میں وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈمارشل عاصم منیر، وزیرخارجہ اور پاکستان کے تمام حکام سے اپیل کرتاہوں کہ وہ صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے شہید اورزخمی ہونے والے اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملےکو فی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں۔
پانچ مہینے تک تیل بر دار جہاز پر موجود پاکستانی عملے کے ارکان صومالی قزاقوں کی قید کے دوران حکومت پاکستان سے اپیلیں کرتے رہے، حکومت پاکستان نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، بالآخر قزاقوں نے وہاں کئے جانے والے آپریشن کے دوران عملے کے پانچ ارکان کوفائرنگ کرکے شہید اورکئی ارکان کو زخمی کردیا۔ ان کے ماں،باپ، بیوی بچے حکمرانوں سے اپیلیں کررہے ہیں کہ اگر حکومت ان کے پیاروں کوزندہ واپس نہیں لاسکی توکم از کم ان کی میتیں اور زخمیوں کوہی واپس لے آئے۔
میں حکمرانوں سے کہتاہوں کہ اگرآپ اپنے شہریوں کا ذرہ برابر بھی احساس ہے تو آپ قزاقوں کے ظلم کانشانہ بننے والے پاکستانی عملے کے ماں باپ، بیوی بچوں کی فریادوں پرتوجہ دیں، شہیدوں کی میتوں کو اور زخمیوں کوفی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں تاکہ ان کی مظلوم فیملیزان کودیکھ سکیں، شہیدوں کی تدفین کرسکیں اورزخمیوں کاعلاج کراسکیں۔ یہ آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الطاف حسین
30ستمبر 2026ء
2/2
وقت آنے پر ان ڈاکوؤں اور ان کے سرپرستوں سے حساب لیاجائے گا۔ قزاقوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے تینوں پاکستانیوں کاشف عمر، محمود انصاری اور رفیع اللہ کاتعلق کراچی سے ہے لہٰذا میں کراچی کے شہریوں سے خصوصاًوفاپرست ساتھیوں اورہمدردوں سے کہتاہوں کہ وہ ان شہیدوں کے گھر جاکران کی غمزدہ فیملیزکاغم بانٹیں، جہاں جہاں میتیں آئیں، ان کی تجہیزو تکفین کے انتظامات میں حصہ لیں اور یزیدی حکمرانوں کی سفاکیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کی مددکریں۔ شہرکے مخیرحضرات بھی ان مظلوم فیملیزکی مددکریں۔زخمیوں کی دیکھ بھال کریں۔اوورسیزمیں رہنے والے بھی اس کارخیرمیں حصہ لیں۔میں تمام شہیدوں کی فیملیزسے کہتاہوں کہ آپ کا جلاوطن بھائی آپ کے خاندان کے ایک ایک فرد سے دلی تعزیت کرتا ہے اور دعا کرتا ہےکہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کوشہادت کادرجہ عطافرمائے، ان کواپنی جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے اورزخمیوں کوشفاعطا فرمائے۔
الطاف حسین
29ستمبر2026ء
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️⬛️
سانحہ حیدرآباد 30 ستمبر 1988 کہ شہداء کے لئیے ناظم آباد گلبہار سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے دعائیہ اجلاس جس میں تحریک کے تمام شہداء کے درجات کی بلندی کے لئیے دعا کی گئی اللہ پاک قبول و منظور فرمائے۔ آمین
👇👇👇
*سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبرکراچی 1988ء ناقابل فراموش ہے،قائد تحریک الطاف حسین*
*کراچی اورحیدرآبادمیں مہاجر آبادیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا میڈیا میں تذکرہ تک نہیں کیاجاتاجوکہ افسوسناک ہے*
*سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 38ویں برسی کے موقع پر بیان*
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبرکراچی 1988ء ناقابل فراموش ہے،
قائد تحریک @AltafHussain_90
حیدرآبادمیں مہاجر آبادیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا میڈیا میں تذکرہ تک نہیں کیاجاتاجوکہ افسوسناک ہے
*سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 38ویں برسی کے موقع پر بیان
حیدرآباد میں جو خواتین سر پہ قرآن لیکر اپنے لوگوں کی جان بخشی کی فریاد کر رہی تھیں نسل پرستوں نے حکومتی سرپرستی میں فائرنگ کر کے دونوں کی بے حرمتی کی ،آفرین ہے ان پہ جنھوں نے تمام قدغنوں پابندیوں کے باوجود ۳۸ سال گزرجانےکے بعد آج بھی اس واقعہ ،اپنے شہداء کو زندہ رکھا ہوا ہے
سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبرکراچی 1988ء ناقابل فراموش ہے،قائد تحریک الطاف حسین
کراچی اورحیدرآبادمیں مہاجر آبادیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا میڈیا میں تذکرہ تک نہیں کیاجاتاجوکہ افسوسناک ہے
سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 38ویں برسی کے موقع پر بیان
