یہ ٹویٹ اتنا زیادہ Retweet کرو تاکہ ہر ایک پاکستانی شہری تک پہنچے
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 2008 سے لے کر جون 2026 تک حکومتِ پاکستان تقریباً 3.3 ٹریلین روپے یعنی 3330 ارب روپے بنتے ہیں اس پروگرام پر خرچ کر چکی ہے اس سال کے بجٹ میں مزید 838 ارب روپے اس پروگرام کے لیے مختص کیے
یہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ ان وسائل سے ملک میں درجنوں جدید ہسپتال، اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں، ہزاروں اسکول و کالجز،موٹروے، سڑکیں، ڈیم اور ہائیڈرو پاور منصوبے بنائے جا سکتے تھے جو مستقل معاشی ترقی اور روزگار کا ذریعہ بنتے۔
اہم سوال یہ ہے کہ 18 سال گزرنے کے باوجود کیا غربت واقعی کم ہوئی ؟
کیا وہ خاندان جو 2008 سے امداد لے رہے تھے آج اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں؟
اگر ایک پروگرام مسلسل کھربوں روپے لینے کے باوجود لوگوں کو مستقل خود کفیل نہ بنا سکے تو پھر اس کی پالیسی شفافیت اور مؤثریت پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ اس پروگرام کے دوران کرپشن، سیاسی مداخلت، جعلی رجسٹریشن اور غیر مستحق افراد کو فائدہ پہنچنے کی شکایات بارہا سامنے آئی۔ دوسری طرف عام غریب آدمی کی زندگی میں وہ بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نا روزگار کے مواقع بڑھے، نا لوگوں کو مستقل کاروبار یا ہنر ملا۔ صرف نقد امداد سے غربت کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔
وقت آگیا ہے کہ یا اس پروگرام کو ختم کیا جائے
یا اسے صوبوں کے حوالے کر کے ہر صوبے کو اپنی ضروریات کے مطابق اصلاحات کا اختیار دیا جائے،
اور امداد کے ساتھ ہنر، روزگار چھوٹے کاروبار تعلیم اور صحت کو لازمی جوڑا جائے تاکہ لوگ مستقل طور پر خود کفیل بن سکیں، نہ کہ ہمیشہ امداد کے محتاج رہے
(خالد حسین تاج کی وال سے کاپیڈ)
اٹھائیسویں ترمیم کے آنے تک شائد یہ کالم کسی اخبار میں نہ چھپ سکے۔ فی الحال ٹوئیٹر پر ہی پڑھ لیں
=======
حلوائی بادشاہ
=======
کسی ملک کا بادشاہ وفات پا گیا
ملک کے دستور کے مطابق اعلان ہوا کہ اگلے دن صبح شہر کے دروازے پر تمام لوگ جمع ہوں گے، اور جو شخص سب سے پہلے شہر کے دروازے سے داخل ہوگا، اسے نیا بادشاہ بنا دیا جائے گا۔
اگلے دن ایک شخص سب سے پہلے شہر میں داخل ہوا اور وہ بادشاہ بن گیا۔
تخت نشین ہوتے ہی اس نے پہلا حکم دیا:
“حلوہ بناؤ اور پورے ملک میں بانٹ دو۔”
وزرا نے سمجھا کہ شاید نیا بادشاہ اپنی خوشی میں مٹھائی تقسیم کروا رہا ہے۔ چنانچہ حلوہ تیار ہوا اور پورے ملک میں تقسیم کر دیا گیا۔
ادھر پڑوسی ملک کو خبر ملی کہ پرانا، تجربہ کار بادشاہ فوت ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسے حملے کے لیے موزوں موقع سمجھا اور جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔
جاسوسوں نے آ کر اطلاع دی:
