1
بجٹ سرپلس پر شدید تنقید کے بعد سہیل آفریدی کی عمران خان سے ممکنہ ملاقات کی خبریں چل رہی ہیں یا چلوائی جارہی ہیں۔
2
یعنی سہیل آفریدی اگر ایوان اور اسمبلی کو اپنے اختیارات کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے تو بہت ساری چیزیں بہت پہلے سے منوا لیتے۔
3
یعنی جب عمران خان کی بینائی کا مسئلہ بنا تو سہیل آفریدی پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری کی بجائے سڑک پر ہوتے تو عمران خان کو علاج کی سہولت بھی مل جاتی۔
4
بہت ساری چیزیں مس کرنے کے بعد سہیل آفریدی اپنی وقعت اور اہمیت کھو چکے ہیں۔ اب ملاقات عمران خان کی بہنوں اور وکلاء کی بھی ہونی چاہیے۔ کسی ممکنہ ملاقات کی صورت میں صرف سہیل آفریدی کی ملاقات اور پیغام کا کوئی اعتبار نہیں۔
5
یہ ایک ملاقات نہیں ہونی چاہییے عمران خان کی ہفتہ وار ملاقاتوں اور علاج کو سرپلس سے مشروط کیا جائے۔ آئی ایم ایف کو بھی خط لکھ دیا جائے کہ جس ہفتے عمران خان کی ملاقات نہیں ہوگی اسی ہفتے سرپلس ختم۔
6
وہ لوگ جو سہیل آفریدی پر سرپلس ، بجٹ ، صوبائی معاملات اور وغیرہ وغیرہ پر تنقید کرنے کو غلط قرار دے رہے تھے ان کا موقف بھی غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ اسی تنقید کے سبب چھ ماہ کے طویل عرصے کے بعد عمران خان سے ملاقات کی کوئی سبیل پیدا ہوئی ہے۔
7
ملاقاتوں کی یہ خبریں وقتی اشتعال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی چل سکتی ہیں لہذا یوتھیے سہیل آفریدی سے نا کوئی ہمدردی رکھیں نا ڈھیل دیں۔
8
اگر بجٹ پاس نا کرنے سے حکومت جاتی ہے تو چلی جائے۔ تحریک انصاف کا اقتدار اور تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کو اور تحریک انصاف کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ فوج گورنر راج لگائے یا اراکین توڑ کر اپنا وزیراعلی لائے۔
علیمہ خان ' عظمی خان اور نورین نیازی کو
سہیل آفریدی کی لاٹھی بننے سے انکار کرنا ہو گا۔ جب ہر کامن سینس رکھنے والا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سمجھ چکا تھا کہ سہیل آفریدی کی کہانی ختم ہو چکی تب بھی وہ آفریدی پر اعتماد کا اظہار کرتی رہیں
نقصان کس کا ہوا؟ عمران خان اور پاکستان کا
پہلی دفعہ قبل از وقت میڈیا پر عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کی خبر دی جا رہی ہے
بجٹ کیلئے ساری باتیں منوانے اور سہیل آفریدی کو راستہ دینے کیلئے یہ سب کیا جا رہا ہے
ملاقات ہوئی تو اصل بات باہر نہیں آئے گی۔ اور اگر نہیں ہوتی تو باہر ملاقات ہونے کا بتایا جائے گا
اس ملاقات کی ویڈیو جاری کی جائے
ورنہ کسی پر یقین مت کریں
اور ٹھوک کے رکھیں
ایک طرف میڈیا پر عمران خان کو پمز ہسپتال بھیجنے کی خبر دوسری طرف جنید اکبر خان کی اس کی تردید ۔
پہلی خبر بجٹ راستے ہموار کرنے کی ہے
اور تردید کارکنوں کو وہاں پہنچنے سے روکنے کیلئے
کشمیر میں اصل میں کیا ہو رہا ہے یہ سمجھنے کیلئے پیچھے جانا پڑے گا
