Writer/ Producer Former: 4man Show @AajTv, BNN @Geonews_urdu, Media Azad Hai @ExpressNewsPK Producer @Filmsaaz #QuettaTheMovie, producer Current Affairs
اس چی گیویرا کی کتی پر سب سے پہلے تو اس بات پر مقدمہ ہونا چاہئے کہ اپنے منہ قیاس کئے ہوے ہے کہ یہ ایک “دانشور” اور “شاعر “ بھی ہے ۔ خود ہنڈی کی گلیوں میں کتے پکاتا رہتا ہے اور اس وقت پاکستان کے خلاف محاذ کا حصہ ہے _ اس بغیرت کو اسکی شاعری جتنا ہی سیریس لینا چاہئے ۔ اور داد انہیں الفاظ میں دینی چاہیے جو لکھی ہیں _ جزاک اللہ
Disinformation Alert 🚨
That video is AI-generated, as shown in the first screenshot.
There are also obvious visual inconsistencies. No organiser would allow massive floats to roll across and potentially damage a World Cup pitch before the tournament begins.
More importantly, if you watch closely, an additional float suddenly appears out of nowhere, a classic AI generation error that confirms the footage is not real.
باریک واردات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم کے مشیر @RanaSanaullahPK کا ایک بیان گزشتہ روز نظر سے گزرا جس میں انہوں نے کہا کہ @JAAC__Official کے مطالبات میں آئین اور الیکشن ایکٹ میں درج اس حلف نامے میں تبدیلی بھی شامل تھی جس میں پاکستان سے وفاداری اور ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، پہلے یہ بات ناقابلِ یقین لگی، لیکن تھوڑی بہت تحقیق اور دستیاب دستاویزات کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے واقعی اس حوالے سے آئینی و قانونی ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔
20 اپریل 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے آٹھ آئینی و قانونی مطالبات میں سے چھ مطالبات ایسے ہیں جن پر عمومی طور پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، تاہم مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے اور حلف نامے میں تبدیلی کے مطالبات نے سوالات کو جنم دیا اور عوامی حقوق کی تحریک کے پس منظر اور سمت کے بارے شکوک و شبہات پیدا کئے۔
آزاد جموں و کشمیر کے آئین کے مطابق صدر، وزیراعظم اور اراکینِ اسمبلی اس حلف کے پابند ہیں جس میں واضح طور پر درج ہے۔
"That I will remain loyal to the country and the cause of accession of the State of Jammu and Kashmir to Pakistan."
اسی طرح آزاد کشمیر کے الیکشن ایکٹ میں مزید وضاحت کے ساتھ درج ہے۔
"I solemnly declare that I believe in the ideology of Pakistan, the ideology of state's accession to Pakistan and the integrity and sovereignty of Pakistan."
اس کے برعکس عوامی ایکشن کمیٹی نے جس متبادل حلف کی تجویز دی، اس میں کہا گیا۔
"Mandatory oath of loyalty by candidates and elected members of the Legislative Assembly to the geographical unity and integrity of the State of Jammu and Kashmir."
بادی النظر میں دونوں حلف ناموں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو فرق واضح دکھائی دیتا ہے، یہی سوال جب ہمارے دوست صحافی @danishirshad89 نے عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور امجد علی جان کے سامنے رکھا جب یہ شقیں پہلے سے آئین اور الیکشن ایکٹ کا حصہ ہیں تو انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، تو متعدد بار اصرار کے باوجود شوکت نواز میر اور امجد علی خان کوئی کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے، یہ انٹرویوز آج بھی دانش ارشاد کی فیس بک وال پر موجود ہیں۔
سوال یہ ہے جب کسی تحریک کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئیں جو ریاست کے آئینی، قانونی اور نظریاتی ڈھانچے سے متعلق حساس نوعیت کے ہوں تو ریاستی اداروں اور ریاستی مشینری کی توجہ اس جانب جانا ایک فطری امر بن جاتا ہے، بنیادی حقوق، سستی بجلی، عوامی فلاح اور انتظامی اصلاحات کے مطالبات پر عوامی ایکشن کمیٹی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے حمایت حاصل ہورہی ہے، لیکن جب ان مطالبات کے ساتھ ایسے نکات بھی شامل ہوجائیں جو ریاستی وفاداری کے حلف اور پاکستان سے الحاق کے مؤقف جیسے حساس معاملات کو چھیڑتے ہوں تو پھر سوالات بھی اٹھتے ہیں اور تشویش بھی جنم لیتی ہے، شاید یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی حقوق کی جدوجہد اور سیاسی و نظریاتی ایجنڈے کے درمیان لکیر دھندلانے لگی ہے، ایسے میں ذمہ داری تحریک کی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ابہام دور کرے، اپنے مؤقف کی وضاحت کرے اور عوام کو یہ یقین دلائے کہ بنیادی حقوق کی جدوجہد کسی اور سمت میں نہیں جارہی ہے۔
آج خلیل الرحمان قمر صاحب نے مجھے روتے ہوئے کال کی۔کہنے لگے میں اور میری بیگم رات سے یوں رو رہے ہیں جیسے ہمارے اپنے بچے مر گئے ہوں۔ہم نے سروس کے دوران 6 برس آزادکشمیر میں گزارے۔ کوٹلی میں شہید ہونے والا احسن سلیم میرے دوست کا بیٹا تھا جو آزادکشمیر میں 6 سالہ ملازمت کے دوران بینکنگ سیکٹر میں میرا کولیگ تھا۔جب میں نے تعزیت کے لیے اپنے دوست سلیم کو فون کیا تو اس 66 سالہ بوڑھے نے رو کر مجھے کہا کہ خلیل الرحمان قمر تو نے میرا بیٹا مار دیا ہے۔میں نے بطور پاکستانی اسے کہا کہ ہاں دوست میں بھی تیرے بیٹے کا قاتل ہوں۔میں بطور پاکستانی آپ سب کشمیریوں سے معافی مانگتا ہوں۔
What is system, how flown money could brought back, Khi’s 52 % population in slums and illegal housing schemes, ABAD’s Hassan Bakhshi’s Revelations in Dunya Podcast!
