بھارت آج جس بزدلی کا مظاھرہ کرتے ھوئے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا ھے یہ بزدلی انکی تاریخ ھے۔ ھماری افواج بہادری کے ساتھ اسکا جواب دے رھی ھیں، پاکستانی قوم یک جان اور متحد ھوکر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ھے
پاکستان زندہ باد
جمعیۃ علماء اسلام نے املاک ایکٹ کو مکمل طور غیر شرعی قرار دیا، یہ صرف جمعیۃ کا موقف نہیں بلکہ اس پر امت کا اجتماعی موقف یے،اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس ایکٹ کو مسترد کرچکی ہے،آج اسی ایکٹ کے مماثل ایک قانون ہندوستان میں بھی پاس کیا جا رہا ہے، جس سے اندازہ لگائیں کہ وہاں کی حکومت کس طرح مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، بالکل اسی طرح پاکستان میں بھی مسلمانوں کے اوقاف کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا ہم پاکستان میں اسلامی احکامات کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں؟ سپریم کورٹ کے بعض فیصلے اور حکومتی قوانین قرآن و سنت کے خلاف ہیں،ہم عائلی زندگی میں سپریم کورٹ کے نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کے احکامات کے پابند ہیں اور اعلان کرتا ہوں کہ میں کسی غیر شرعی فیصلے کا پابند نہیں ہوں، آئین کہتا ہے کہ ہر قانون قرآن و سنت کے مطابق ہوگا، اور ہم ان قوانین کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم آئینی و قانونی دائرے میں رہ کر اسلامی اقدار کا تحفظ کریں گے اور عوام میں شعور بیدار کریں گے تاکہ دین کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہ کرسکے۔
26 ویں آئینی ترمیم میں اسلامی شقوں کی منظوری کا معاملہ
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کامران مرتضی کے اعزاز میں تقریب
تقریب میں مفتی تقی عثمانی صاحب، مولانا حنیف جالندھری،مولانا عبدالغفور حیدری شریک
تقریب میں خواجہ خلیل احمد، مولانا عطاء الرحمان، مولانا اسعد محمود، اسلم غوری شریک
تقریب میں مولانا عبدالواسع، مولانا صلاح الدین، میر عثمان بادینی، مولانا مصباح الدین، سینیٹراحمد خان، سینیٹرعبدالشکور شریک
تقریب میں ہارون محمود، صاحبزادہ اسجد محمود، مولانا فضل الرحمان خلیل، ملک سکندر، مفت ناصر محمود، سینئیر صحافی حامد میر، سلیم صافی شریک
مولانا سعیدالرحمان سرور، مفتی ذاہد شاہ، مولانا انعام اللہ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان، قاری ابراہیم سمیت دیگر شریک
*مولانا فضل الرحمان کا تقریب سے خطاب*
کئی روز سے ملک میں آئینی ترمیم کی باتیں گردش کر رہی تھی۔
اس ترمیم میں کلیدی کردار سینیٹرکامران مرتضی کا ہے۔
میں آج کی تقریب کامران مرتضی کے نام کرتا ہوں۔
آج کی تقریب کی خوش قسمتی ہے کہ مفتی تقی عثمانی بھی اس میں شریک ہے۔
*مفتی تقی عثمانی کا تقریب سے خطاب*
آج میری حاضری اس لئیے ہوئی کہ جب ترمیمات منظور ہوئی صدرمملکت نے دستخط کردئیے۔
ان ترامیم میں مولانا فضل الرحمان صاحب کا کردار مسلسل نظر آرہا تھا۔
یہ ملک اور ملت کی بڑی عظیم خدمت ہوئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان ساری ساری رات جاگ کر ہر فرد سے ان ترامیم کیلئے ملے۔
یہ سچی بات ہے یہ ہم سب کیلئے بڑی نعمت ہے۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ مولانا صاحب نے آج کوئی تقریب منعقد کی ہے میں تو مبارکباد کیلئے آیا۔
اللہ تعالی مولانا فضل الرحمان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پر سلامت رکھے۔
*مولانا حنیف جالندھری کا تقریب سے خطاب*
کل تمام دینی مدارس میں دعائوں کا اہتمام کیا جائے، شکرانے کے نوافل آدا کئیے جائے
ہم مولانا فضل الرحمان کے مشکور ہے۔