“حضور! پڑوسی ملک حملے کی تیاری کر رہا ہے۔”
بادشاہ نے پھر وہی حکم دیا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
لوگوں نے کہا، “واہ! کتنا نڈر بادشاہ ہے، اسے دشمن کا ذرّہ برابر خوف نہیں۔”
چند دن بعد اطلاع ملی کہ دشمن کی فوج کوچ کر چکی ہے۔
بادشاہ نے پھر کہا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
عوام نے گمان کیا کہ یقیناً بادشاہ نے کوئی زبردست حکمتِ عملی بنا رکھی ہوگی۔
پھر خبر آئی کہ دشمن کی فوج قلعے کے سامنے پہنچ چکی ہے۔
وزیر نے عرض کیا:
“حضور! دشمن دروازے پر ہے۔”
بادشاہ نے پھر وہی حکم دہرایا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
لوگوں نے سوچا کہ شاید بادشاہ دشمن کو قریب لا کر فیصلہ کن وار کرے گا۔
کچھ دیر بعد دشمن نے قلعے کی دیواروں پر چڑھائی شروع کر دی۔
بادشاہ نے پھر کہا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہی کسی بڑی جنگی چال کا حصہ ہے۔
آخرکار دشمن نے قلعے کا دروازہ توڑ دیا اور شہر میں داخل ہو گیا۔
وزیر نے گھبرا کر اطلاع دی، مگر بادشاہ نے ایک بار پھر وہی حکم دیا:
“حلوہ بناؤ اور سب میں بانٹ دو۔”
اب بھی لوگوں کو امید تھی کہ شاید دشمن کو اندر آنے دیا جا رہا ہے تاکہ پھر دروازے بند کر کے اسے ختم کر دیا جائے۔
لیکن دشمن شہر کو روندتا ہوا شاہی محل تک پہنچ گیا۔
وزیر سے رہا نہ گیا۔ اس نے کہا:
“حضور! جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ ہم پہلے دن سے دشمن کی ہر پیش قدمی کی خبر دے رہے ہیں، مگر آپ نے آج تک حلوہ بانٹنے کے علاوہ کوئی حکم نہیں دیا۔ اب دشمن محل کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔”
بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“بھولے لوگو! جس دن تمہارا پرانا بادشاہ فوت ہوا، میں اتفاقاً شہر میں داخل ہو گیا تھا اور قسمت سے بادشاہ بن بیٹھا۔ میں ایک حلوائی کا بیٹا ہوں۔ ساری زندگی میرا کام صرف حلوہ بنانا اور بانٹنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی کام آتا ہی نہیں۔ مجھے بادشاہ بنانے سے پہلے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں اس ذمہ داری کے قابل بھی ہوں یا نہیں۔ اب اگر میں وہی کر رہا ہوں جو مجھے آتا ہے، تو اس میں میرا کیا قصور؟
_______
جوکر کو بادشاہ بنادیں تو وہ محل کو سرکس میں بدل دیتا ہے
کسی بھکاری کو بادشاہ بنادیں تو وہ پورے ملک کو بھکاری بنادیتا ہے۔
کرپٹ کام چور راشی کو حکمران بنادیں تو وہ ساری رعایا کو کام چور، راشی بنادیتا ہے
آپ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کو لاکھ شوگر کوٹ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس نے ایک ناسور بن کر ملک کی اکثریت کو کام چور نکھٹو اور کرپٹ بنادیا ہے۔ بیشمار خبریں ثبوتوں کیساتھ موجود ہیں لیکن جنھیں اس آٹھ سو ارب سالانہ بے ہنگم فنڈ سے حصہ مل رہا ہے وہ خاموشی سے یہ پیسہ کھا رہے ہیں
