتقل نہیں ہوئی۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود اگر خیبرپختونخوا میں وینٹی لیٹرز کی تعداد پنجاب سے زیادہ ہے، تو یہ ترجیحات اور پالیسی سمت کا فرق ظاہر کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں سالانہ بجٹ ہزاروں ارب روپے ہو، وہاں صرف 411 وینٹی لیٹرز کیوں؟ کیا صحت واقعی اولین ترجیح تھی یا محض تشہیری دعوے؟
خیبرپختونخوا حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت واضح ہو، ترجیحات درست ہوں اور قیادت کا وژن عوامی مفاد پر مبنی ہو تو محدود وسائل کے باوجود نتائج دیے جا سکتے ہیں۔
#InsafDoctorsForumKP #InsafDoctorsForum #IDFKPHealthReforms #InsafDoctorsForumPunjab
پنجاب کی تقریباً 13 کروڑ آبادی کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں صرف 411 وینٹی لیٹرز موجود ہونے کی رپورٹ ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
یہ اعداد و شمار خود اس نظامِ صحت کی سنگین حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اس کے برعکس خیبرپختونخوا، جس کی موجودہ آبادی تقریباً 4.5 کروڑ ہے، یہاں صرف 10 MTI اداروں میں تقریباً 400 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ نان MTI ہسپتالوں میں مزید 295 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں یعنی مجموعی طور پر تقریباً 700 کے قریب۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ بیشرم ٹاؤٹس، مفاد پرست بلیک میلرز اور نام نہاد جعلی تنظیم والے ان واضح اعداد و شمار کے باوجود پنجاب کے نظامِ صحت کو مثالی قرار دیتے پھر رہے ہیں۔ حقیقت سے آنکھیں چرا کر جھوٹ، من گھڑت کہانیاں اور جھوٹا بےبنیاد پروپیگنڈا پھیلانا ہی ان کا واحد ہتھیار ہے۔
یہ خود ساختہ تنظیمیں اور جعلی تنظیم والے دراصل کسی عوامی مفاد کے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔ ان کا کام دلیل دینا نہیں بلکہ شور مچانا ہے۔ خیبرپختونخوا کے ہیلتھ سسٹم کو ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش اور پنجاب کو جنت بنا کر پیش کرنا کھلی منافقت اور بددیانتی ہے۔
جو لوگ اعداد و شمار کے سامنے بھی سچ ماننے کو تیار نہیں، وہ اصلاح نہیں چاہتے وہ صرف اپنا مفاد چاہتے ہیں۔ کردار کشی، پگڑی اچھالنا اور اداروں کو بدنام کرنا ان کا وطیرہ ہے ۔
صحت کا شعبہ سنجیدگی مانگتا ہے، مگر یہ عناصر اسے بھی اپنی مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں عوام سب دیکھ رہے ہیں شور سے نہیں، کارکردگی سے فیصلہ ہوگا۔
🔹 پنجاب:
آبادی تقریباً 13 کروڑ
وینٹی لیٹرز: 411
یعنی تقریباً:
ایک وینٹی لیٹر = 3,16,000 افراد کے لیے
🔹 خیبرپختونخوا:
آبادی تقریباً 4.5 کروڑ
وینٹی لیٹرز: تقریباً 700 (MTI + Non-MTI)
یعنی تقریباً:
ایک وینٹی لیٹر = 64,000 افراد کے لیے
یہ فرق محض عددی نہیں بلکہ ترجیحات کا فرق ہے۔ پنجاب میں ایک وینٹی لیٹر تقریباً تین لاکھ سے زائد افراد کے لیے ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں یہی تناسب تقریباً پینسٹھ ہزار افراد فی وینٹی لیٹر بنتا ہے جو واضح طور پر بہتر دستیابی کو ظاہر کرتا ہے
خیبرپختونخوا میں یہ بہتری کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح نظریے اور سمت کا ثمر ہے۔ یہ سب اُس وژن کا تسلسل ہے جو عمران خان نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے دیا تا کہ عوام کو باعزت، معیاری اور قابلِ رسائی علاج فراہم کیا جائے۔
اسی وژن کو عملی جامہ پہنانے میں انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کی مسلسل جدوجہد، پیشہ ورانہ رہنمائی اور پالیسی سطح پر مؤثر کردار کلیدی رہا ہے۔ میدانِ عمل میں ڈاکٹرز، ہیلتھ پروفیشنلز اور انتظامی ٹیموں نے نہ صرف اصلاحات کیے بلکہ ہر چیلنج میں نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کھڑے رہے۔
یہاں چند بنیادی حقائق قابلِ غور ہیں:
