قاضی گیا۔ اب مسرت ہلالی گئیں۔ ایسے ہی باقی لوگ عہدوں سے جائیں گے یا فوت ہو جائیں گے۔ دیکھنے اور سیکھنے کی بات یہ ہے کہ آپ کی رخصتی پر لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد کر رہے ہیں۔ آپ کو انصاف کا علمبردار سمجھتے ہیں یا انصاف کا قاتل۔ فیصلے کے لیے اب تاریخ کے انتظار کی بھی ضرورت نہیں۔ ثمینہ پاشا
#pakistan @pasha_samina
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں نے 2,119 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے، مگر ان میں سے 2,079 ارب روپے سبسڈیز، گرانٹس اور قرضوں کی صورت میں دوبارہ انہی اداروں کو واپس منتقل کر دیے گئے۔ مطلب حکومت کی جیب میں صرف 40.7 ارب روپے آئے جبکہ مالی سال 2024 میں 458.2 ارب روپے آئے تھے۔
داکو ڈفر الائنس!
سپریم کورٹ، پاکستان کو کمزور کرنے والے فیصلوں کا اہم ترین حصہ بننے والی عورت کے وجود سے پاک ہو گئی۔ صدیق جان
#pakistan@SdqJaan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
اویس لغاری کے مطابق بجلی کی قیمت سستی کرنے سے تو آئی ایم ایف روک دیتا ہے
مگر یہ جو روز روز ججوں اور الیٹ کلاس کی اربوں کی مراعات حکومت بڑھاتی کیا اس میں آئی ایم ایف کا کمشن ہے کہ یہاں چپ رہتا ہے ؟
بیرسٹر سلمان صفدر کی گفتگو 🚨
مقدمات جتنے بھی ہیں لڑ لینگے ۔۔ تین سو ساڑھے تین پہلے بھی لڑ لیے مزید بھی لڑ لینگے، مقدمات کی فکر نہیں ہے لیکن یہ جو صحت اور آنکھ کا مسئلہ ہے یہ بہت تشویشناک ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی آج ریٹائر ہو گئی ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ تکلیف سوشل میڈیا پر اپنے خلاف ہونے والی تنقید سے ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ تنقید کرتی تھیں کہ سوشل میڈیا نے ملک کے تمام اداروں کو ڈیمیج کر دیا ہے۔ اگر وہ منصفانہ فیصلے کرتیں تو یقیناً ان پر تنقید نہ ہوتی۔ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں چھیننے سے لے کر بلے کا نشان چھیننے تک، ہر سیاہ عمل میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ برابر کی شریک رہی ہیں۔
"صرف فارم سینتالیس پر کسی کو ممبر اسمبلی نہیں مانا جا سکتا۔ فارم پینتالیس بھی ہونا چاہئے۔"ثمینہ پاشا
@pasha_samina
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
شہباز گل کی جدوجہد اور مزاحمت تاریخی ہے ، شہباز گل نے مشکل ترین وقت میں وقت کے یزید کو للکارا ہے
شہباز گل تحریک کا اثاثہ ہے، اپنے اثاثہ جات کو ٹارگٹ کرنے والے بے عقل اور نا تجربہ کار ہیں
"وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم آپکو Trap کریں گے" - شاہ محمود قریشی
"کردیں کردیں" - عمران خان کا مسکراتے ہوئے جواب
یہ تب کا واقعہ ہے جب عمران خان پشاور میں پریس کانفرنس کر رہے تھے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلی عہدیدار کا شاہ صاحب کو فون آیا کہ آپ لوگ خاموش ہو جایئں ورنہ اپکو ہم ٹریپ کریں گئے اور خان صاحب نے دلیری سے کہا کہ کردیں ، پھر دنیا نے دیکھا کہ واقعی 9 مئ کا ڈرامہ رچا کر اسکی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے ساتھ سب سے گندہ کھیل کھیلا۔
