کیا اب مولانا کے تنسیخ نکاح کا مقدمہ ہو گا یا پھر کوئی مدرسہ کی زمیں کا کیس نیب میں فائل کیا جاے گا؟ NCCIA کا نوٹس نکلے گا یا پھر انکے کسی بھانجے کو فوجی عدالت سے سزا سنائی جاے گی؟
کیا انکی جماعت کو کسی قاضی سے بین کروایا جاے گا یا پھر پھر انکی کابینہ کے لوگوں کی قطار در قطار پریس کانفرنسز ہونگی جس میں وہ مولانا سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟؟
ویسے سوال سارے ہی غور طلب ہیں @OfficialDGISPR
کیا توانوں یاد ہے کہ ندیم انجم 9 اپریل دی رات رجیم تبدیل کر کے ، پارلیمنٹ ہاؤس وچ پاکستان دی تاریخ دی پہلی دفع پولیس ویگناں بھیج کے پرائیویٹ جیٹ تے اسی رات واشنگٹن چلا گیا سی۔؟
یاد ہے یا پل گئے او؟
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
“To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.
At this moment, Pakistan is being governed solely under “Asim Law”. Here, verdicts are pre-written and merely announced aloud. Like the baseless decisions and sentences of the past three years, the Toshakhana 2 verdict is nothing new for me. This ruling, too, was delivered in haste, without any evidence and without fulfilling legal requirements. Neither we nor our lawyers were even given opportunity to present our case.
The sustained solitary confinement imposed on me and my wife constitutes severe mental torture. We are barred from books, television, and meetings. Although television access is granted to every other prisoner, even this fundamental facility has been withheld from me and Bushra Bibi. The books sent by my family are confiscated by jail authorities, and we are kept in solitary confinement for weeks at a time. This treatment is inhumane, yet all this oppression and brutality cannot weaken my resolve.
It is not our tradition to target women and children. Our religion mandates mercy toward women even during warfare, yet here they are being persecuted purely out of political vendetta. I am deeply saddened and distressed by the mistreatment and brutality faced by my sisters and other women outside Adiala Jail. The treatment meted out to Bushra Bibi, Dr. Yasmin, Mahrang Baloch, and other women stands in clear violation of Islamic traditions and moral values. Bushra Bibi, my wife, has been subjected to solitary confinement purely because of personal hostility towards me, even though she has no political role and is a homemaker.
The army is mine and belongs to the people of Pakistan. When I criticize Asim Munir, it is criticism of an individual, just as past dictators were criticized. Asim Munir did not come into power through a public referendum or popular vote. Whatever is happening to me in jail is being carried out on the instructions of a colonel acting under Asim Munir’s orders.
The rule of law in Pakistan has been severely undermined. Just as in 2007, PCO judges who sided with a dictator and tarnished the sanctity of the judiciary earned no respect, while those who resisted were hailed as national heroes. Similarly, today, the judges who are resisting this system are our heroes, while those acting as puppets, obediently following orders, lack conscience and are no different from the PCO judges of the Musharraf era.
For the struggle to restore the rule of law and uphold the Constitution, it is essential for the Insaf Lawyers Forum and legal fraternity to step forward decisively. Only a just legal system can safeguard the people; without it, neither economic progress nor moral development is possible.
I have full confidence in Salman Safdar and his team and have instructed them to file an appeal against these bogus decisions in the Islamabad High Court.
My message for Sohail Afridi is to prepare for a street movement. The entire nation must rise for their rights!!
To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his lawyers after the verdict of a military-style trial in Adiala Jail - (20 December, 2025)
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
جونا گڑھ تم سے گیا۔
کشمیر تم سے گیا
بنگلہ دیش تم سے گیا
کارگل تم سے گیا
سیاچیین تم سے گیا
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تم امن نہیں لاسکے۔ اور پرامن شہریوں پر ظلم دیکھے اور اپکی رعونت اور تکبر دیکھو۔
سکیورٹی تھریٹ تم ہو بھائی
ڈی جی آئی ایس پی آر پختونوں سے معافی مانگو۔ یہ پورے خیبرپختونخواہ کی توہین ہے۔ آپ نے آج یہ زبان استعمال کر کے یہ ثابت کردیا کہ جو سہیل آفریدی نے کہا تھا وہ ٹھیک کہا تھا۔ تم پختونوں کے وزیر اعلی کے بارے میں یہ کہہ رہے ہو تو عام پختون کے ساتھ کیا کیا سلوک ہوا ہوگا؟
یہ مقابلہ بھی آج ختم ہوا !