▪️ خیبرپختونخوا وہ صوبہ ہے جس نے دو دہائیوں تک دہشتگردی اور جنگ کا براہِ راست سامنا کیا۔ انفراسٹرکچر تباہ ہوا، صحت کے مراکز نشانہ بنے، اور نظام کو تقریباً ازسرِ نو کھڑا کرنا پڑا۔
▪️ موجودہ 4.5 کروڑ آبادی میں 2019 کے بعد ضم ہونے والے سابقہ فاٹا اضلاع بھی شامل ہیں، جو تقریباً 70 سال تک وفاق کے زیرِ انتظام رہے اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے شدید پسماندگی کا شکار تھے۔
▪️ اہم بات یہ ہے کہ فاٹا کا انضمام عملی طور پر انتظامی سطح پر تو ہو گیا، مگر مالی انضمام مکمل طور پر تاحال زیرِ التوا ہے۔ یعنی صوبے پر آبادی اور انتظامی ذمہ داریوں کا بوجھ تو منتقل ہو گیا، مگر وسائل اور مالی معاونت مکمل طور پر منتقل نہیں ہوئی۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود اگر خیبرپختونخوا میں وینٹی لیٹرز کی تعداد پنجاب سے زیادہ ہے، تو یہ ترجیحات اور پالیسی سمت کا فرق ظاہر کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں سالانہ بجٹ ہزاروں ارب روپے ہو، وہاں صرف 411 وینٹی لیٹرز کیوں؟ کیا صحت واقعی اولین ترجیح تھی یا محض تشہیری دعوے؟
خیبرپختونخوا حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت واضح ہو، ترجیحات درست ہوں اور قیادت کا وژن عوامی مفاد پر مبنی ہو تو محدود وسائل کے باوجود نتائج دیے جا سکتے ہیں۔
#InsafDoctorsForumKP #InsafDoctorsForum #IDFKPHealthReforms #InsafDoctorsForumPunjab
عمران خان کی غیر قانونی قید، قیدِ تنہائی اور سنگین طبی خدشات: انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کا شدید احتجاج اور فوری طبی رسائی کا مطالبہ!!
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا اپنے پیٹرن انچیف عمران خان کی غیر قانونی حراست، قیدِ تنہائی اور صحت سے متعلق سنگین خدشات پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ عمران خان گزشتہ تقریباً 90 دنوں سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں رکھے گئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر وہ 900 دن سے زائد عرصے سے غیر قانونی حراست کا سامنا کر چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے من مانے حراست (UN Working Group on Arbitrary Detention) اور دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عمران خان محض ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم، عظیم لیجنڈ کرکٹر، معروف فلاحی شخصیت اور موجودہ دور کے سب سے مقبول عوامی رہنما ہیں، جنہیں عوام نے 8 فروری کے انتخابات میں واضح مینڈیٹ دیا۔ اس مینڈیٹ کو فارم 47 کے ذریعے چوری کرلیا گیا۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو کہ قانون، بنیادی انسانی حقوق اور میڈیکل ایتھکس کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں، گزشتہ تقریباً 90 دنوں سے قیدِ تنہائی اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا سنگین ذہنی اذیت (Mental Torture) کے مترادف ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عمران خان کو CRVO (Central Retinal Vein Occlusion) لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا واضح طور پر مطالبہ کرتا ہے کہ عمران خان کی فوری، جامع اور شفاف تشخیص کی جائے اور درست علاج فراہم کیا جائے، جس کے لیے ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی مکمل رسائی ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ کسی متبادل انتظام کو انصاف ڈاکٹرز فورم قابلِ قبول نہیں سمجھتا۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور متعلقہ فورمز سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ عمران خان کی صحت کو اگر کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل
#InsafDoctorsForumKP #RestoreAccessToImranKhan
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کا عمران خان کی صحت کے حوالے سے وفاقی حکومت کے علاج کو قطعی طور پر مسترد اور شدید اعتراض!!
