مریم نواز صاحبہ یہ پنجاب کی خواجہ فرید یونیورسٹی میں ہو رہا!
ایک داڑھی والا استاد عقیل الرحمان طالبہ سے جنسی تعلق بنانے کی خواہش میں اسکو بلیک میل کر رہا
یہ سکرین شاٹس ضلع رحیم یار خان خواجہ فریدؒ یونیورسٹی میں پڑھتی ایک طالبہ کی طرف سے سوشل میڈیا فیس بک کے ایک گروپ میں شئیر کئے گئے ہیں
جس نے شاید خوف کے مارے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی. اس میں ایک استاد اس کو نمبرز/ گریڈز کا خوف لالچ دے کر جنسی تعلق چاہتا ہے. اس کی فی الفور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے میں اور اگر یہ سچ ہے تو اس بے غیرت انسان کو قرار واقعی سزا ہونی چاہیے
باقی یہ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ آج کل یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے اکثر اساتذہ طلباء کو اس طرح بلیک میل کرتے ہیں لیکن بچیاں ہِمّت نہیں کر پاتی سماج کے دباؤ والدین کے خوف اور بدنامی کی وجہ سے اگر کوئی کردے تو ادارہ بھی سو فیصد اپنی ساکھ بچانے کے لئے ایسے عناصر کو بچاتا ہے
@prohibent نہیں اب بہت دیر ہوگیٔ کراچی کی ڈیمو گرافی تبدیل ہوگیٔ اب اردو بولنے والے آدھے سے بھی کم ہیں بہترین موقع جنرل ضیا کے زمانے میں تھا اسی نے 1984 میں MQM بنوایٔ تھی جسنے کراچی اور حیدر آباد کی دو سیٹیں چھوڑ کر ساری سیٹیں جیت لیں تھیں
رحیم یار خان یونیورسٹی کے ایک وڈی داری والے ٹیچر کا طالبات کو ہراساں کرنے کا معاملہ
طالبہ نہیں ٹیچر کے واٹس ایپ پر کئے گئے میسیجز وائرل کر دیئے
واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ثابت ہونے پر سخت ایکشن ہونا چاہئے
ملک خصوصا” سندھ کے کونے کونے سے بد کرداروں کو کراچی پر مسلط کردیا گیا ھے
شراب کے نشے میں دھت ٹریفک پولیس افسر نے سوز کی ڈرائیور کی جان لے لی
تمام ثبوت سامنے ہیں اسے پکڑنے والے اسکے وکیل اورانصاف فراھم کرنے والے سب ایک ہی گروہ ھے
کچھ دنوں میں یہ ترقی پاکر مزید عیاشیاں کررھا ھوگا
جس نے بھی یہ ویڈیو بنائی ہے اس سے بڑا چوتیا دوسرا کوئی نہیں ہوگا ۔ وہ لڑکی شاید کام سے تھکی ہاری گھر واپس جا رہی ہو، اسے شاید پتہ بھی نہ ہو کہ اسکی شرٹ ہوا میں اڑ رہی ۔ اسے 15-20 لوگوں نے دیکھا ہوگا، ویڈیو بنانے والے نے اسے ہر اینگل سے دنیا کو دکھا دیا وہ بھی اسکی مرضی کے بغیر ۔
خواجہ فرید جنسی ہراسمنٹ کیس
اس کیس کو مثال بنانا چاہئیے
کمیٹی میں یونیورسٹی انتظامیہ کے علاؤہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا آفیسر سول سوسائیٹی کا ایک فرد صحافی وکلاء میں سے ایک نمائندہ شامل ہونا چاہیے..!
@SoomroJameel بھایٔ دوسرے تین صو��وں میں داخلوں اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم نہیں ہے لاہور کا پنجابی ہو یا کسی چھوٹے پنڈ کا پنجابی داخلہ یا ملازمت میرٹ پر سندھ میں کراچی کے لوگ نوے فیصد بھی لیں تو نہ داخلہ نہ ملازمت لاڑکانہ کا پچاس فیصد بھی کافی ہے یہ بھٹو پچاس سال پہلے کرگیا تھا
استاد جیسے عظیم رتبے کی یوں پامالی- انتہائی دکھ, افسوس اور پھر شدید غصّہ بھی-
رحیم یار خان میں خواجہ فرید یونیورسٹی کے پروفیسر عقیل الرحمان نے مبینہ طور پر اپنی نوجوان طالبہ کو جنسی طور پر حراساں کیا- اسکو گریڈز بڑھانے لیئے کھلے عام اپنے ساتھ جسمانی تعلق استوار کرنے کی دعوت دے ڈالی- مذکورہ طلبہ نے وھٹس ایپ کے میسجز سوشل میڈیا پر وائرل کر دیئے- نوجوان طالبہ نے بدنامی کے خوف سے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی-
ہم اس واقعے کی فی الفور اور شفّاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں-
(سکرین شاٹس کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے تھریڈ میں دوسری اور تیسری پوسٹ تک منسلک کیئے ہیں)-
قومیں کیسے بنتی ہیں اور قی��دت میں فرق کیا ہوتا ہے؟
آج بنگلہ دیش معاشی طور پر پاکستان سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر ہم سے بہتر ہیں، ڈالر کے مقابلے میں اس کی کرنسی ہم سے زیادہ مستحکم ہے، اس کی ایکسپورٹس ہم سے کہیں زیادہ ہیں اور کئی دوسرے معاشی اشاریوں میں بھی وہ ہم سے بہتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ایک عام کمرشل فلائٹ میں سفر کر رہے ہیں۔
کیوں؟ کیونکہ ان کے دل میں ملک کا درد ہے، قوم کا درد ہے۔ ان کے اندر شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور پروٹوکول انجوائے کرنے کا کوئی فتور نہیں۔
اور دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کو دیکھ لیں۔۔۔ جہاز پہ جہاز، کافلے پہ کافلے، پروٹوکول پہ پروٹوکول۔ ایک ایک دورے پر کروڑوں روپے اڑا دیے جاتے ہیں۔
یہی وہ فرق ہے جس سے قومیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ قومیں وسائل سے نہیں، قیادت کی نیت اور کردار سے اٹھتی ہیں۔
جنسی ہراسگی اور بلیک میلنگ ہو رہی ہے یونیورسٹیوں میں گریڈز کے نام پر ہے کوئی ایکشن لینے والا ؟ پھر جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو سب کے منہ کھل جاتے ہیں
شکل دیکھو انکی تو ان سے بڑا کوئی مسلمان نہیں اور حرکتیں سو ر سے بدتر ہیں
@RoymukhtarRoy جماعت اسلامی میں ایمانداری اور صحیح عقیدہ ہے صحیح عقیدہ کی تبلیغ ایک نیک کام ہے جو تبلیغی جماعت کرتی ہے بری صرف وہ جماعتیں ہوتیں ہیں جو دوسروں کے قابل تعظیم ہستیوں کی توہین کرتی ہیں وہ بیشک غلط راستے پر ہیں
ہمیں ایک " اُردش میڈیم " پہ جانا چاہیے نہ اردو میڈیم نہ انگلش میڈیم بلکہ ایک ہائیبرڈ سسٹم جس میں ٹرمنالوجی بے شک انگلش کی ہوں لیکن باقی سب اردو میں ہو ! احسن اقبال ۔۔۔