مقبولیت کے مقابلے میں تو اسکی خاک کو نہیں چھو سکے۔ اذیتیں برداشت کرنے کا امتحان تھا۔ وہ سرخرو ہوا۔ اب نفسیات کی جنگ تھی۔ ذہنی کنٹرول کی جنگ تھی۔ کون پہلے آنکھ جھپکے گا اور کون دل چھوڑ جائے گا۔ وہ جیل کے اندر ، رابطے منقطع ، ملاقاتیں بند ، جسمانی سختیاں سب برداشت کرتا رہا۔
دوسری طرف یہ تھے۔ لامحدود وسائل ، بے پناہ طاقت۔ نہ کسی آئینی قدغن کا ڈر تھا نہ کسی اخلاقی دائرے کا پاس۔ گھاگھ اور کایاں ایسے کہ کبھی کٹھ پتلیوں کے پیچھے چھپتے کبھی عوامی جذبات کے پیچھے۔ مکرتے ، جھوٹ بولتے ، عیاری سے کام لیتے سامنے نہیں آتے تھے۔ یہیں وہ مقابلہ تھا جو آج اختتام پذیر ہوا۔ اعصاب کی جنگ۔
وہ ننگا کرنا چاہتا تھا ، یہ چھپے رہنا چاہتے تھے ، وہ انکے منہ سے اگلوانا چاہتا تھا یہ زبان نہیں ہلاتے تھے۔ وہ ثابت کرنا چاہتا تھا یہ مکاری سے کام لیتے تھے۔ وہ الزام نہیں لگانا چاہتا تھا یہ ہاتھ سے پھسل پھسل کر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر اسکی حکمت عملی کام آگئی۔ اسکے صبر کا اس کو پھل ملا۔
جیسے ایک ایک قطرہ گرتا ہے اور پتھر کو پھاڑ دیتا ہے وہ دو سال سے دھیرے دھیرے تھوڑا تھوڑا پریشر ڈالتا رہا۔ آج فوج کے اعصاب چٹخ گئے۔ دباؤ برداشت نہ کرپائے۔ تسلیم کرلیا کہ ہم اسکے دشمن ہیں۔ یہی وہ چاہتا تھا کہ اسکی دشمنی کو سرعام تسلیم کیا جائے۔ بیانیے کے محاذ پر یہ اسکی آج تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اب اس سے محبت کرنے والے جانیں اور اس سے نفرت کرنے والے جانیں۔
ذہنی مریض - کہنا قومی سلامتی کا ایشو!
آئس پیار کے رونے دھونے سے ثابت ہو رہا ہے کہ عمران خان کے بیانیہ میں بہت وزن ہے اور تاریخ کے بدترین اور طاقتور تریں ڈکٹیٹر کو ہلا کر رکھ دیا ہے
More power to you @ImranKhanPTI@PTIofficial
اسکی چھیڑ کا پتا لگ گیا ہے
بجاؤ۔۔۔۔۔۔
بہادری اور فوجی!
ایک شخص دو سال سے ناحق پابند سلاسل، نام، ملاقات اور تصویر چلانے پابندی!
پھر باوردی تمغہ لگا کر دو دو گھنٹے لائیو ٹی وی پہ زبردستی کے بھاشن !
کہتا ہے کہ میں فوجی ہوں بہادر ہوں سچا ہوں مان لو۔۔۔۔
سن لو تم کسی بھی تعریف سے نا تو فوجی ہو بہادر تو بالکل نہیں اور سچائی کا دور دور تک تعلق نہیں
اگر واقعی فوجی ہو تو کرو مقابلہ - مقابلہ کرنا تو فوجی کی نشانی ہوتی ہے
مخالف کو باندھ کر ہرزہ سرائی کرنے کو بہادری تو نہیں رنڈی رانا کہا جا سکتا ہے !
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
جو کچھ اس وقت پاکستان میں چل رہا ہے اس کا نقشہ اسیرِ اڈیالہ غازی عمران احمد خان نیازی تین سال پہلے کھینچ چکا ہے
سنو لیڈر کا ویژن کیا ہوتا ہے اور وہ اپنے لینز سے چیزوں کو کیسے دیکھتا ہے
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا