تمام احباب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا موبائل اور یہ @AhilsChronicle اکاؤنٹ 16 فروری 2026 سے ڈکی بھائی کے بڑے بھائیوں کے قبضہ میں ہے۔ 16 فروری کے بعد میرا اس اکاؤنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام احباب سے درخواست ہے کہ اس بات کو نوٹ فرما لیں
What exactly have those officeholders sitting in Pakistan achieved after winning votes in Imran Khan’s name and then enjoying the privileges and comforts of power that makes anyone think someone sitting in America can do any better?
The only difference is that those sitting here are using Khan’s name to win votes while enjoying the perks of power playing political games and pretending to be loyal
Meanwhile some people sitting in America are using Khan’s name to make dollars
At the end of the day the difference is almost nothing Both are benefiting from Khan’s name in their own ways
خان صاحب کی زندگی کے حوالے سے وجاہت سعید خان کی خبر سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں
اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا کوئی وقت آئے اللہ رب العزت عمران خان صاحب کو لمبی عمر عطا فرمائے انہیں مکمل صحت دے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
یہ جو کچھ عقل کے پیدل لوگ لوگوں کے DMs میں جا جا کر میرے بارے میں پوچھ گچھ کرنے اور میری ذاتی معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نا تو پیاروں ذرا سن لو پھر یہی حرکتیں تمہیں رلائیں گی
بھائی میرے پچاس ہزار Shades ہیں اور میں Toxic ترین انسان ہوں بلکہ Toxic سے بھی آگے کی کوئی چیز ہوں آج تک میں خود کو صحیح طریقے سے نہیں پہچان سکا تو تم لوگ مجھے کیا پہچانو گے
بہتر ہے ایسی یَکّیّاں اور فضول پنگے لینے سے باز رہا کرو کیونکہ تمہیں اندازہ بھی نہیں کہ تم کس چیز کو چھیڑ رہے ہو اور اس بار یہ بات اچھی طرح یاد رکھنا نہ کسی کی سفارش چلے گی نہ کسی کی منت سماجت اور نہ ہی میں کسی کی بات سننے والا ہونگا پھر کسی کی نوکری جاتی ہے یا چھوکری مجھے اس سے فرق نہیں پڑے گا
سب سے پہلے اللہ رب العزت آپ کی دادی مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے
جناب آپ کو کس نے روکا ہے کہ آپ اپنی دادی کے جنازے میں شرکت نہیں کر سکتے؟ کھل کر بتائیے نا پھر ہم ہیں آپ کی مدد کے لیے۔ میں اپنے یار دوستوں سے کہہ دیتا ہوں وہ آپ کی حفاظت کی ذمہ داری لے لیں گے۔ آپ اطمینان سے جائیں نہ صرف جنازے میں شرکت کریں بلکہ اپنے گھر بھی رہیں
لیکن خدارا ان چھوٹی چھوٹی ذاتی وجوہات اور معاملات کو ہمارے اس بہت بڑے کاز کے ساتھ لنک نہ کیا کریں۔ ایک اجتماعی جدوجہد کو ذاتی معاملات کے ساتھ جوڑنے سے نہ آپ کا مسئلہ حل ہوگا نہ ہمارے کاز کو کوئی فائدہ پہنچے گا
آج سہیل آفریدی فرما رہے ہیں کہ ہم کوئی سیاسی بیان نہیں دیں گے کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے بس خان صاحب سے ملاقات کروا دی جائے۔ تو ذرا قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ یہی آفر 15 جون سے پہلے ٹیبل پر موجود نہیں تھی؟ کیا اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ علیمہ آپا کے علاوہ کسی بھی بہن کی خان صاحب سے ملاقات کروا دی جائے گی اور ساتھ ڈاکٹرز بھی موجود ہوں گے؟ پھر اس وقت اس آفر کو کس نے مسترد کیا تھا؟ کون لوگ تھے جنہوں نے خان صاحب سے ملاقات اور ان کی صحت کو اپنی ضد اور اپنی مصلحت پر قربان کیا؟
اور جب فروری میں خان صاحب کی آنکھوں کا مسئلہ شروع ہوا تھا تو کیا محسن نقوی کے ذریعے یہ پیغام نہیں پہنچایا گیا تھا کہ بیرسٹر گوہر خان صاحب کے ساتھ گاڑی میں ہوں گے خان صاحب کے کزن بھی ساتھ ہوں گے خان صاحب کو آپ کی مرضی کے ہسپتال میں رکھا جائے گا لیکن سیاسی بیان بازی نہیں ہوگی؟ تو پھر اس وقت یہ شرط کیوں قبول نہیں کی گئی؟ آج اچانک وہی شرط قابلِ قبول کیسے ہوگئی؟
اصل سوال بہت سادہ ہے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ان دونوں مواقع پر یہ آفرز مسترد کیں؟ قوم کو نام نہیں تو کم از کم اپنا کردار تو بتائیں۔ کیونکہ آج جو یقین دہانی اسٹیبلشمنٹ کو دی جا رہی ہے کہ ہم سیاسی بات نہیں کریں گے بس خان صاحب سے ملاقات کروا دیں، یہی بات پہلے کیوں نہیں مانی گئی؟
خان صاحب کو دشمن تو ملے ہی بڑے کم ظرف ہیں لیکن بدقسمتی سے خان صاحب کو اپنے بھی بڑے گھٹیا اور انتہائی کم ظرف لوگ ملے ہیں۔ ایسے لوگ جو خان صاحب کی رہائی اور ان سے ملاقات سے زیادہ اپنی پوزیشن بچانے اپنی سیاست چمکانے اور اپنی حیثیت برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جن کے لیے خان صاحب کی تکلیف بھی شاید اپنی سیاسی دکان چلانے کا ایک موقع ہے
اب یہ دوغلا پن نہیں چلے گا۔ اگر سیاسی بیان نہ دینے کی شرط آج قابلِ قبول ہے تو پھر قوم کو بتایا جائے کہ پہلے یہی راستہ کس نے بند کیا تھا اور کیوں بند کیا تھا۔
ان کا پروٹوکول اور انا پرستی عمران خان کی رہائی سے بھی بڑی ہے گشتی کے بچوں اللہ نہ کرے خان صاحب کو کچھ ہو لیکن کسی جنرل کی ماں بہن ایک کرنے سے پہلے تم سب گشتی کے بچوں کی ماں بہن ایک کر دی جائے گی یہ بات یاد رکھنا
🚨جنید اکبر کا جواب
پانچ اگست کو بھی کہا جاتا ہے کہ لوگ نہیں نکلے پر جتنا میں شکر گزار ہوں پانچ اگست کو پارلیمنٹیرین کہوں انہی پارلیمنٹیرین نے لوگوں کو بھی نکالا اور گاڑیاں بھی دی اور جو پارلیمنٹ سے باہر ہے ان کا میں کچھ نہیں کہہ سکتا رات کو 12 بجے میسج اتی ہے یہ کہاں کا طریقہ ہے