پیپلزپارٹی کی پوری ٹیم میں کوئی اہل شخص نہیں انکے پاس کوئی معاشی منصوبہ نہیں، کوئی وژن نہیں سوائے ایک کام کے کہ بجٹ سے آٹھ سو ارب روپے نکالو اور سب میں بانٹ دو
بینظیر قتل ہوئی تو ایک نا اہل شخص کو آپ نے حکمران بنا تو دیا لیکن اسے صرف ایک کام آتا ہے
حلوے بناؤ اور سب میں بانٹو
بے ہنگم انکم سپورٹ فنڈ وہی حلوہ ہے ہے اور وہ سب میں بانٹ رہا ہے۔
بقلم #شائن_سٹائن
آپ پاکستان میں الیٹ کی موجیں دیکھیں
بزنس کلاس پر بیرون ملک سفر پر FED فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی تھی مثلاً امریکہ کے لیے 3.5 لاکھ روپے، یورپ/آسٹریلیا کے لیے 2.1 لاکھ روپے، مشرق وسطیٰ کے لیے 1.05 لاکھ روپے یہ مکمل ختم کر دی ہے
جبکہ اکانومی کلاس پر یہ 12500روپے ہے جو اب بھی موجود ہے مطلب الیٹ کلاس کو معاف عام بندا اکانومی پر وہ دے گا اور پھر ڈھول پیٹ رہے بجٹ میں ہم نے رلیف دے دیا ہے
چائنا کے سرکاری ٹی وی سے کل ایک ڈاکیومینٹری نشر ہوئی جس میں چند لگڑ بگڑوں کو ایک ہپو کے بچے کو نوچتے ہوئے دکھایا۔
چائنیز کمنٹری میں کہا جارہا ہے کہ لگڑ بگڑ ہپو کے بچے کو ایسے ہی نوچ کر کھا رہے ہیں جیسے پیپلزپارٹی کراچی کو زندہ ہی نوچ نوچ کر کھا رہی ہے۔ ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے۔ سندھ حکومت نے نئے طریقوں سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے چاہے وہ بجلی کے بلوں کی صورت ہو، گیس کے بل، پانی کے ٹینکروں کی مد میں۔ جو بچتا ہے وہ ڈکیتوں کی سرپرستی کرکے موبائل اور موٹرسائیکلیں چھین کر۔ جو ان سب سے بچ جائے انکے لئے ای چالان انکا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
غرض ہر وہ طریقہ اپنایا ہوا جس سے عوام کی جیب پر ہاتھ صاف کیا جاسکے۔
میرا غالب گمان ہے کہ وہ ہندوستانی فلم “Maachis” تھی۔ میں نے وہ کئی بار دیکھی، بے حد عمدہ فلم تھی اور مجھے بہت پسند آئی۔ بالخصوص اس کا ایک مکالمہ آج تک ذہن میں کہیں محفوظ ہے۔ اگرچہ اب اداکار کا نام اور مکمل الفاظ یاد نہیں، مگر مفہوم کچھ یوں تھا کہ جب اُس کردار سے پوچھا جاتا ہے کہ “تمہاری منزل کیا ہے؟” تو وہ جواب دیتا ہے:
“ہم جیسے لوگوں کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ ہم ظلم اور ناانصافی کے خلاف لڑتے رہتے ہیں اور ایک دن مر جاتے ہیں۔ بس یہی ہماری تقدیر ہے، یہی ہمارا مقصد۔”
شاید اصل ڈائیلاگ اس سے کچھ مختلف ہو، مگر مفہوم یہی تھا۔ اور غور کیا جائے تو سیکھنے اور سمجھنے والوں کے لیے اس میں ایک گہرا پیغام ضرور موجود ہے۔
پھر اگر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف یہ سوچتے رہتے کہ “میری منزل کیا ہے؟” تو حق کا وہ عظیم معرکہ کبھی زندہ و تابندہ نہ رہتا۔ معرکۂ کربلا آج بھی اسی لیے زندہ ہے کہ وہاں مقصد ذاتی کامیابی یا اقتدار نہیں بلکہ حق، صداقت اور ظلم کے خلاف قیام تھا۔ یہی کربلا کا اصل پیغام ہے
پاکستانی قوم اور غربت۔۔
معذرت میرے الفاظ کچھ لوگوں کو اگر ناگوار گزریں۔ مگر مجھے آج یہ کہنا ہے۔۔۔۔۔