حکومت ایک بار پھر اینٹی ٹیررزم ایکٹ 1997 میں ترمیم کرنے جا رہی ہے جس سے دفاعی اداروں کو بے پناہ اختیارات ملیں گے جو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے ہٹ کر ہیں۔ پہلے نیب کے اختیارات پر اعتراض تھا اور ان میں کمی کی گئی تھی، لیکن اب دفاعی ادارے کو کسی کو شک کی بنیاد پر 90 دن تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیا جا رہا ہے جو سراسر غیر جمہوری عمل ہے،ملک میں سول مارشل لاء کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ، جو جمہوریت اور "ووٹ کو عزت دو" کی بات کرتے ہیں، آج اپنے ہی ہاتھوں جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ 26ویں ترمیم میں کچھ شقیں واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی، لیکن یہ نیا ایکٹ اسی ترمیم کی روح کے خلاف ہے۔ یہ آئین اور پارلیمنٹ کی توہین ہے کہ ایک دن آپ ایک فیصلہ کریں اور اگلے دن اسے نظر انداز کر دیں۔
آئین کا چوتھا ستون پارلیمانی طرز حکومت ہے جو ایوان مقننہ عوامی ووٹوں سے منتخب ادارہ ہے،جہاں پر بکسوں میں لوگ ڈالتے کچھ ہیں اور نکلتا کچھ ہے، ایسے جبر کو ہم نہیں مانیں گے، ایسے الیکشن کو کل بھی دھاندلی زدہ کہا ہے اور آج بھی دھاندلی زدہ کہتے ہیں۔
اگر عوام کے منتخب نمائندہ نہیں آئیں گے تواسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کو عوام کا احساس کیسے ہوگا ؟ شھر میں جب مشکل وقت آتا ہے تو سب سے پہلے وہی لوگ بھاگ جاتے ہیں جو خود کوعوام کا نمائندہ کہتے ہیں۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈی آئی خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب
میں اداروں کا احترام کرتا ہوں لیکن میری نظرمیں بھی ان کی پالیسیاں سیدھی نظرآئیں، میں نے بھی چالیس سال صحراؤں میں گذارے ہیں، آنکھیں بند کر کے بات نہیں کر رہا بلکہ مشاہدات کے ساتھ بات کرتا ہوں،اگر ہم یہ بات نہیں کریں گے تو قوم کے ساتھ خیانت ہوگی،آپ اپنا قبلہ درست کریں ہم آپ کو سر کا تاج بنا لیں گے۔
قوم کی قدر کریں، آپ کے کرنل اور میرے عام کارکن کے پاس ایک ہی شناخت ہے، دونوں کے لئے ایک ہی آئین ہے۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا ڈی آئی خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب
صوبوں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے، ایک صوبہ دوسرے صوبہ پر یلغار کرنے کے لئے تیار ہے، اختلافات کی وجوہات اور حدود نا ہوں تو یہ جارحیت کہلاتی ہے، ریاست کا ایک ستون وفاقی نظام ہے جس کے تحت چار وحدتیں اسکی بنیاد ہیں، آئین میں صوبوں کے حقوق اور حدود متعین ہیں، خیبر پختون خواہ کے وسائل پر پختون خواہ کے عوام کا حق ہے، اسی طریقے سے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق ہے، عوام کو اپنے حقوق دئے جائیں، عوام کے حقوق پر جب ڈاکا ڈالا جائے گا تو پھر عوام سامنے آئے گی، جس طرح آج کل ہر طرف سے عوام سڑکوں پر ہے۔حقوق کا مطالبہ کرنا غداری نہیں ہے، یہ آئینی حق ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈی آئی خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب
ہمارے پاس دہشتگردی کے خلاف کوئی موثر پالیسی نہیں ہے،عام آدمی بد امنی کی صورتحال سے تنگ آچکا ہے، یہاں کا تاجر جو ٹیکس دے کر معیشت کو مضبوط کر رہا ہے آج وہ اپنا کاروبار ملک سے ظاہر منتقل کرنے پر مجبور ہوچکا ہے،دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے، دہشتگردی کی کمر توڑنے جیسے خوشنما نعروں سے قوم کو لالی پاپ دیا جارہا ہے، جرم کے خاتمے کے نام پر قوم کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا ڈی آئی خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب
ہم یہاں تک پہنچ چکے ہیں اور اب انشاءاللہ اس سے بھی آگے جائیں گے۔ کچھ دنوں سے افواہوں کے ذریعے چوں چوں سننے میں آ رہی ہیں کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے دوبارہ انہی چیزوں کو اسمبلی میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جنہیں ہم نے پہلے مسترد کیا تھا۔ اگر یہ ترمیم لوٹوں کے ووٹوں سے پاس کروانے کی کوشش کی گئی تو قوم اسے قبول نہیں کرے گی۔ ہم خاموشی سے بیٹھنے والے نہیں ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا چنیوٹ میں خطاب