مئی 2023 میں راولاکوٹ سے انجمنِ تاجران اور مقامی عوامی ایکشن کمیٹیوں کی شروع کی۔جانے والی بجلی کے بلوں' آٹے پر سبسڈی کے خاتمے اور اشرافیہ کی مراعات کے خلاف شروع ہونے والی تحریک ساڑھے چار ماہ میں جس طرح پورے کشمیر میں اچانک پھیل گئی اس سے اس کے آرگینک ہونے پر شبہ کیا جا سکتا ہے۔ مئی 2024 میں دوبارہ احتجاج شروع ہوا ۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ میں پولیس سے جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر سمیت کچھ مقامی افراد جاں بحق ہوئے۔ اور حکومتِ پاکستان نے فورا ہی مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا
ایک ہی دن میں مطالبات تسلیم کرنا حکومتوں کی روایت رہی ہوتی تو پاکستان میں چار سال سے فسطائیت ہوں جاری نہ رہتی
اس تحریک پر لوگوں کا اعتماد بڑھ گیا ۔ دو سال بعد یعنی 2026 میں پھر لانگ مارچ آر دھرنوں کا اعلان ہوا
مگر اس سے پہلے وہاں آئی جی پولیس اور سیکٹر کمانڈر وہ بھیجے گئے جو گفتگو کی بجائے جبر پر یقین رکھتے تھے
پہلی بار ایک دن میں جھک جانے والوں نے اس بار پہلے ہی دن فائر کھول کر بہت سے لوگ ہلاک کر دیئے فائرنگ کے واقعے بار بار دہرائے جاتے رہے۔ تاکہ ( مزاحمت کی آگ مزید بھڑک جائے)
یہ وہ تیز رفتار پلان ہے جس سے امریکہ کی چین کے خلاف ایک سٹریٹجک پوائنٹ کی خواہش پوری ہو سکتی ہے
کشمیر بارڈر کے دونوں اطراف کے واقعات کو بنیاد بنا کر اقوام متحدہ کی امن افواج کے نام پر امریکہ کی فورسز یہاں اتاری جائیں۔
اور پھر رہے نام اللہ کا
اللہ نے دین اتارا تھا یا آٹھ سالہ ڈگری پروگرام؟
قرآن کھولو تو بار بار چند ہی باتیں سامنے آتی ہیں: ایک خدا کو مانو، سچ بولو، انصاف کرو، وعدہ پورا کرو، حلال کماؤ، کمزور پر ظلم نہ کرو اور اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے تیار رہو۔
مگر اگر آج کسی عام آدمی سے دین سیکھنے کی کوشش کرو تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ میڈیکل کالج میں داخل ہو گیا ہو۔ فلاں کتاب پڑھو، فلاں شرح پڑھو، پھر اس کی شرح کی شرح پڑھو، پھر آٹھ سال مدرسے میں گزارو، پھر بھی شاید تم “اہلِ علم” نہ بن سکو۔
ایسا تاثر دیا گیا ہے جیسے جنت کا راستہ اللہ نے نہیں بلکہ کسی امتحانی بورڈ نے جاری کیا ہو۔
عجیب بات یہ ہے کہ ایک دیہاتی بوڑھی عورت جو ساری زندگی سچ بولتی ہے، کسی کا حق نہیں کھاتی، نماز پڑھتی ہے اور لوگوں کے کام آتی ہے، اسے دین کی سمجھ کم رکھنے والا کہا جاتا ہے۔ لیکن ایک شخص جو سینکڑوں کتابیں پڑھ کر بھی تکبر، نفرت اور فرقہ بندی پھیلاتا رہے، اسے بڑا عالم سمجھ لیا جاتا ہے۔
علم کی ضرورت سے کون انکار کرتا ہے؟ یقیناً فقہ، حدیث اور تفسیر کے ماہرین ہونے چاہئیں۔ لیکن ماہرین کا کام راستہ آسان بنانا ہوتا ہے، راستے میں ٹول پلازے لگانا نہیں۔
بدقسمتی سے بعض لوگوں نے دین کو اتنا پیچیدہ بنا دیا ہے کہ عام مسلمان کو لگتا ہے شاید اللہ تک پہنچنے کے لیے بھی کسی “مفتی لائسنس” کی ضرورت ہے۔
