ملک کا حشر یہ کر دیا ہے کہ 25 سالہ نوجوان میر رضا علی قتل ہو جاتا ہے۔
اور اس کے والد کو کوئی انصاف دلوانے کو تیار نہیں۔
یا اللّه۔ اس ملک سے ظلم کا نظام ختم فرما دیجئے اور ظالموں کی جڑ کاٹ دیجئے۔ آمین۔
معزرت کے ساتھ ان دونوں صاحبان کو Namal بارے بات کرتے کچھ ریسرچ کر لینی چاہیے تھی۔۔ 2019 میں ڈگری ایوارڈنگ سٹیٹس ملا نمل کو۔۔ اب تک تین convocation ہو چکے ہیں ( انٹرنیٹ پر دستیاب معملومات مطابق) ۔
میر رضا کیس میں کرائم کی فرانزک ٹیم پہنچی، سب کام انہوں نے کیے مگر انہیں وہ خول نہیں مل سکا، وہ خول 3 یا 4 دن بعد ملا جب ایک رپورٹر نے خبر بریک کی کہ گولی سینے پر نہیں بلکہ کمر پر لگی ہے۔ اس کے بعد کیس 180 ڈگری پر گھوم گیا ورنہ اس سے پہلے پولیس کا یہی موقف تھا کہ گولی سینے پر لگی ہے۔ پولیس کو اس کے بعد سمجھ آئی کہ یہ کیس ہی الٹا ہے۔ بیوروچیف پبلک نیوز کراچی ثمر عباس کی پروگرام خبر نشر میں گفتگو
@javeednusrat
نوجوانوں کو لیپ ٹاپ سے زیادہ اس نظام میں نمائندگی دیں انکو ووٹ کی پرچی سے اپنی مرضی کی حکومت بنانے دیں باقی کام سارے وہ خود کرلیں گے کہ انہیں کیا چاہیے
نوجوان 8 فروری کو نکلے یہ وہ الیکشن تھا جس میں نوجوانوں کی ریکارڈ شرکت تھی کیا 8 فروری کو جو نتائج آئے اور حکومت بنی وہ ووٹ کی پرچی سے بنی ؟
جب نتائج ووٹ کی پرچی کے مطابق نہیں آئیں گے تو پاکستان کا نوجوان کیا کرے گا ؟
یاسر شامی کا تہلکہ خیز انکشاف
لاہور پولیس نے دو خواتین گرفتار کیں تب وہ تندرست تھیں یاسر شامی ویڈیو بھی لے آئے
لیکن پولیس حراست میں دونوں خواتین مر چکی ہیں
میر رضا کیس ملزمان جو کوئی بھی ہیں وہ بہت بااثر اور طاقتور نظر آرہے ہیں ۔ ماضی میں بشریٰ زیدی کی موت نے پورے کراچی کو کھڑا کردیا تھا ۔ اہلیان کراچی کو میر رضا کیلئے کھڑا ہونا ہوگا ۔ یہ کراچی کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے ۔ کراچی کو اب پشتون مہاجر سندھی بلوچ وغیرہ سے نکل جانا چاہیے ۔ کراچین بن کر کراچی کیلئے کراچی والوں کیلئے ایک ہوجائیں
"کاش کہ @NawazSharifMNS آٹھ فروری کی رات لاہور میں میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر کہہ دیتے کہ عوام نے مجھے ووٹ نہیں دیا، میں عوام کا فیصلہ تسلیم کرتا ہوں اور جن کو عوام نے ووٹ دیا ہے اقتدار انہیں دیا جائے، کوئی بااصول شخص ہاری ہوئی سیٹیں لینے کا تصور ہی نہیں کر سکتا، اگر اسٹیبلشمنٹ ہمیں اقتدار میں لائے تو سو بسمہ اللہ لیکن ہمارے مخالف کو لائے تو وہ ملکی مفاد کیخلاف ہو جاتا ہے، نواز شریف شروع میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں اور جنرل جیلانی کی مدد سے آئے"
دھاندلی ذدہ نشست ٹھکرانے والے بااصول سیاستدان اور ن لیگ کے سابق MNA ڈاکٹر نثار چیمہ
@DRTPakistan
https://t.co/l6MhcNXQqr
ہم تو پہلے سے ہی بتا رہے ہیں کہ سب eye wash ہے ۔ امیج بلڈنگ کے لئے منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن گراؤنڈ پر صورتحال کیا ہے یہ اب ان کے اتحادی وزیر کے چینل والے دکھا رہے ہیں۔ البتہ ڈھولچی ڈھول بجاتے رہیں گے۔
ایک لمحے کے لیے اس ویڈیو پر نظر پڑی تو میں سوچنے لگا کہ شاید یہ لوگ بجلی کے مہنگے بلوں کے خلاف نکلے ہیں، شاید مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے، اس لیے آواز اٹھانے آئے ہیں۔ شاید پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، کہ پوری دنیا میں پیٹرول سستا ہو رہا ہے اور پاکستان میں مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔
میں نے سوچا شاید یہ لوگ ان جابروں کے خلاف اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
لیکن دوسرے ہی لمحے دیکھا تو معلوم ہوا کہ لنگر کی دیگوں کے ڈھکن کھلتے ہی لوگ اس طرف دوڑ پڑے ہیں۔پھر دل میں سوال اٹھتا ہے کہ جس قوم کو اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، اگر وہ لنگر کی دیگ کے پیچھے دوڑنے پر مجبور ہو جائے، تو اس قوم کی تقدیر آخر کیسے بدلے گی؟
ایک چیز اور ایڈ کرلیں کہ آج سے ہم نے آن لائن نظرانہ لینا بھی شروع کردیا ہے اگر کوئی شخص لندن بیٹھا ہے امریکہ بیٹھا ہے پاکستان سے باہر ہے تو وہ آن لائن دیگ بھی لے سکتا ہے اور چادر بھی چڑھا سکتا ہے ۔ محسن نقوی
میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن نقوی عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں
لاہور ٹاؤن شپ تھانہ میں دو خواتین کی ہلاکت کا معاملہ
ورثاء کے مطابق دونوں لڑکیوں میں نند اور بھابھی کا رشتہ تھا۔ پولیس نے پاکپتن کے نواح علاقے میں زبردستی جنازہ کروایا اور لڑکیوں کی فوری تدفین کروائی، لاہور سے پاکپتن نعشوں کی روانگی کے ساتھ پولیس اہلکار ساتھ گئے اور جنازے،تدفین کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی جبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی گاڑی میں موجود تھے۔جنازے کے دوران پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں۔
ورثاء کا یہ بھی الزام ہے کہ انکو ابتدائی طور ایک اور ایف آئی آر تھمائی گئی اور بتایا گیا کہ ہم دونوں لڑکیوں کی ضمانت کروائیں بعد میں دوسری ایف آئی آر کا بتایا گیا اور پتہ چلا کہ دونوں کی موت ہوچکی ہے۔ دونوں بچیاں پاکپتن میں اوڈ فیملی کج تھیں اور جھگیوں کی رہائشی تھیں۔
میں نے عمران خان کے دوستوں کے خلاف بھی بڑے بڑے ایکشن لیے، مگر عمران خان نے کبھی مجھے منع نہیں کیا۔ عمران خان کے ایک دوست کے خلاف ٹیکس کا کیس کیا تو وہ شکایت لے کر گیا۔ عمران خان نے مجھ سے پوچھا، ’’شبر، صحیح ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’صحیح ہے۔‘‘ خان نے اسے کہا، ’’جاؤ، جو مرضی کرنا ہے، کر لو!شبر زیدی۔