یوتھیو ! میں ہر طرح کے حالات کا موازنہ ان خاموش شاموں سے کرتا ہوں جب زمان پارک کے باہر ایک رجسٹر رکھا ہوتا تھا۔ آنے جانے والوں کا ایک سپاہی اندراج کرتا تھا۔ لوگ پارٹی چھوڑ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر سب کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔ جیسے سانپ اپنے شکار کے گرد خود کو لپیٹ کر کس لے۔ جیسے کوئی کمزور جانور مگرمچھ کے جبڑوں میں پھنس جائے۔
اگر آپ کو پڑھنا آتے ہوں تو یہ لائکس ، شئیرز اور ریچ جھوٹ نہیں بولتے۔ یہ رحجان بتاتے ہیں۔ سوشل میڈیا یوزرز کا سیمپل سائز ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے زیادہ ہے۔ یعنی ممکن ہے ووٹنگ ٹرن آوٹ اکثریتی آبادی کی رائے کا عکاس نہ ہو۔ ممکن ہے۔ لیکن س��شل میڈیا کے اعداد و شمار اکثریتی رائے کی عکاسی نہ کریں ناممکن ہے۔
چند لوگ بچے تھے اور بھی ڈرے ڈرے سہمے سہمے۔ اب ہزاروں لوگ ہیں جو دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر۔ بہت سارے نقصانات اٹھائے ہوئے۔ نفرت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے اور آگ اگلتے ہوئے۔ اگر ہم اس خاموشی سے نکل آئے ہیں تو اب تو ہم طاقتور ہی بہت ہوچکے۔ دشمن کے چہرے پر ناکامیاں ہی بہت ملی جاچکیں ، جگہ جگہ پھنس چکے۔
ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں اور دشمن غلط سمت میں۔ ہماری جو کمزوریاں تھیں وہ ختم ہوتی جارہی ہیں اور دوسری طرف مشکلات بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ وہ واپس نہیں مڑ رہے اور ہمارے قدم رک نہیں رہے۔ انکے آگے تباہی ہے اور ہمارے آگے کامیابی۔ ڈٹے رہے ، پر امید رہو اور چڑھ کے رہو۔ یہ جیت نہیں سکتے ہم ہار نہیں سکتے۔
@SohailAfridiISF ملٹری اسٹیبلشمنٹ یہی چاہتی ہے کہ تحریک انصاف موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے ساتھ ہی بیٹھ کر سیاست سیاست، مذاکرات مذاکرات کھیلے۔
اس سے تحریک انصاف کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ٹرک کی بتی ہے۔ آپ پیچھے لگنا چاہتے ہیں تو آپ کی خوشی
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہ��ری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ ��ائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن �� سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
کیک بھجوادیا گیا
ہسپتال منتقل کیا جانے لگا
برف پگھلنے لگی
گورنر راج کا فیصلہ ہوگیا
اور اب “ مذاکرات کامیاب ہونے لگے “ جیسی خبریں دینے والے سارے صحافی کرنل کی جھولی میں پلتے اور کرنل کی چابی پر چلتے ہیں
ایک ورلڈ ک��۔
ایک یونیورسٹی۔
تین کینسر ہسپتال۔
تیس سالہ سیاسی جدوجہد اور خاندانی قربانیاں۔
چار گولیاں۔
38 ماہ سے جیل میں۔
ایک آنکھ ضائع
کوئی جرم نہیں۔
ابھی تک کھڑا ہے۔ کیا آدمی ہے.
کتنا شرم کا مقام ہے اس ریاست کے لیے
خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کو پیغام ہے، گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں، جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ڈرپوک ہوتا ہے، اپنے حق اور حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا ہے، پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے، ان شاء اللہ بہت جلد ظلم کا دور ختم ہوگا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
کوئی بھی نظام اپنے عوام سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتا۔ دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کے عوام تشدد کی دھمکیوں کے باوجود انصاف کے لیے اپنی فریاد پیش کرنے کے لیے متحد ہوتے ہیں۔ ان شاء اللہ، پاکستان کا مستقبل اس کے عوام طے کریں گے، نہ کہ وہ مجرم جو خوف کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔ قاسم خان
#pakistan @Kasim_Khan_1999
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
عمران خان کے کیس کو سپریم کورٹ پہنچتے پہنچتے لگے 6 مہینے، جبکہ اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا کیس وفاقی آئینی عدالت پہنچ گیا 3 ہفتوں میں، اسے کہتے ہیں دو پاکستان۔ وفاقی آئینی عدالت نے پہلی ہی سماعت میں سپریم کورٹ سے عمران خان کیس کا ریکارڈ منگوا کر سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی، اسے کہتے ہیں وفاقی آئینی عدالت بنانے کا مقصد۔۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔۔ارشاد بھٹی
#pakistan @IrshadBhatti336
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