ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر جب پابندیاں لگیں تو سعودی نے مفت تیل بھی دیا اور ادھار رعائتی نرخوں پر بھی دیا، پھر تین بلین ڈالرز ہمارے خزانے میں رکھے۔۔ ایران نے پاکستان کو دہشتگرد فاطمیون، زینبیون، بی ایل اے، کلبھوشن یادو دیئے۔۔
21 ستمبر 1857ء صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ پنجاب کے بیدار ضمیر اور قومی غیرت کا وہ روشن باب ہے جو ہر نسل کو اپنی مٹی سے وفا کا سبق دیتا ہے
جب پورے برصغیر پر انگریز سامراج کی دہشت اور ہیبت چھائی ہوئی تھی اس وقت نیلی بار کے 80 سالہ بپھرے ہوئے شیر رائے احمد خاں کھرل نے انگریزی فرعونیت کے آگے جھکنے سے صاف انکار کر دیا تھا
گوگیرہ کے انگریز اسسٹنٹ کمشنر برکلے نے جب کھرل صاحب سے ٹیکس اور مجاہدین کے خلاف ساہیوال و اوکاڑہ کے غیور قبائل کی حمایت مانگی تو رائے احمد خاں نے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی پنجاب کی تاریخ میں گونجتا ہے کہ زمین گھوڑا اور عورت یہ کسی غیر کو سپرد نہیں کیے جاتے
انہوں نے نہ صرف انگریز کی لگان (ٹیکس )کو ٹھکرایا بلکہ گوگیرہ جیل پر حملہ کر کے حریت پسندوں کو آزاد کرایا اور نیلی بار کے تمام قبائل کو ایک پرچم تلے متحد کر کے 1857ء کی جنگِ آزادی کا علم بلند کیا
انگریز ان کی میدانِ جنگ میں جرات کا مقابلہ نہ کر سکا اور بالاآخر 21 ستمبر کو نمازِ عصر کی حالت میں بزدلانہ گھات لگا کر اس عظیم فرزندِ زمین کو شہید کر دیا
ایک طرف جہاں رائے احمد خاں کھرل جیسے غیرت مند سپوت اپنی دھرتی ماں کی حرمت پر سر کٹا رہے تھے تو دوسری طرف پنجاب کے کچھ بے ضمیر پیر فقیر گدی نشین نمبردار اور ذیلدار انگریز کی تھالی کے چٹے بٹے بنے ہوئے اس قوم کا سودا کررہے تھے انگریزی سامراج سے جاگیریں مربعے خان بہادری کے خطابات اور چند روپے کی مراعات حاصل کرنے کے لیے ان ضمیر فروشوں نے پنجاب کی پیٹھ میں چھرا گھونپا
ان نام نہاد وڈیروں اور مراعات یافتہ گدی نشینوں نے انگریز کے قدموں میں گر کر اپنی قوم کی مخبری کی اور آزادی کے پروانوں کا سودا کیا
تاریخ آج بھی ان غداروں پر لعنت بھیجتی ہے جبکہ رائے احمد خاں کھرل کا نام غیرت و حمیت کے شاندار نعرے کے طور پر زندہ و جاوید ہے
رائے احمد خاں کھرل نے حسینی کردار نبھاتے ہوئے سجدے کی حالت میں سر کٹوانا گوارا کیا لیکن اپنی مٹی اپنی خودداری اور اپنی قوم کا سودا نہیں کیا
آج کا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس عظیم شہید کی قربانی کا پاس رکھا؟
جس پنجاب کی مٹی کو کھرل صاحب کے خون نے سرخرو کیا وہاں آج ہم خاموشی بے حسی اور غفلت کی چادر تان کر سو رہے ہیں
شہید کی شہادت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ آزادی صرف جغرافیائی سرحدوں کا نام نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے ڈٹ جانے ظالم کے سامنے کلمۂ حق کہنے اور اپنے سچے ورثے پر فخر کرنے کا نام ہے
آئیے آج کے دن اپنے دلوں میں رائے احمد خاں کھرل کی غیرت، شجاعت اور وطن پرستی کی وہ جوت دوبارہ جلائیں رائے قحمد خاں کھرل کی شخصیت کا مطالعہ کریں اور ثابت کریں کہ پنجاب کا ضمیر مرجھایا نہیں بلکہ اپنے ہیروز کی یاد میں آج بھی زندہ اور بیدار ہے
وحید نذیر
یہ کنٹونمنٹ کا ایریا ہے جو مئیر کے ماتحت ہے ہی نہیں، تم بےوقوفوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ضلع شرقی گلشن اقبال کا حشر دیکھو جا کے، کس طرح لوگ رل رہے ہیں اور تم لوگوں کو تعصب کی پڑی ہوئ ہے۔
یہ افغان طلبا کے لئے کم کسی اور کی محبت میں زیادہ مبتلا ھیں۔ پنجابی کا ایک محاورہ ھے ۔۔۔
روندی یاراں نوں لے لے ناں بھراواں دے
(روتی یاروں کو ھے نام بھائیوں کا لیتی ھے)
افغان طلبہ کی ملک بدری کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے والے دونوں ہائی کورٹس کے ججز حضرات سے التماس ہے کہ افغان خود کُش حملہ آوروں کے خلاف بھی کوئی ایک آدھ حکم امتناعی جاری فرمادیں، ہمارے بچے شہید ہو رہے ہیں۔
پنجاب کیوں محفوظ ہے ؟ کیونکہ پنجاب پہل کرتا ہے
پنجاب کے 43 شہروں میں قائم سمارٹ سیف سٹی سے منسلک ہوں گے اب باڈی کیم جس سے چہرے کی ڈیجیٹل فیچر سے شناخت بھی کی جا سکے گی آڈیو ویڈیو ریکارڈ موجود ہوگا
پنجاب پولیس “ پنجاب ہائی وے پولیس “ وارڈن سب کو باڈی کیم لگیں گے 🙌🏻🙌🏻
پاکستان میں دھشتگردی کا ایک حل یہ ہے کہ قوم پرست پختون اور بلوچ قبائل اور خاندانوں کو افغانستان بھیج دیا جائے تا کہ وہ اپنے وطن میں ھنسی خوشی قندھاری ملاؤں کے نیچے اسلامی ریاست میں زندگی بسر کر سکیں اور سیدھا جنت جائیں۔ !
ابصار عالم کڑوا سچ بولتے ہوئے 🙌🏻
جتنے یہ نیشنلسٹ ہیں میں انہیں racists کہوں گا
اپنی ایلیٹ پر نسل کی وجہ سے انگلی اُٹھانے کے بجائے ساری نفرت پنجاب کی طرف دھکیل دی اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلوچستان میں ایک سال میں شناختی کارڈ دیکھ کر40 پنجاب قتل کر دئیے کسی ایک کا بیان دکھا دیں