جس دن عمران خان کو وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا،
تو تحریک انصاف کے ایم این ایز افسردہ تھے، سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے تھے آرام سے، یہاں تک کہ عمران خان بھی اپنے گھر آرام کر رہے تھے،
لیکن پورے پاکستان میں عوام عمران خان کے حق میں بہت بڑی تعداد میں باہر نکل آئی،
اس رات کے بعد سے عمران خان کی سیاست کا منظر نامہ بدل گیا تھا، شہزاد اقبال
”اسٹیبلشمنٹ کو ن لیگ سے توقعات تھیں کہ وہ عمران خان کا سیاسی بیانیہ ختم کرکے ان کی بھی ساکھ کو مضوط کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ن لیگ سے عمران خان مخالف بیانیہ کیا بناتی، اب تک تو اس سے اپنے جواز کا بھی بیانیہ نہ بن سکا۔ جہاں تک گڈ گورننس کی بات ہے تو کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی دہائیوں پر محیط حکومتیں دیکھ کر بھی ان سے کسی اختراع (بہتری) کی امید رکھے گا۔ “ حبیب اکرم
@HabibAkram
اس ویڈیو میں شفیع جان کا کردار دیکھیں کہ وہ کیا کررہا ہے آپکو سمجھ ا جائے گی کہ قیادت کو کنٹرول کون کر رہا
اللّٰہ تعالیٰ عمران خان کو غداروں اور منافقین کے شر سے محفوظ رکھے
🚨🚨🚨
بلاول زرداری کی سندھ حکومت کو اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی نے ورلڈبینک کے 7 ارب روپے لوٹ لیے، اور جب ورلڈبینک کو پتہ چلا تو انہوں نے رقم واپس مانگی، سندھ حکومت نے یہ 7 ارب روپے اپنی جیب سے نکالنے کی بجائے سندھ کے خزانے سے رقم واپس کی. ان 7 ارب روپے کی کرپشن کے تانے بانے سندھ حکومت سے ملتے ہیں.
پاکستان کا سب سے بڑا جرم ساہیوال کول پاور پلانٹ ہے جو شہباز شریف نے لگایا تھا کوئلہ کراچی سے آتا ہے اور ساہیوال میں بجلی بن رہی ہے کسی نے پوچھا آپ نے یہاں کیوں لگایا پلانٹ تو اس نے کہا میں چاہتا ہوں پنجاب میں بجلی بنتی نظر آنی چاہیے اب اس سمیت پانچ پلانٹ بند پڑے ہیں ! شبر زیدی ۔۔
’جنوبی ایشیا میں تحریک انصاف جمہوری جدوجہد سے ایک نئی داستان لکھ رہی ہے‘
نہ جانے عمران خان نے پی ٹی آئی کو کس مٹی سے بنایا تھا کہ یہ جماعت آگ میں جھُلس رہی ہے، بھاری بوجھ تلے دبی ہے مگر پتھر کی طرح سخت ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسی جمارت نہیں جس کے خلاف قانون باقاعدہ حربہ بن چکا ہو، جسے دبانے کے لیے دستور میں ترمیم کی گئی ہو، جس کا قائد جیل میں ہو، اہم رہنماؤں کو 30 30 سال سزائیں جبکہ قائد جیل میں ہو، انتخابی نشان چھینا جا چکا ہو اور 26 نومبر 2024 کو اس پر سیدھی گولیاں چلی ہوں لیکن وہ پھر بھی لانگ مارچ کے لیے تیار ہو، حبیب اکرم
قاضی فائز عیسیٰ نے آئینِ پاکستان کو روندتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے آئین کو اہمیت دی اور انٹرا پارٹی الیکشنز کو کالعدم قرار دے کر پری پول رگنگ میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے تحریکِ انصاف سے بلے کا انتخابی نشان چھیننے تک بھی حد کر دی، جب کہ وہ جانتے تھے کہ دوسری جماعتوں میں بھی باقاعدہ انتخابات نہیں ہوتے، وہاں صرف نامزدگیاں ہوتی ہیں!شہزاد اقبال۔