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا اپنے پیٹرن انچیف عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کرایا گیا کوئی بھی طبی معائنہ، تشخیص یا سرجری کا عمل قطعی طور پر قابلِ اعتماد نہیں اور ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ ہم اس پوری کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہیں۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کا موقف ہے کہ عمران خان کے لیے صرف اور صرف ان کے ذاتی ڈاکٹرز کو طبی جانچ اور تشخیص کی اجازت ہونی چاہیے۔ اور کسی بھی سرجری یا طبی کارروائی کا فیصلہ صرف اور صرف عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کی سفارش پر کیا جانا چاہیے۔
ہم عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور متعلقہ فورمز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کی صحت کی حفاظت کے لیے فوری، شفاف اور ذاتی ڈاکٹرز کی مکمل رسائی کو یقینی بنایا جائے!!
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل
#RestoreAccesstoImranKhan #FreeImranKhan #InsafDoctorsForumKP
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی ( @SohailAfridiISF ) سے انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کے کثیر رکنی وفد کی ملاقات
مُلاقات میں صوبائی صدر ڈاکٹر نبی جان آفریدی ( @DrNabiJanIDF ) سمیت ایگزیکٹو کونسل کے تمام آراکین کی شرکت۔
مُلاقات میں مرکزی صدر انصاف ڈاکٹرز فورم اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مُدیر خان وزیر ( @DrMudirKhanIDF ) اور دیگر مرکزی آراکین کی خصوصی شرکت۔
پشاور: ملاقات میں صوبے میں شعبہ صحت کی بہتری سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال
پشاور: سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز، طبی سہولیات کی موجودہ استعداد اور مستقبل کی ضروریات پر غور
پشاور: وفد کی جانب سے پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل جدید میڈیکل کمپلیکس کے قیام کے عزم کا خیرمقدم
پشاور: صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے، وزیر اعلیٰ
پشاور: عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، سہیل آفریدی
پشاور: وزیر اعلیٰ کی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی بحالی سے متعلق جائزہ اجلاس طلب کرنے کی ہدایت
پشاور: عوام کو مقامی سطح پر معیاری علاج کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعلیٰ
پشاور: ہم سب نے مل کر پیٹرن انچیف انصاف ڈاکٹرز فورم عمران خان کے وژن کو عملی شکل دینی ہے، سہیل آفریدی
پشاور: ڈاکٹرز اور اساتذہ معاشرے کے اہم ستون ہیں، ان سے توقعات بھی اسی تناسب سے زیادہ ہیں، وزیر اعلیٰ
پشاور: ڈاکٹرز معاشرے کے لیے مسیحا کا کردار ادا کرتے ہیں، عوام کی صحت ایک مقدس امانت ہے، سہیل آفریدی
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے انصاف ڈاکٹرز فورم کے مثبت، تعمیری اور فعال کردار کو سراہا اور کہا کہ حکومت ڈاکٹرز برادری کے ساتھ مل کر عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر انصاف ڈاکٹرز فورم نے صوبے میں صحت کے نظام کی بہتری، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں اپنی مکمل معاونت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انصاف ڈاکٹرز فورم ، اپنے پیٹرن انچیف عمران خان کے ویژن کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایک مضبوط، مؤثر اور عوام دوست ہیلتھ کیئر سسٹم کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل
#InsafDoctorsForumKP #IDFKPUpdates #InsafDoctorsForum #IDFKPHealthReforms
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی ( @SohailAfridiISF ) سے انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کے کثیر رکنی وفد کی ملاقات
مُلاقات میں صوبائی صدر ڈاکٹر نبی جان آفریدی ( @DrNabiJanIDF ) سمیت ایگزیکٹو کونسل کے تمام آراکین کی شرکت۔
مُلاقات میں مرکزی صدر انصاف ڈاکٹرز فورم اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مُدیر خان وزیر ( @DrMudirKhanIDF ) اور دیگر مرکزی آراکین کی خصوصی شرکت۔
پشاور: ملاقات میں صوبے میں شعبہ صحت کی بہتری سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال
پشاور: سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز، طبی سہولیات کی موجودہ استعداد اور مستقبل کی ضروریات پر غور
پشاور: وفد کی جانب سے پانچ ہزار بیڈز پر مشتمل جدید میڈیکل کمپلیکس کے قیام کے عزم کا خیرمقدم
پشاور: صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے، وزیر اعلیٰ
پشاور: عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، سہیل آفریدی
پشاور: وزیر اعلیٰ کی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی بحالی سے متعلق جائزہ اجلاس طلب کرنے کی ہدایت
پشاور: عوام کو مقامی سطح پر معیاری علاج کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعلیٰ
پشاور: ہم سب نے مل کر پیٹرن انچیف انصاف ڈاکٹرز فورم عمران خان کے وژن کو عملی شکل دینی ہے، سہیل آفریدی
پشاور: ڈاکٹرز اور اساتذہ معاشرے کے اہم ستون ہیں، ان سے توقعات بھی اسی تناسب سے زیادہ ہیں، وزیر اعلیٰ
پشاور: ڈاکٹرز معاشرے کے لیے مسیحا کا کردار ادا کرتے ہیں، عوام کی صحت ایک مقدس امانت ہے، سہیل آفریدی
اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے انصاف ڈاکٹرز فورم کے مثبت، تعمیری اور فعال کردار کو سراہا اور کہا کہ حکومت ڈاکٹرز برادری کے ساتھ مل کر عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر انصاف ڈاکٹرز فورم نے صوبے میں صحت کے نظام کی بہتری، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں اپنی مکمل معاونت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انصاف ڈاکٹرز فورم ، اپنے پیٹرن انچیف عمران خان کے ویژن کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایک مضبوط، مؤثر اور عوام دوست ہیلتھ کیئر سسٹم کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا
میڈیا سیل
#InsafDoctorsForumKP #IDFKPUpdates #InsafDoctorsForum #IDFKPHealthReforms
صدر انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا ڈاکٹر نبی جان آفریدی ( @DrNabiJanIDF ) کا ایبٹ آباد میں قتل ہونے والی شہید ڈاکٹر وردہ کیس کے حوالے سے خصوصی ویڈیو پیغام
ڈاکٹر وردہ مشتاق کا دل خراش قتل — وزیراعلی خیبرپختونخوا کا نوٹس، انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخوا کی شدید مذمت، شفاف تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ
پوری ہیلتھ کمیونٹی اس وقعہ پر رنجیدہ، غمزدہ اور شدید غم و غصے میں ہیں۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
جیسے ہی ڈاکٹر وردہ کی گمشدگی کی خبر سامنے آئے، یہ وقعہ وزیراعلی خیبرپختونخوا اور وزیرِ صحت کے نوٹس میں لایا گیا جنہونے ایکشن لیتے ہوئے ڈی پی او سمیت متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد بازیابی یقینی بنائے، لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کو آج انتہائی بیدردی اور سفاکیت سے شہید کردیا گیا۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
انصاف ڈاکٹرز فورم اس معاملے میں مقتولہ کہ ورثاء اور ہیلتھ کمیونٹی کیساتھ کھڑی ہیں۔ اس قتل میں ملوث تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائیگا، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں بھرتی جائیگی۔ ڈاکٹر نبی جان آفریدی
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا
میڈیا سیل
#IDFKPUpdates #InsafDoctorsForum #InsafDoctorsForumAbbotabad
انصاف ڈاکٹرز فورم خیبرپختونخواہ کا پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیجانب سے پر پُر امن مظاہرین پر کی جانے والی غیرقانونی طور ریاستی بربریت ، فسطائیت ، ظلم و جبر کے باعث زخمی ہونے والے محبِ وطن شہریوں کے دستانو پر مبنی مفصل رپورٹ۔
#خان_کے_دیوانے_تو_نکلیں_گے
وزیر اعظم جناب @ImranKhanPTI صاحب کی کال پر آزاد عدلیہ تحریک کے لیے ضلع کرک کا سفر لیاقت باغ راولپنڈی کی طرف شروع ہوچکا ہے۔
موٹروے پر پلان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے ساتھ قافلے میں شامل ہوکر @AliAminKhanPTI کی قیادت میں لیاقت باغ راولپنڈی کا رخ کرینگے۔
#چلو_چلو_پنڈی_چلو #خان_کی_پُکار_پر_لبیک #خان_کی_كال_حاضر_عوام