پاکستان نے D-248 کاماکازی ڈرون کی نمائش کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے یہ ڈرون تین ہزار کلو میٹر تک وار لوڈ لے کر جا سکتا ہے مطلب انڈیا کا ہر کونا اور اسرائیل اب پاکستان کی ریننج میں ہیں ایران کے شاھد ڈرون جیسے اس کے ونگ ہیں.💪🇵🇰
فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ،مقامی سطح پر ڈیزائن اور تیار کئے جانے والے ہتھیاروں، گولہ بارود کے تجربات اور آزمائشوں کا مشاہدہ کیا، آئی ایس پی آر
جنوبی پنجاب کے عوام کے احساسِ محرومی اور انہیں ان کی دہلیز پر بہتر سہولیات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے ان کی باتیں حقیقت کے بہت قریب ہیں
اگر عوام کو بہتر انتظامی سہولیات اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں تو نئے صوبوں کے قیام پر غور وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
بھائی صاحب نے پاکستان میں نئے صوبوں کے متعلق بہت ہی کمال گفتگو کی ہے۔
اور جو بھی باتیں انہوں نے کی ہیں وہ واقعی حقیقت ہیں۔
جنوبی پنجاب کے لوگ اب خود کو محرومی کا شکار سمجھنے لگے ہیں،اگر عوام کو کچھ ریلیف دینا ہے تو ایسا کرنا ہی ہو گا۔
عوام کو اگر انکی دہلیز پر ریلیف دینا ہے تو مزید صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
بھائی نے اس پر بہت اچھی گفتگو کی ہے،ضرور دیکھیں یہ ویڈیو،خاص طور پر جنوبی پنجاب کے حوالے سے انہوں نے بہت اچھی باتیں کی ہیں۔
یہ 26 اگست 2026 کی صبح تھی جب نیپال اور چائنہ کے سرحدی علاقوں میں ایک زلزلہ آیا،لوگ سمجھے کہ شاید یہ ایک معمولی زلزلہ ہے۔
لیکن انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ زلزلہ ان کے اوپر قیامت بن کر گرے گا،چند لمحات میں ہی پانی کا ایک ریلہ ایسے نمودار ہوا جیسے وہ کسی سے انتقام لینے آیا ہو۔
پھر کیا ہوا،کیسے حالات ہوئے،اور وہ زلزلہ کیسے آیا تھا،تمام تفصیلات اس ویڈیو میں ملاحظہ فرمائیں۔
نئے صوبوں اور سندھ کی تقسیم جیسے حساس معاملے پر یکطرفہ فیصلہ قابلِ قبول نہیں۔
کراچی بار کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے پر حمایت اور مخالفت، دونوں آرا موجود ہیں، اس لیے منتخب کمیٹی اکیلے پوری کراچی بار، کراچی یا سندھ کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل باڈی اجلاس بلا کر دونوں مؤقف سنے جائیں، کھلی بحث اور قرارداد کے بعد ہی وکلا کنونشن منعقد کیا جائے۔ انہوں نے کراچی بار کی قیادت کی جانب سے استعمال کی گئی مبینہ بازاری اور اشتعال انگیز زبان پر بھی تنقید کی اور خبردار کیا کہ لسانی بنیادوں پر گفتگو وکلا میں تقسیم پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھی، مہاجر، پٹھان، پنجابی، سرائیکی اور بلوچ سمیت تمام آوازوں کو سنا جائے اور اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا جائے، بصورت دیگر وہ ساتھی وکلا کے ساتھ الگ کنونشن بلائیں گے
Bangladesh is in talks with China to acquire J-10C fighter jets as part of a plan to modernize and strengthen its Air Force. The move would give Bangladesh access to one of China’s most advanced fighter aircraft and could mark a major upgrade to its combat capabilities.
Bangladesh’s Minister for Liberation War Affairs Faruk-e-Azam said the J-10C performed very well during the recent India-Pakistan conflict, highlighting its reported battlefield performance as Bangladesh considers the aircraft.
Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces Field Marshal Syed Asim Munir met a delegation of Harvard Business School students representing multiple countries…
اللہ تعالیٰ آپ کی اس نیک کوشش کو قبول فرمائے اور آپ کو ثابت قدم رکھے۔ ایک مظلوم بیٹی کے لیے آواز اٹھانا بھی بہت بڑی انسانیت ہے۔ ان شاء اللہ آپ کی یہ کوشش رنگ لائے گی، حق اور انصاف کی فتح ہوگی۔ اللہ ہمیں بھی حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ایک اور بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے میری آواز تقریباً دس لاکھ(1Million) لوگوں تک پہنچ چکی ہے۔
انشاءاللہ میں اپنے محاذ پر اپنی کوشش جاری رکھوں گا،تاکہ میں کم از کم کوشش کرنے والوں میں تو شامل ہو جاؤں۔
انشاءاللہ مجھے یقین ہے کہ انصاف بھی ہو گا،اور اللہ کی بارگاہ میں جا کر میں شرمندہ بھی نہیں ہوں گا۔
آیت نور۔
آزاد کشمیر میں سڑک کے کلیئرنس آپریشن کے دوران فسادیوں کا مسلح حملہ، فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز جوان سپاہی شاہ نواز (خیر پور، سندھ) سینے پر گولی لگنے سے جام شہادت نوش کرگیا.
#ColAsfnadyarZindaBad
ایک فوجی وردی پہن کر صرف سرحدوں کی حفاظت کا عہد نہیں کرتا وہ اپنے وطن کے ہر شہری کے تحفظ کا عہد کرتا ہے وہ دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے گولی اپنے سینے پر لیتا ہے اور ضرورت پڑے تو وطن کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے
مگر سوال یہ ہے کہ وہی فوجی اگر اپنی وردی میں اپنے گھر کی عورت اپنی ماں بہن بیوی یا بیٹی کو کسی خطرے سے بچانا چاہے تو قانون اس کے ہاتھ کیوں باندھ دے؟؟؟
قانون کا احترام ہر شہری اور ہر ادارے کی ذمہ داری ہے لیکن قانون ایسا بھی ہونا چاہیئے جو محافظ کے بنیادی حقوق اور اس کے اہلِ خانہ کے تحفظ کو یقینی بنائے
جو شخص ملک کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ سکتا ہے اسے اپنے خاندان کی عزت جان اور تحفظ کے لئے قانونی راستہ بھی ملنا چاہیے
فوجی صرف وردی نہیں ہوتا وہ بھی ایک انسان ایک بیٹا ایک بھائی ایک شوہر اور ایک باپ ہوتا ہے
ملک کے محافظ کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست اپنے محافظوں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کے لئے واضح مؤثر اور منصفانہ قانون بنائے
جو وطن کی حفاظت کرتا ہے ریاست کو بھی اس کے گھر کی حفاظت کرنی چاہیئے