https://t.co/GGMUgrdUlQ
“1947سے 1974 تک یعنی 27 سال تک مہاجرین کی 12 نشستیں موجود نہیں تھیں“
یہ دعویٰ تاریخی حقائق کے برعکس ہے مگر افسوس تاریخ سے نابلد کئی دانشوروں نے اسے ری ٹویٹ کیاجن میں مشاہد حسین سید اور حامد میر بھی شامل ہیں۔آزاد کشمیر میں پہلی بار الیکشن ایوب خان کے دور میں ہوا جب بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کروایا گیا۔بی ڈی سسٹم کے تحت “آزاد جموں کشمیر اسٹیٹ کونسل“تشکیل دی گئی جو 24 ارکان پر مشتمل تھی،12 نشستیں آزادکشمیر کے مکینوں کی اور اتنی ہی مہاجرین کی یعنی یکساں نمائندگی تھی۔ اس نظام کے تحت اکتوبر 1962میں پہلا صدارتی الیکشن ہوا جو خورشید حسن خورشید نے جیتا،اس وقت 6 صدارتی امیدواروں میں سے 4 مہاجر تھے۔بعد ازاں 1974 میں صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام میں تبدیل کیا گیا تو مہاجرین کے لئے نشستوں کا تناسب کم ہوا مگر جو کابینہ تشکیل پائی اس میں دو مہاجر وزرا شامل تھے۔جن کشمیری مہاجرین نے ہجرت کی ،اگر آپ ان کا حق تسلیم نہیں کرتے تو یہ مسئلہ کشمیر کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوگا۔ اگر راولپنڈی ،سیالکوٹ یا لاہور میں قیام پذیر مہاجرین کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں تو برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیریوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا۔
یہ شخص ایک بدنما داغ ہے تعلیم کے لیے بھی اور مزاح کے لیے بھی ۔
پھکڑ پن ، سطحی جملے بازی اور نفرت و تعصب پر مبنی ٹھٹھے مزاح نہیں ہوتے ۔
وڈا اردو دان کھلوندا نئیں کدرے
سنتا کا مرتا جا۔۔
Criminal negligence or policy of Surrender - Govt policy!!!
Unbelievably; since merger of the Tribal districts with Pakhtunkhwa - not a single police station, police post or police line facility has been built in non of the merged districts.
Even recruitment, training for tribal areas police has started recently by the current police command of Pakhtunkhwa.
To add further to this policy of negligence in the entire KP police untill last year there was not a single bulletproof vehicles
A devastating blast in Quetta has left dozens dead and injured but a Punjab “Senior Minister” chose to post week-old photos with congratulations. On such a day, basic sensitivity would have been to pause and postpone. The people-ruler disconnect is staggering
بنگلادیش کے خلاف سیریز میں بدترین ناکامی اور پھر ہوم پچز پر پی ایس ایل میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود طلعت حسین کے صاحبزادے شامیل حسین کو آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سکواڈ میں شامل کر لیا گیا جبکہ پی ایس ایل میں متاثر کن اور شامیل سے بہت بہتر کارکردگی دکھانے والے ہونہار سمیر منہاس کو جگہ نہیں ملی۔بھارت میں ٹنڈولکر کا بیٹا ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکتا لیکن پاکستان میں ایک صحافی کے بیٹے کو ٹیم سے نکالنے کی کسی میں جرات نہیں کیوں کہ صحافی کسی کا منظور نظر ہے۔پہلے صرف حکومت گیٹ نمبر 4 بناتا تھا لگتا ہے اب ٹیم کی سلیکشن بھی وہیں سے ہوتی ہے۔