حالانکہ رسول ﷺ کے پاس آنے والے اکثر لوگ نہ محدث تھے، نہ فقیہ تھے، نہ آٹھ سالہ کورس کے فارغ التحصیل۔ وہ عام لوگ تھے جو سچائی، اخلاص اور عمل کے ذریعے دین پر چلتے تھے۔
دین کی اصل روح شاید اتنی ہی سادہ ہے جتنی قرآن بار بار بتاتا ہے۔ باقی بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے دین کے گرد اتنی باڑ لگا دی ہے کہ لوگ باغ تک پہنچنے کے بجائے باڑ ہی کو دین سمجھ بیٹھے ہیں۔
راولاکوٹ دھرنے کی قریبی مسجد میں نماز فجر کیلئے جانے والا سبحان عارف فائرنگ سے جاں بحق۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق فائرنگ رینجرز نے کی۔
ہم یقین نہ کرتے اگر اسلام آباد میں نماز پڑھتے جوان کو کنٹینر سے دھکے مار کر گرانے کامنظر نہ دیکھا ہوتا
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہے نا ؟
غلطیاں تو بہت ساری ہوئیں لیکن وزیراعظم عمران خان کی دو غلطیاں بہت نقصان ان کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوئیں۔۔۔اور پاکستان کے لئے بھی۔ قمر باجوہ جیسے سازشی جنرل کی ایکسٹینشن اور عثمان بزدار کو وزیراعلی بنانا فاش غلطیاں تھیں۔
پنجاب میں کوئی طاقتور اور وفادار سی ایم ہوتا تو اسٹیبلشمنٹ کو عدم اعتماد کروانے میں بہت دقت پیش آتی۔
دوسری طرف آرمی چیف قمر باجوہ نے پیٹھ میں خنجر مار دیا حالانکہ خان صاحب اس سے یہ خنجر 2019 میں ہی چھین سکتے تھے۔
پاکستان جیسے ملکوں میں یہاں جمہوریت کی جڑیں گہری نہيں ہیں اقتدار میں اپنے وقت سے کچھ سال آگے دیکھنا پڑتا ہے ورنہ کوئی نہ کوئی وار کر جاتا یے۔ خان صاحب لیکن پاکستان کو برطانیہ سمجھتے رہے۔ اقتدار کھونے کے بعد بھی وہ عوام کی سپورٹ سے برطانیہ کی طرح واپس آنا چاہتے تھے۔
جن لوگوں نے خان صاحب کو ان دو غلطیوں کے ارتکاب مشورہ دیا تھا وہی ان کے دشمن تھے/ہیں۔
سہیل آفریدی پر تنقید صوبے کے بجٹ کے لیے وفاق سے رابطوں پر تنقید نہیں ہورہی۔
سہیل آفریدی پر تنقید اس لیے ہورہی ہے کہ ؛
ڈرون حملوں پر ایف آئی آر دیے بغیر
فوجی آپریشن روکے بغیر
سٹریٹ موومنٹ کے بغیر
اسمبلی کو قانون سازی کے لیے استعمال کیے بغیر
رجیم چینج کے بعد کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن بنائے بغیر
عمران خان کے لیے اڈیالہ جائے بغیر
سہیل آفریدی وفاقی کٹھ پتلیوں سے مل رہا ہے اور اس سب کا مطلب مائنس عمران خان ہے۔
سچ بولیں تو پورا بولیں۔
پی ٹی آئی والوں کو ایک اور بات بھی سمجھنا چاہیئے
جس احتجاج کی توقع آپ حکومت سے رکھتے ہیں وہ کام تو ہے ہی پارٹی یعنی تنظیم کا!
آج تک کسی نے تنظیم کے بڑوں سے سوال کیا؟
کیوں نہیں کیا؟
جواب بھلے آپ کو معلوم نہ ہو کسی چیز کا، سوال کرنے کا ڈھنگ تو سیکھ لیں۔
کبھی سوال کیا کہ ابھی تک باقی صوبے تو چھوڑ، کے پی تک کی تنظیمیں نہیں بنیں۔ کون جوابدہ ہے اس کا؟ بغیر تنظیم کے کوئی احتجاج ہو سکتا ہے؟ کامیاب ہونا تو بعد کی بات ہے۔