۔
کراچی میں کئ لوگوں سے ملنا ہوا۔ یہاں پر مہنگے ترین لباس اور اسٹائل پہ لوگ بہت خرچہ کرتے ہیں۔ مڈل کلاس خواتین پاچ سے آٹھ ہزار روپے کا سوٹ نارمل سمجھتی ہیں۔
ہم جیسے لوگ مشرق وسطی میں بہت سی قوموں کے ساتھ رہتے ہیں اور زیادہ تر لوگ اس کی آدھی قیمت کے کپڑے سیل میں خریدتے ہیں۔ اور بچت کرکے یہی پیسے اپنے ملکوں میں ترسیل کردیتے ہیں۔
بہت افسوس کا مقام ہے کہ ہماری قوم سادگی چھوڑ کر نمود و نمائش کے نشے میں پڑ چکی ہے۔ شادیوں اور دوسرے مواقع پہ جو بے جا اسراف کیا جاتا ہے اسے دیکھ کے مجھے لگتا ہے کہ شاید یہ ذہنی مریضوں کی تقریبات ہیں۔ میں پھر شاید واپس چلی جاؤں گی مگر یہ سوال چھوڑ کر کہ۔۔۔۔۔
کیا ہم ایک نارمل قوم ہیں؟
رضوان رضی صاحب، صحافت کے دعویدار، کیا آپ کو یہ نہیں معلوم کہ شہر کا درست نام کراچی ہے، کرانچی نہی۔
میری نظر میں تو یہ ایک غلطی نہیں، بلکہ وہ تعصب ہے جو آپ کے اعمال اور باتوں میں نمودار ہوتا ہے، اس لئے کھانوں کے ذائقے پر ہونے والی بحث میں آپ کی ٹرول جیسی حرکت کر رہے ہیں
اس طرح کی بے تہذیبی عام طور پر اس صورت میں دکھائی دیتی ہے جب انسان کے پاس اپنے موقف کے حق میں کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔ آپ کی یہ حرکتیں نہ صرف آپ کی علمی کمزوری کا آئینہ ہیں بلکہ یہ آپ کی تہذیب اور ادب سے بھی ناآشنائی ظاہر کرتی ہیں۔ اگر علم و فہم کی روشنی آپ کے اندر موجود ہوتی تو آپ اس طرح کی گفتگو سے پرہیز کرتے۔
لیکن اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرکے آپ نے نہ صرف خود کو مضحکہ خیز بنایا بلکہ اپنی ساکھ کو بھی مزید کمزور کر دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر @OfficialDGISPR
سر پہلی فرصت میں تو اس ٹھیکیدار کو سرکاری حفاظتی تحویل میں لیں کیونکہ اسکی زندگی خطرے میں ہے
سندھ سرکار کے جتنے کارنامے یہ بتا رہا ہے اسے سندھ سرکار سے جان کا خطرہ ہے
دوسرا فوری کمیشن بناکر تحقیقات کروائیں
یہ پیسہ ملک اور قوم کی امانت ہے جسے پیپلزپارٹی اندھا دھند لوٹ رہی ہے
#PPPChorhai
یہ وہ ہی شمع جونیجو ہیں جنہوں نے محض اس وجہ سے بلاک کیا کے میں پیپلزپارٹی کی
نا اہلی اور پیپلزپارٹی کے جہالوں کی بد زبانی پر تنقید کرتا ہوں
مگر آج شمع جونیجو کے لیئے جو زبان پیپلزپارٹی کے جہالے استعمال کررہے ہیں
وہ قابل مذمت ہے شمع جونیجو ہماری بہن ہیں
حیرت کی بات ہے اس بیہودگی کا نوٹس پیپلزپارٹی کے کسی رہنما نے نہی لیا
بختاور اور آصفہ بھی خاموش ہیں
@BBhuttoZardari@BakhtawarBZ@AseefaBZ@ShamaJunejo
فواد بھائی یہ بات جذباتی ہو سکتی ہے ❤️ مگر تاریخی طور پر درست نہیں کہ کراچی کے کھانے کی کوئی تاریخ نہیں۔
اصل فرق “قدامت” اور “تنوع” کا ہے
لاہور کی تاریخ قدیم اور درباری روایت سے جڑی ہے،
جبکہ کراچی کی تاریخ ہجرت، تجارت اور عالمی اثرات سے بنی ہے۔
اس لیے کراچی کا فوڈ کلچر کمزور نہیں بلکہ زیادہ متنوع اور ارتقائی ہے۔
کراچی صدیوں سے ایک بندرگاہی شہر رہا ہے۔ یہاں مختلف ادوار میں مختلف قومیں آئیں،
اور ہر ایک نے اپنے ذائقے چھوڑے:
قدیم و نوآبادیاتی دور میں کراچی میں سندھی، بلوچ اور مکرانی اثرات پہلے سے موجود تھے
سندھی بریانی، سائی بھاجی، پلہ مچھلی
مکرانی,بلوچی سجی اور دم پخت
برطانوی دور میں کراچی ایک بڑا تجارتی مرکز بنا
یہاں پارسی، گوا، میمن، کچھی، بوہری کمیونٹیز آئیں
پارسی ڈشز (دھنساك)، بوہری کھانے، میمن بریانی کی بنیاد اسی دور میں پڑی
ہجرت کے بعد اصل انقلاب آیا یہ وہ مرحلہ ہے جس نے کراچی کو دنیا کے منفرد ترین فوڈ شہروں میں شامل کیا
دہلی، لکھنؤ، حیدرآباد دکن، بمبئی، بہار سے آنے والے مہاجرین نہاری، بریانی، کباب، قورمہ، حلیم
پنجابی اور سرائیکی لوگ
چپلی کباب، تکہ، کڑاہی کلچر
پشتون کمیونٹی
نمکین گوشت، کباب، افغانی پلاؤ
ایرانی اور افغانی اثرات
ایرانی کیفے کلچر ،بن کباب + چائے خشک میوہ جات، قہوہ
چائنیز-پاکستانی فیوژن
کراچی نے ہی “چائنیز پاکستانی” کو مقبول کیا چکن منچورین وغیرہ
یعنی جو چیز لاہور میں “ایک روایت” ہے، کراچی میں وہ دس مختلف روایات کا سنگم ہے۔
کراچی کے مشہور تاریخی فوڈ ادارے جو خود ایک تاریخ ہیں
لاہور کی طرح کراچی کے بھی اپنے “لیجنڈز” ہیں:
برنس روڈ 1940s–50s سے
نہاری، کباب، مغلائی کھانے کا مرکز
زیڈ اے بھٹ 1950s
فرائی کباب، دماغہ، کٹاکٹ
بندو خان
صابری کی نہاری
جاوید کی نہاری
واحد کباب ہاؤس
دہلی کی روایت کو کراچی میں زندہ رکھا
صابری کی نہاری، اسٹوڈنٹس بریانی ،
کراچی کی اپنی شناخت بن چکے ہیں
ایرانی کیفے کیفے مدینہ، کیفے ڈی پیرس وغیرہ
→ 70–80 سال پرانی روایت
یہ کہنا کہ کراچی کی کوئی تاریخ نہیں، ان سب کو نظر انداز کرنا ہے۔
اگر لاہور ایک کتاب ہے
کراچی “پوری لائبریری” ہے
چودھری صاحب کراچی کے کھانے کی تاریخ نہیں بلکہ تاریخیں ہیں
یہ وہ واحد شہر ہے جہاں دہلی کی نہاری، لکھنؤ کے کباب، حیدرآباد کی بریانی، پشاور کا کباب اور ایران کی چائے ایک ہی گلی میں ملتی ہے۔ لاہور روایت ہے، مگر کراچی پورا برصغیر ہے پلیٹ میں۔”
#شعیب_رحمن
#Karachi
آپ کا تعلق پاکستان کے کسی بھی شہر، گاوں، دیہات سے ہو، لیکن آپ کے دل میں شہر کراچی اور اس میں بسنے والی عوام کے لئے ہمدردی اور محبت ہے تو اس ٹرینڈ #پیپلز_پارٹی_چور_ہے پر اپنا تھوڑا سا حصہ ضرور ڈالیں۔ شکریہ
اختلاف اپنی جگہ چنا عید مبارک اللہ تعالیٰ تمہیں سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے دوسری قوموں کے ساتھ ادب سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے آخر میں بس یہ کہو گا
تمھارے بچے کی شکل @AliFahimp@shine__Stine
سے بہت ملتی ہے خدارا سوشل میڈیا کے بجائے گھر پر توجہ دو ۔
کچھ غلط لگے تو
ایل سے