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سےپاکستانی عملےسمیت پانچ افرادکی شہادت بڑاسانحہ ہے۔
ریاست پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے تاوان کاانتظام کرتی لیکن اس نے ایسانہیں کیا۔
جو پاکستانی مغوی شہیدہوئے ہیں ان کاخون وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
کراچی کے شہری،وفاپرست ساتھی اورہمدرد غمزدہ فیملیزکاغم بانٹیں، شہیدوں کی تجہیزوتکفین کے انتظامات میں حصہ لیں۔
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پرہنگامی خطاب
……………………………
صومالی قزاقوں کی جانب سے ہائی جیک کئے گئے تیل بردارجہاز کے یرغمال عملے کے شہیدوزخمی ہونےکاواقعہ ایک بڑا سانحہ ہے اورمیں اس سانحہ میں شہیدو زخمی ہونے والوں کی فیملیز کے ایک ایک فرد سے دلی تعزیت کااظہارکرتاہوں اور اس سانحے پرمیں ان کے ساتھ ہوں۔
تیل لےجانے والاجہاز جس کانام ” آنر“ HONOUR تھا۔جس پرسوار عملے کی تعداد 17 تھی۔جہاز کے عملے میں 17میں سے 10 افراد کاتعلق پاکستان سےتھا جبکہ عملے کے باقی سات ارکان کاتعلق انڈونیشیا، انڈیا، سری لنکااوربرما سے تھا۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جارہاتھا۔ 24 اپریل 2026ء کو جب یہ جہازصومالیہ کےسمندری علاقے میں پہنچاتو صومالی قزاقوں نے اس جہازکو ہائی جیک کرلیا۔ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کےلئے تاوان مانگا گیا تھا۔لیکن حکومت پاکستان نے سنی ان سنی کردی۔ جہاز کے پاکستانی عملے کے ارکان کی فیملیز نے حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے فریادیں کیں کہ ان کے پیاروں کی بازیابی کے لئے کوششیں کی جائیں۔ افسوس کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔آج مورخہ 29ستمبر 2026ء کویہ افسوسناک اطلاع ملی کہ بحری قزاقوں اورصومالیہ کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اورقزاقوں نے جاتے جاتے فائرنگ کرکے کئی مغویوں کو شہیدوزخمی کردیا۔قزاقوں کی فائرنگ سے جہاز کے عملے کے پانچ ارکان شہید اورچار شدیدزخمی ہوگئے۔جن میں تین پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈانجینئر محمودانصاری، بوائلرآپریٹر رفیع اللہ شامل ہیں جبکہ ایک انڈین اورایک میانمار کاشہری شامل ہے۔
یہ ایک بہت بڑاسانحہ ہے اورمیں اس سانحے پر بہت دکھی اورغمزدہ ہوں۔میں سوال کرتا ہوں کہ اگرکسی ملک کاکوئی جہازہائی جیک کرلیاجائے تواس ملک کی وزارت بحری امور، پورٹس اینڈشپنگ اور وزارت خارجہ حرکت میں آتی ہے، جو دوسرے ملک کی حکومتوں اور سفارتخانوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی میری ٹائم فورسزاوردیگرمتعلقہ اداروں سے رابطے کرتی ہیں اورسفارتی سطح پر تمام تروسائل اورتعلقات استعمال کرکے اپنے یرغمالی شہریوں کی بازیابی کےلئے کوششیں کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان کوبھی چاہیے تھاکہ وہ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک کئے گئے جہازکے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لئےتمام تر حکومتی اور سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرتی، قزاقوں سے رابطے کرتی، ان پر سفارتی دباؤ ڈلواتی، اپنے شہریوں کی جان بچانے کےلئے تاوان کی ادائیگی کا انتظام کرتی۔لیکن افسوس کہ حکومت پاکستان نے ایسانہیں کیا۔جب مجھ پر پابندی نہیں لگی تھی اور ایسے ہی ایک پاکستانی جہازکے عملے کو صومالی قزاقوں نے یرغمال بنالیاتھاتومیں نے یہ سب کوششیں کرکے عملے کی بحفاظت پاکستان واپسی کروائی تھی۔ اگریہ سب کچھ میں کرسکتا تھا توحکومت نے کیوں نہیں کیا؟ یہ وفاقی وصوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں تھی توکس کی ذمہ داری تھی؟ ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغوی شہریوں کوچھڑانے کے لئے سرکاری خزانے سے رقم اداکرکے انہیں بحفاظت واپس لیکرآئے لیکن پانچ مہینے تک کسی نے نہیں سنا۔ یہ موجودہ حکمرانوں کی بے غیرتی اوربے شرمی ہے کہ اپنے شہریوں کی جانیں بچانے کے لئے ان کے خزانے میں پیسے نہیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے انتہائی لگژری جیٹ گلف اسٹریم G500 خریدنے کے لئے 45سے 50 ملین امریکی ڈالر نکل آئے جولگ بھگ پاکستانی 13سے 14ارب روپے بنتے ہیں۔ جوپاکستانی یرغمالی شہیدہوئے ہیں ان کا خون وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
یہ موجودہ حکومت کی غفلت اور بے حسی ہے کہ جہازکے مغویوں کی فیملیز نے جب حکمرانوں سے درخواستیں کیں، کسی نے توجہ نہیں دی۔ اتوار 6 ستمبر کو یرغمالی عملے کی مظلوم فیملیزنے مجبورہوکر کراچی میں شاہراہ فیصل پر واقع پاکستان کی وزارت خارجہ کے رابطہ دفتر کے سامنے پلے کارڈز لیکر دریاں بچھاکردھرنا دیدیا کہ وفاقی حکومت ان کے پیاروں کی رہائی کے لئے فوری اقدامات کرے، لیکن ان کی فریادسننے کے بجائے پیر7 ستمبر کی صبح سندھ پولیس نے ان فیملیز کوجن میں خواتین، بزرگ، نوجوان شامل تھے،ان کےپلے کارڈز پھاڑے، دریاں پھاڑدیں اوران سب کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا۔ سندھ پولیس اورحکومت کوایسا کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی شرم نہیں آئی۔ یہ سندھ پولیس والے ڈاکو ہیں، ڈاکوؤں کے سردارہیں،
1/2
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
30 ستمبر 1988 کے حیدرآباد سانحہ کے شہداء کو سلام وہ معصوم جانیں جو درندگی کی نذر ہوئیں آج بھی یاد ہیں۔ قاتلوں کی رہائی اور انصاف کا دفن ہونا ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا۔ اس ظلم پر پردہ ڈالنے اور پیپلز پارٹی کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا
30 ستمبر 1988 سانحۂ حیدرآباد کے شہداء کو سلام۔
حیدرآباد کی سڑکوں پر بہنے والا خون اور اُس المناک دن کی تلخ یادیں آج بھی تاریخ کے صفحات پر نقش ہیں۔ دہائیاں گزر گئیں، مگر شہداء کی یاد اور انصاف کے منتظر سوالات آج بھی زندہ ہیں۔
شہداء کو خراجِ عقیدت۔
@AltafHussain_90
ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی بحری جہاز Honour 25 کے عملے کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس
جہاز کا عملہ 21 اپریل 2026 سے سومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال تھا، مہینوں سے مدد کی درخواستوں کے باوجود حکومت پاکستان نے مدد نہیں کی اور آج اُنہیں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
عملے کے ارکان کو جہاں صومالی قزاقوں نے قتل کیا ہے وہیں اس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے
لندن ۔۔۔ 29 ستمبر 2026ء:
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں بحری جہاز آنر 25 کے سیکنڈ آفیسر سید کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود احمد انصاری اور آئلر رفیع اللہ خان کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ رابطہ کمیٹی شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتی ہے اور میتوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔
صومالی قزاقوں کی جانب سے جہاز کے عملے کو کئی ماہ تک یرغمال بنائے رکھا گیا اور تاوان طلب کیا گیا تھا۔ مغوی عملے کے ارکان اور ان کی فیملیز اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان سے مسلسل اپیلیں کررہی تھیں، ایم کیو ایم نے بھی عملے کی جان بچانے کے لئے اس سنگین معاملے کی جانب حکومتِ پاکستان کی توجہ دلائی تھی، مگر وفاقی حکومت اور متعلقہ حکام نے عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی فریاد پر توجہ نہیں دی اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔
بلآخر حکمرانوں کی بے حسی اور مُجرمانہ عفلت کے نتیجے میں آج اس پورے عملے کو شہید کردیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں عملے کے ارکان کو جہاں صومالی قزاقوں نے قتل کیا ہے وہیں اس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے ان کی بحفاظت بازیابی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ان کی رابطہ کمیٹی کے ارکان مقتولین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ الّٰلہ تعالیٰ شہداء کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
سانحہ حیدر آباد 30 ستمبر کے شہداء کو سلام عقیدت!
اللہ تبارک و تعالیٰ 30 ستمبر 1988 کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے انکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آمین ثمہ آمین
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
30 ستمبر 1988 کے حیدرآباد سانحہ کے شہداء کو سلام وہ معصوم جانیں جو درندگی کی نذر ہوئیں آج بھی یاد ہیں۔ قاتلوں کی رہائی اور انصاف کا دفن ہونا ایک ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا۔ اس ظلم پر پردہ ڈالنے اور پیپلز پارٹی کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا