سیاست میں ایسے لوگ آگئے ہیں جنہیں نہ اپنی عزت کی پروا ہے، نہ دوسروں کی۔ اگر آج گورنر راج کے ذریعے ہماری حکومت ختم کی گئی ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ یہی لوگ خوشیاں منا رہے ہوتے، لیکن ہماری تربیت ایسی نہیں ہوئی۔ گورنر راج کی گنجائش آئین میں موجود ہے، مگر یہ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔ اس کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے، کیونکہ پہلی بار اس کا استعمال ہماری تحریک کے خلاف کیا گیا تھا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی نہیں، پختون قوم کو امن چاہیے! نیشنل ایکشن پلان پر دس بارہ سال گزرنے کے باوجود عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ پالیسی بدلیں، کیونکہ پختون قوم اب مزید لاشیں نہیں، امن چاہتی ہے۔
#AWK
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پخ��ونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج ا��ر ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کر��ے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے ��ہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
چارسدہ: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ولی باغ آمد،
مرکزی صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات کی
ملاقات میں صوبے کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا
ملاقات میں امن و امان کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی
ملاقات میں سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سلیم خان بھی شریک تھے
صوبائی صدر میاں افتخار حسین اور جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی بھی ملاقات میں موجود تھے
ملاقات میں مرکزی سیکرٹری خارجہ امور سردار حسین بابک اور صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم بھی شریک تھے
#ANP
The deaths of children is a very devastating news for individuals as well as masses of Khyber PAKHTOONKHWA, we must ba rationale to these happening as it can be our own children's tomorrow.
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر اہم بحث ہو رہی ہے۔ نظام کے حصہ داروں کے خطابات سرکاری ٹی وی اور قومی اسمبلی کے یوٹیوب لائیو ٹرانسمیشن پر بھرپور انداز میں دکھائے گئے، لیکن جیسے ہی عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا خطاب شروع ہوا، لائیو ٹرانسمیشن بند کر دی گئی۔ ڈر اتنا ہے کہ پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر سسٹم میں بھی ایمل ولی خان کی تقریر کی آواز کو سنسر کردیا ہے۔
آخر خوف کس بات کا ہے کہ پارلیمان کے اندر بھی ایمل ولی خان کی تقریر عوام تک پہنچنے نہیں دی جا رہی؟ کیا ایوانِ نمائندگان میں اٹھنے والی ہر وہ آواز دبائی جائے گی جو حکمرانوں اور ان کے آقاؤں کو ناگوار گزرتی ہے؟
ہم پہلے ہی قوم کو بتا چکے ہیں کہ تختِ اسلام آباد پر براجمان ہوتے ہی یہ لوگ آئین کی بالادستی، پارلیمان کے وقار، جمہوری اقدار اور آزادیِ اظہارِ رائے کے دعوے بھول جاتے ہیں۔ انہیں یہ اصول صرف اسی وقت یاد آتے ہیں جب یہ خود اقتدار سے باہر ہوتے ہیں۔
ہمارے لئے اقتدار اور منصب کوئی معنی نہیں رکھتے، ہمیں دہشتگرد اور بم دھماکے خاموش نہ کراسکیں یہ لوگ کیا خاموش کرائیں گے۔ قوم سے وعدہ ہے کہ ان کی وکالت ہر میدان میں جاری رکھیں گے۔
#ANP | #AimalWaliKhan
*پشاور: دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ، صوبائی صدر میاں افتخار حسین کا جائے حادثہ کا دورہ*
میاں افتخار حسین نے دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے کے مقام کا دورہ کیا
صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے موقع پر موجود ریسکیو اہلکاروں اور متاثرین سے ملاقات کی
صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے ذمہ داران سے افسوسناک واقعے کی تفصیلات معلوم کیں
صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے حادثے میں جاں بحق بچوں کے گھروں پر بھی حاضری دی
میاں افتخار حسین نے اے این پی کی جانب سے سوگوار خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی اور تعزیت کی
صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے بچوں کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے صبر جمیل کیلئے دعا کی
خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کے ڈویژنل سالار ملک فرہاد اور دیگر رضاکار بھی موجود تھے
#ANP | #ANPPakhtunkhwa | #Peshawar
میں لکھ کر دیتا ہوں یہ دہشتگردی کا خاتمہ نہیں چاہتی۔ یہ صوبائی خودمختاری کا خاتمہ چاہتے ہیں، صوبوں کی تقسیم چاہتے ہیں، فاٹا کو رول بیک کرنا چاہتے ہیں۔ ایمل خان
گوروں کے چاٹنے والے اس وقت پنجاب سے ایم این اے اور سینیٹر بنتے۔ انکے دادا گوروں کی بھی جیل میں تھے، جبکہ پنجابیوں کے دادا یا انگریز کی فوج میں تھے یا چاکری میں۔ آج دیکھ لیں پاکستان میں کون اگریز کا وفادار کتا ہے۔ کس کو انگریز پسند کرتے، پنجابی یا کوئی اور قوم۔
پشتون قامی ترجمان
پارلیمنٹ میں دلچسپ لمحہ | ایمل ولی خان سے چھوٹے قد والے شہری کی ملاقات | ایمل ولی خان نے نوکری میں مدد کرنے کی یقین دہانی کرادی
#AimalwaliKhanourRedline
ایمل ولی خان کےایک حقائق پر مبنی پوسٹ نے فارم 47 کی چیخیں نکال دی ہے
حقائق کو دیکھ کر اسکا جواب دینے کے بجائے گالم گلوچ اور پارلیمانی سیٹیں نہ رکھنے کا طعنہ دیا جارہا ہے لیکن انھیں معلوم ہونا چاہے جس طرح فارم 47 پر ��یٹیں دی گئی ہے وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے کرامات ہے کل پر رونا ہوگا