اس غلط فہمی کو دور کیجئے کہ الطاف حسین نے مہاجروں کو شناخت دی- الطاف حسین نے مہاجر قوم کو شناخت نہیں دی- شناخت تو ہر اس آدمی نے دی ہے جس نے مہاجروں کو مقامی نہیں سمجھا، جس نے بھیا کہا، مٹروا کہا، ہندوستانی کہا، کللو کہا، کالیا کہا- ہر محرومی ہر تعصب اور ہر گالی نے مہاجر اساس اور شناخت کو مضبوط کیا- الطاف حسین نے تو بس ظلم سے لڑنا سکھایا، ایک ہونا سکھایا- محرومی، تعصب، گالی اور بد سلوکی کے خلاف ڈٹ جانا سکھایا تھا-
آج آپ سو اختلاف کریں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ اس نے اس نظام کے منہ پر ایک طمانچہ مارا تھا، اس نے اشرافیہ کو ان کی اوقات میں رہنا سکھایا تھا- اس نے ان جاگیرداروں، وڈیروں کو یہ پیغام دیا تھا کہ جن مہاجروں کو تم منہ نہیں لگاتے، میں ان غریب مظلوم مہاجروں کو ایوانوں میں تمہارے برابر بٹھاؤں گا- جن کو تم پلٹ کے دیکھنا گوارا نہیں کرتے، کل ان ہی کے در پر تم سے ووٹ کی بھیک منگواؤں گا- جنھیں تم غیر مقامی سمجھتے ہو کل تم سے ان کا مقام منواؤں گا- میں تمہیں دکھاؤں گا کہ ان ایوانوں میں پہنچنے کے لئے پیسے کی ضرورت نہیں، امیر ہونا شرط نہیں- میں اپنی قوم کے نام پر انجان اور معمولی لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیج کر دکھاؤں گا-اس نے عام لوگوں کوں خاص کر دیا، اس نے بغیر پیسے کے انھیں الیکشن لڑوا دہے، جتوا دیے۔ اس نے ملک میں حقیقی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ اس نے اچھوت مہاجروں کو اعلی ترین ایوانوں میں بھیج دیا۔ اس نے یہ سب کیا اور یہی کافی ہے-
الطاف حسین نے مہاجر قوم کو شناخت نہیں دی- ہاں مگر مقام دیا، شعور دیا، نظریہ دیا- فکر دی، سوچ دی، اتحاد دیا۔
آج کا دن ایم کیو ایم پاکستان، حقیقی، پی ایس پی اور پی آئی بی سمیت ہر ایک گروپ کو خاص طور پر مبارک ہو- آج کے دن الطاف حسین ایم کیو ایم نہ بناتے تو نہ آپ ہوتے نہ آپ کی پارٹی ہوتی، نہ یہ عیش و آرام ہوتا، نہ یہ بنگلے و مکان۔ نہ یہ کاروبار، ہوتا نہ گاڑیاں ہوتیں، نہ یہ ٹھاٹ باٹ ہوتے، نہ کوئی مقام ہوتا اور نہ ہی آپ کی کوئی حیثیت ہوتی-
ایم کیو ایم کا یوم تاسیس مبارک ہو !
#احمد_اشفاق
پاکستان کے یوں انڈر ورلڈ ڈان بننے والی باتیں سن کر بہت فخر اور خوشی ہوتی ہے۔ دنیا کا سپر پاور انسان پوری دنیا کی منتیں کر رہا ہےکہ ہرمز سے بحری جہاز گزارنے میں مدد کرو تب ہرمز سے فقط ایک جہاز اعلان کرکے گزرا اور اُس کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔
اُس جہاز کا نام ہے "کراچی"
بھولڑو پارٹی کو جس وقت میئر شپ چاہئیے تھی تو پورا کراچی ٹھیک کرنے کا نعرہ لگایا تھا۔
اب کہتے ہیں ہمارے پاس تو ایک تہائی کراچی ہے بس۔
پھر جب کہا جائے کہ اچھا تو چلو اتنے کو ہی ٹھیک کر دو تو کہتے ہیں وفاق پیسے نہیں دیتا کہاں سے کریں؟
جب کہا جائے کہ اچھا تو پھر یوں کرو کراچی وفاق کو دے دو تو بولتے ہیں ہاں تاکہ کراچی کا سارا ریونیو سارا پیسہ ساری آمدنی وفاق لے جائے اور سندھ غریب ہو جائے۔