آج 77 سال بعد پارلیمنٹ میں ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے،ملک کو سود سے پاک معیشت کی راہ پر گامزن کرنا ہمارا دیرینہ خواب تھا،جس کی تعبیر اب ممکن ہوگی ،انشاءاللہ 2028 کے بعد پاکستان میں ہر قسم کا سودی کاروبار ممنوع ہوگا۔یہ فیصلہ قائد اعظم کے وژن اور اسلامی اصولوں کے مطابق معیشت کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے۔
مدارس کے ساتھ ہمیشہ آمرانہ رویہ اپنا گیا ہے،ہم نے اسکا راستہ بھی روک لیا ہے، آج اس پارلیمنٹ میں سوسائٹی ایکٹ بل بھی پاس ہوچکا ہے، جس کے تحت مدارس اپنی رجسٹریشن کروا سکیں گے اور آئے روز مختلف اداروں سے تنگ کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا، مدارس مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے، مدارس کا یہ دیرینہ مسئلہ تھا جو آج مکمل ہوا الحمدللہ
1973 کے آئین کے ساتھ ہی اسلامی نظریاتی کاؤنسل وجود میں آئی ، لیکن اب تک اس پر قانون سازی نہیں ہوسکی ، اب آئین کے ذریعے سے حکومت کا پابند کیا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کاؤنسل ایک سال میں قانون سازی مکمل کر کے ایوان میں پیش کریں گےاور اس پر بحث ہوگی اور اسلامی نظریاتی کاؤنسل کو بل بھیجنے کے لئے 40 فیصد اراکین کی جوشرط تھی اسکو ہم نے 25 فیصد پر لایا ہے تاکہ اسلامی مملکت میں اسلامی نظام کی راہیں ہموار ہوں۔
شریعت کورٹ کے فیصلے جو لامحدود وقت کے لیے معطل رہتے تھے اسکی بھی ایک سال تک کی حد مقرر کردی ہے اور شریعت کورٹ کے اندر کے ججز وہ اپنی کورٹ کا چیف جسٹس نہیں بن سکتا تھا آج کے بعد وہ خود اپنے عدالت کے چیف جسٹس بھی بن سکیں گے۔
اس تاریخی موقع پر میں پورے ایوان اور قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اسلام کے عظیم سپوت یحیٰ سنوار پر اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے اور یہ صہیونی سفاکیت کی بدترین مثال ہے، یحیٰ سنوار شہادت کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہوگئے، یہ ناقابل تلافی نقصان ضرور ہے مگر فلسطینی عوام اور مجاہدین کے حوصلے پست نہیں ہوں گے، ہم اسرائیلی جارحیت کو ریاستی جارحیت سے تعبیر کرتے ہیں، ہم کل بھی فلسطین کے ساتھ تھے اور خون کے آخری قطرے تک فلسطینی عوام اور مجاہدین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ انشاءاللہ
پشتون تحفظ مومنٹ اور اس کی قیادت نے جو پشتون جرگہ بلایا اور پھر اس پر جو تشدد کیا گیا اور ان کے کارکنوں کو شہید کیا گیا کچھ زخمی ہیں ہم اس پرتشدد کاروائی کے پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، جب وہ مسلح بھی نہیں ہے جب وہ ایک پرامن جلسہ کرنا چاہتے تھے تو ملک کی آئین کے تحت بھی کوئی ایسی رکاوٹ نہیں تھی اور ہمیں تو ابھی تک سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس تحریک کو غیر قانونی کیوں قرار دیا گیا، کلعدم کیوں قرار دیا گیا، نہ اس بارے میں اب تک حکومت اپنی پوزیشن واضح کر سکی ہے سوائے کچھ بیان بازیوں سے زیادہ آگے نہیں جا سکی ہے،
جمیعۃ علماء اسلام اس جرگے کے حوالے سے اس بات کو واضح کرنا چاہتی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگ ہوں یا ملک میں جو بھی پشتون برادری سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کا تعلق اگر جمیعۃ علماء اسلام کے ساتھ ہیں تو ان کو اس میں شرکت کی پوری اجازت ہے کوئی کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی جو لوگ اس میں شریک ہونا چاہتے ہیں اور جمیعۃ علماء اسلام اپنے کچھ سینئرز پر مشتمل وفد وہ بھیجے گی نمائندگی کے لیے تاکہ اس میں شرکت ہو سکے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی پریس کانفرنس