پھر جب کہا جائے کہ کراچی اتنا ہی کما کر دے رہا ہے کہ پورا صوبہ اس پر پل ریا ہے تو پھر وفاق سے پیسے نہ ملنے کا رونا کیوں روتے ہو تو چیختے ہیں اور بینظیر انکم سپورٹ پر پلنے والے سوروں کو چھوڑ دیتے ہیں کہ رونا پیٹنا مچاو۔۔
کراچی کا بیٹا وقاص
اتنی جوان موت تھی اتنی جوان موت
اتنی کہ ہر جوان کہ چیخیں نکل گئیں کی
وہ ایک خطیب تھا، مگر خطیب تو کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ایک مقرر تھا، لیکن مقرر بھی تو درجنوں کے حساب سے بھرے پڑے ہیں- اسکول کالجز میں بھی بات کرنے کا ہنر سکھایا جاتا ہے۔ ہر درس گاہ میں مستقبل کے خطیب و مقررین مل جائیں گے- وہ ایک عمدہ میزبان تھا، لیکن یہ بھی انفرادیت نہ ہوئی کیونکہ یہ کام بھی بے شمار لوگ کرتے ہیں- تو پھر اس کی پہچان کیا ہے؟ اس کا نام کیوں زندہ ہے؟
اس کی پہچان یہ ہے کہ اس نے اپنے ہم عصروں کی طرح نظریے کو سیڑھی سمجھ کر استعمال نہیں کیا، ذاتی مفاد کے لئے لوگوں کے جذبات کا استعمال نہیں کیا، جس نظریے نے عزت دی، وہ اس کا محافظ رہا۔ آخری سانس تک رہا- اس نے نظریے کا پرچار کیا، بلاتکار نہیں۔ اس کی شناخت، اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ "حق پرست" تھا۔ جسے حق سمجھا اس کے لئے آخری سانس تک لڑا اور جان دے دی- اسی حق پرستی نے اسے مرنے کے بعد بھی زندہ رکھا ہے-
وقاص، ایم کیو ایم کا کارکن ضرور تھا، مگر وہ اس قوم کا مجموعی اثاثہ تھا، وہ ایک ایسا باشعور نوجوان تھا جو حق و باطل میں فرق جانتا تھا، ایسے جذبے سے سرشار تھا جو اب سیاسی جماعتوں میں معدوم ہے۔ اس کے سیاسی کردار کو معیار بنا کر ہر سیاسی جماعت اپنے کارکنان کی تربیت کر سکتی ہے، وہ ایسی فکر کا مالک تھا جو اب معاشرے سے ہی اٹھ چکی، ایسا غیرت مند جوان تھا جو سر کا سودا کر گیا مگر غیرت کا نہیں- اس کی سیاسی پختگی بے مثال اور اس کی قربانی لا زوال ہے- وہ بلا شبہ "کراچی کا بیٹا" تھا جس پر ہر ماں، ہر باپ، ہر رہبر، ہر کارکن اور ہر سیاسی جماعت ناز کر سکتی ہے-
جی ہاں ! وہ اک چراغ جو سورج تھا رات کا
تاریکیوں نے مل کے کیا ہے شہید اسے
(نامعلوم)
آج وقاص کی گیارہویں برسی ہے۔
#احمد_اشفاق
اس نے انتہائی نفیس لباس پہنا، بہترین قسم کا پرفیوم لگایا اور آئینے میں خود کو آخری بار دیکھ کر مطمئن ہوا۔ اسے یقین تھا کہ جیسے ہی وہ سامنے آئے گا تو سلطنتِ شغلیہ کے سلطان، پاکستان کی آن بان، مہا رشی یوتھا کے کامل اوتار کے چہرے پر رونق دوڑ جائے گی۔
وہ بڑے انہماک اور خوشی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا، مگر اندر کیبنٹ میٹنگ جاری تھی۔
اس نے مسکرا کر سلطان کی طرف دیکھا۔ سلطان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو چمک آئی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری، مگر فوراً ہی انہیں احساس ہوا کہ وہ لوگوں کے ہجوم میں گھرے بیٹھے ہیں۔
مسکراہٹ یکلخت غائب ہوگئی۔
انہوں نے ذرا سنبھل کر، قدرے سرد لہجے میں کہا:
"مراد… دیکھ رہے ہو نا، میں اکیلا نہیں ہوں"
#احمد_اشفاق